1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

غیر ازدواجی تعلقات، اب بھارت میں جرم نہیں

27 ستمبر 2018

بھارتی سپریم کورٹ نے آج جمعرات کے روز اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ غیر ازدواجی تعلقات کوئی جرم نہیں۔ عدالت نے اس حوالے سے نو آبادیاتی دور کے ایک قانون کو خواتین کے خلاف امتیازی قرار دے دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/35a0G
Indien Oberster Gerichtshof in Neu-Delhi
تصویر: Imago/Hindustan Times/S. Mehta

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک صدی سے زائد پرانے قانون کے تحت اگر کوئی مرد کسی شادی شدہ عورت کے اس کے شوہر کی اجازت کے بغیر ہم بستری کرتا ہے تو وہ ’بدکاری‘ کا مرتکب ہوتا ہے جس کی سزا پانچ برس جیل مقرر تھی۔

ایک پٹیشنر نے اس قانون کو ظالمانہ اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے درخواست دائر کی تھی کہ اس قانون کا خاتمہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بینچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں لکھا، ’’غیر ازدواجی تعلقات کو مجرمانہ نقطہ نظر سے دیکھنا رجعت پسندانہ قدم ہے۔‘‘

متروک شدہ قانون کے مطابق خواتین نہ تو اس حوالے سے شکایت درج کرا سکتی ہیں اور نہ ہی انہیں بدکاری کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے یہ قانون صرف مردوں سے ہی متعلق تھا۔

عدالت نے کہا کہ یہ قانون خواتین کو وقار اور ذاتی انتخاب کے حق سے محروم کرتے ہوئے ’’صرف شوہر کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ خواتین کو بطور منقولہ مال کے طور پر استعمال کر سکے۔‘‘ سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندرا چڈ نے کہا، ’’یہ ہر خاتون کو حاصل جنسی خود مختاری کو نظر انداز کرتا ہے اور شادی کے بندھن میں عورت کو مختاری سے محروم کرتا ہے۔۔۔ وہ صرف اپنے شوہر  کی مرضی کے تابع ہوتی ہے۔‘‘

رواں ماہ کے دوران یہ دوسرا ایسا موقع ہے جب بھارتی سپریم کورٹ نے برطانوی نو آبادیاتی دور کے دو ایسے قوانین کا خاتمہ کیا ہے جو بھارت کی سوا ارب شہریوں کی جنسی زندگی کے معاملات سے متعلق تھے۔ رواں ماہ کے دوران سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی سے متعلق 1861ء میں بنائے گئے قانون کو ختم کر دیا تھا۔

Indien Delhi Oberster Gerichtshof Urteil Homosexualität legalisiert
تصویر: UNI

شادی کے بغیر ازدواجی تعلقات کے حوالے سے حکومتی وکلاء کا استدلال تھا کہ اسے ایک جرم ہی رہنے دیا جائے کیونکہ اس سے شادی کے ادارے کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور یہ خاندان اور بچوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ غیر ازدواجی تعلقات بالغ لوگوں کے درمیان ذاتی معاملہ ہے۔

بھارت میں کیا اب ہم جنس پرستوں کی زندگی آسان ہو گی؟

ا ب ا / ع ا (اے ایف پی)