1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتیوکرین

یوکرین کی جرمنی سے ٹاؤرس میزائلوں کی فراہمی کی درخواست

27 مئی 2023

یوکرین نے روس کے خلاف جنگ میں جرمنی سے درخواست کر دی ہے کہ کییف حکومت کو فضا سے زمین پر مار کرنے والے ٹاؤرس طرز کے میزائل فراہم کیے جائیں۔ یہ میزائل پانچ سو کلرمیٹر سے بھی زائد فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/4RtB8
Berlin | Selenskyj und Olaf Scholz
جرمن چانسلر شولس، دائیں، یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ، فائل فوٹوتصویر: Matthias Schrader/AP Photo/picture alliance

برلن سے ہفتہ ستائیس مئی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق وفاقی جرمنی کی وزارت دفاع نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ کییف حکومت کی طرف سے جرمنی کو ٹاؤرس (Taurus) طرز کے ان میزائلوں کی فراہمی کی درخواست ابھی حال ہی میں کی گئی۔

یوکرینی جنگ میں دس ہزار روسی قیدی مارے جا چکے ہیں، واگنر

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتے کے روز اس حوالے سے یوکرینی درخواست کی تصدیق کرتے ہوئے مزید کوئی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کا سب سے بڑا تنازعہ

گزشتہ برس فروری میں روس کی طرف سے یوکرین میں فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی روسی یوکرینی جنگ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کا آج تک کا سب سے بڑا اور خونریز تنازعہ بن چکی ہے۔

G7 Gipfel in Japan, Hiroshima | Gemeinsame Tagung mit Wolodymyr Selenskyj
جاپان میں جی سیون کی سمٹ، دائیں سے بائیں: یورپی یونین کے کمیشن کی صدر فان ڈئر لاین، یوکرینی صدر زیلنسکی، کینیڈین وزیر اعظم ٹروڈو اور جرمن چانسلر شولستصویر: Stefan Rousseau-WPA Pool/Getty Images

روس اب تک یوکرین کے کئی علاقوں پر قبضہ کر کے ان میں سے بہت سے خطوں کو اپنے ریاستی علاقے میں ضم کرنے کا فیصلہ بھی کر چکا ہے۔ دوسری طرف کییف حکومت چاہتی ہے کہ وہ روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں کو دوبارہ آزاد کرا لے۔

روسی سرزمین پر حملوں سے امریکہ نے خود کو الگ کر لیا

اسی لیے یوکرینی افواج ایک بڑی جوابی عسکری کارروائی کی تیاریوں میں ہیں۔ ماہرین کے مطابق کییف کی برلن حکومت سے ٹاؤرس میزائلوں کی ترسیل کی درخواست انہی تیاریوں کا حصہ ہے۔

ٹاؤرس میزائل ہی کیوں؟

یوکرینی حکومت نے جرمنی سے جن ٹاؤرس میزائلوں کی فراہمی کی درخواست کی ہے، وہ جرمنی اور سویڈن کا ایک مشترکہ عسکری پیداواری ادارہ ٹاؤرس سسٹمز بناتا ہے۔ ان میزائلوں کے تیار کنندہ یورپی کنسورشیم کا نام MBDA ہے اور یہ میزائل تقریباﹰ اسی طرح کی خصوصیات کے حامل ہیں، جیسے برطانیہ کے تیار کردہ Storm Shadow نامی میزائل۔

Großbritannien und Polen kündigen ein wegweisendes Exportgeschäft für Raketen im Wert von 2,3 Milliarden US-Dollar an
ٹاؤرس میزائل تقریباﹰ اسی طرح کی عسکری خصوصیات کے حامل ہیں، جیسے برطانیہ کے تیار کردہ سٹورم شیڈو نامی میزائلتصویر: British Ministry of Defence/dpa/picture alliance

یوکرین کی جنگ: جمہوریت کا امتحان

فضا سے زمین پر مار کرنے والے یہ میزائل اپنے اہداف کو 310 میل یا 500 کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔

کییف حکومت یہ میزائل اس لیے حاصل کرنا چاہتی ہے کہ یوں یوکرینی افواج روس کے زیر قبضہ یوکرینی سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ روس کے اندر تک مختلف اہداف کو بھی نشانہ بنا سکیں گی۔

کییف حکومت کے اس تازہ عسکری مطالبے کے برعکس امریکہ اور جرمنی سمیت دیگر مغربی ممالک یوکرین کو اب تک ایسے ہتھیار مہیا کرنے کے معاملے میں انتہائی محتاط رہے ہیں، جو ایک بڑی ایٹمی طاقت کے طور پر روس کے اندر تک مار کر سکیں اور یوں ممکنہ طور پر یہ جنگی تنازعہ مزید پھیل جائے۔

'پوٹن کے نظام میں کوئی کمزوری نہیں نظر آتی ہے'، جرمن خفیہ ایجنسی

یوکرین F16 جنگی طیاروں سے روس پر حملہ کرنا چاہتا ہے؟

یوکرین کے لیے فوجی امداد، جرمنی دوسرے نمبر پر

یوکرین کی روس کے خلاف جنگ میں کییف کو فوجی امداد اور جنگی ساز و سامان مہیا کرنے کے حوالے سے امریکہ سب سے آگے ہے۔ لیکن یہ بات بھی کم اہم نہیں کہ امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر جرمنی کا نام آتا ہے، حالانکہ ماضی میں جرمنی کسی بھی مسلح تنازعے کے فریقین میں سے کسی کو بھی ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے ہمیشہ ہچکچاتا ہی رہا تھا۔

کئی ماہ کی جنگ کے بعد روس کا باخموت پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

جرمنی اس وقت یوکرین کو جس نئی فوجی امداد کی فراہمی کی تیاریاں کر رہا ہے، وہ برلن کی طرف سے کییف کے لیے اب تک کا سب سے بڑا عسکری امدادی پیکج ہو گا۔

اس پیکج کے تحت جرمنی یوکرین کو متعدد میزائل شکن دفاعی نظام، 30 اضافی لیوپارڈ ون ٹینک، 100 سے زائد بکتر بند جنگی گاڑیاں اور 200 سے زائد ایسے ڈرون مہیا کرے گا جو فوجی نگرانی کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے۔

جن دو معاملات میں جرمنی نے یوکرین کی فوجی مدد میں اب تک انتہائی زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے، وہ کییف کو جنگی طیاروں اور فضا سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کی ترسیل ہے۔

م م / ع س (اے ایف پی، روئٹرز)

یوکرینی فوج نے روسی فوج کو کچھ محاذوں پر پسپا کر دیا