1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یوکرینی صدر زیلنسکی نے وزیر دفاع ریزنیکوف کو برطرف کر دیا

4 ستمبر 2023

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کے روز اولیکسی ریزنیکوف کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ’نئے نقطہ نظر‘ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے رستم عمیروف کو نیا وزیر دفاع نامزد کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/4VuTa
اولیکسی ریزینکوف روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کرنے سے قبل سے ہی وزیر دفاع  تھے
اولیکسی ریزینکوف روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کرنے سے قبل سے ہی وزیر دفاع تھےتصویر: JOHANNA GERON/REUTERS

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کی رات کو قوم کے نام اپنے معمول کے خطاب کے دوران وزیر دفاع اولیکسی ریزنیکوف کوان کے عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کیا۔ وہ فروری 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کرنے سے قبل سے ہی اس عہدے پر فائز تھے۔

کچھ عرصے سے اس بات کا اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ زیلنسکی ملکی وزیر دفاع کو برطرف کر سکتے ہیں۔ انہوں نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ وزارت دفاع میں اب ’’نئے نقطہ نظر‘‘ کی ضرور ت ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ وزارت دفاع کو مجموعی طور پر فوج اور معاشرے دونوں کے ساتھ بات چیت کے نئے طریقوں اور دیگر فارمیٹس کی ضرورت ہے۔‘‘

اس اعلان سے چند گھنٹے قبل ہی یوکرینی فوج نے جنوبی اوڈیسا کے خطے میں ایک بندرگاہ کو نشانہ بنانے والے روسی ڈرونز پر جوابی حملے کیے تھے۔

یوکرینی صدر کے لیے جرمنی کا ’شارلیمان پرائز‘

صدر زیلنسکی کا کہنا تھا، ’’اولیکسی ریزنیکوف نے 550 دنوں سے زیادہ عرصے سے جاری مکمل جنگ کے دوران قیادت کی۔‘‘

رستم عمیروف گزشتہ برس پوپ فرانسس کے یوکرین دورے کے دوران
رستم عمیروف گزشتہ برس پوپ فرانسس کے یوکرین دورے کے دورانتصویر: Vatican Media/AFP

رستم عمیروف کون ہیں؟

رستم عمیروف یوکرین میں سرکاری پراپرٹی فنڈ چلاتے ہیں۔ صدر زیلنسکی نے انہیں وزیر دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔

کریمیا سے تعلق رکھنے والے اور تاتاری کمیونٹی کے رکن عمیروف بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی زیلنسکی کی کوششوں کے ایک کلیدی رکن بھی رپے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کابینہ میں رد و بدل سے یوکرین کی جنگی حکمت عملی میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے کیونکہ یوکرین کی مسلح افواج کے کمانڈر جنرل ویلری زلوزنی جنگی مہم کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ریزنیکوف کی برطرفی زیلنسکی کی انتظامیہ میں بدعنوانی کے خلاف وسیع تر مہم کے درمیان ہوئی ہے، جس کا مقصد ریاست میں بدعنوانی کو ختم کرنا ہے، جسے یورپی یونین جیسے مغربی اداروں میں شمولیت کی یوکرین کی خواہش پر عمل درآمد کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

یوکرین کی نیٹو میں شمولیت پر فیصلے کے لیے یہ وقت مناسب نہیں، جرمنی

خیال رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن انڈکس کے مطابق بدعنوانی کے معاملے میں یوکرین 180 ملکوں کی فہرست میں  160 ویں نمبر پر ہے حالانکہ حالیہ برسوں میں بعض اقدامات کی وجہ سے اس کی اس پوزیشن میں نمایاں بہتری بھی ہوئی ہے۔ گو کہ ریزنیکوف پر ذاتی طورپر بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں ہے لیکن وزارت دفاع میں بدعنوانی کے کئی اسکینڈل سامنے آئے ہیں۔

یوکرین کی میڈیا کا کہنا ہے کہ ریزینکوف لندن میں کییف کے نئے سفیر بنائے جاسکتے ہیں
یوکرین کی میڈیا کا کہنا ہے کہ ریزینکوف لندن میں کییف کے نئے سفیر بنائے جاسکتے ہیںتصویر: Heiko Becker/REUTERS

ریزنیکوف اب کیا کریں گے؟

یوکرین کے میڈیا کا کہنا ہے کہ ریزنیکوف لندن میں کییف کے نئے سفیر بنائے جا سکتے ہیں، جہاں انہوں نے سینیئر سیاست دانوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کر لیے ہیں۔

ستاون سالہ ریزنیکوف یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہی معروف شخصیت بن گئے تھے۔ انہوں نے بین الاقوامی طور پر اپنی شناخت بنا لی ہے۔ وہ یوکرین کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ ہونے والی میٹنگوں میں مستقل شرکت کرتے رہے ہیں اور اضافی فوجی ساز و سامان کے حصول میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

جدہ میں یوکرین مذاکرات: مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق

تاہم کچھ عرصے سے ان کی برطرفی کی توقع کی جا رہی تھی۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی دوسرے عہدے کے سلسلے میں یوکرینی صدر کے ساتھ مشورے کر رہے ہیں۔

یوکرین کے مقامی میڈیا کے مطابق سابق وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اگر زیلنسکی انہیں اپنے ساتھ کسی بھی دوسرے پروجیکٹ پر کام کرنے کی پیش کش کریں گے، تو وہ اسے بخوشی قبول کریں گے۔

ج ا / ص ز (اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز)