1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستیوکرین

یوکرینی جنگ میں شدت لانا پوٹن کی بقا کا مسئلہ

22 ستمبر 2022

روس کا جزوی طور پر فوج کو متحرک کرنا اور مشرقی یوکرین میں عجلت میں طے کردہ ’ریفرنڈم‘ کمزوری کی علامت ہے۔ تبصرہ نگار میودراگ زورچ کے مطابق پوٹن کا اندازہ غلط تھا اور اب اس کی قیمت روسی اپنی جانیں گنوا کر ادا کر رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/4HD2J
Russland Wladimir Putin hält Rede an die Nation
صدر ولادیمیر پوٹنتصویر: Russian Presidential Press Service/AP Photo/picture alliance

اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ اگر ولادیمیر پوٹن یوکرین کے خلاف اپنی شروع کردہ جنگ ہارتے ہیں تو اس کی قیمت انہیں اپنے اقتدار کے خاتمے کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی یا پھر ہو سکتا ہے کہ قیمت اس سے بھی زیادہ ہو۔ اچھی ہو یا بری، ایسی ہی صورتحال کا سامنا حکومت اور ڈوما میں موجود سیاست دانوں کو کرنا ہو گا، جن کی قسمت کریملن کے سربراہ (صدر پوٹن) سے جڑی ہوئی ہے۔

وہ اب گھبرا رہے ہیں۔ یوکرینیوں کی طرف سے اپنے ملک کے کئی علاقوں پر دوبارہ قبضے اور کامیابی کی وجہ سے روس کو درحقیقت فوجی شکست کا خطرہ ہے اور ماسکو میں کسی کو اس کی توقع نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صدر پوٹن نے اب فوج کو جزوی طور پر متحرک کرنے کا حکم دیا ہے اور  وہ محاذ پر مزید تین لاکھ ریزرو فوجی بھیجنا چاہتے ہیں۔

ان کا مقصد یوکرینیوں کو پیش قدمی سے روکنا ہے۔ وہ پیش قدمی، جو روسی فوج کی ناکامیوں پر مہر ثبت کر رہی ہے۔

کمزور اور تنہا؟

ابھی چند روز قبل ازبکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقع پر صدر پوٹن نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کو یوکرین میں کوئی جلدی نہیں ہے۔ لیکن حقیقت میں دنیا نے ایک کمزور اور تنہا پوٹن کو دیکھا۔

ٹیلی ویژن کیمروں نے ایک بوڑھا آدمی دکھایا، جو دوسرے سربراہان مملکت و حکومت کا انتظار کرتا رہا۔ شائستگی سے صوفے پر بیٹھے پوٹن نے دوسرے رہنماؤں کی باتیں سنیں۔ ترکی، بھارت یہاں تک کہ چین نے بھی عوامی سطح پر روسی جنگ کی مخالفت اور یوکرین کی علاقائی سالمیت کی حمایت کا اشارہ دیا۔

سچی بات تو یہ ہے کہ یوکرین جنگ عالمی معیشت پر ایک بوجھ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ اُنہی سیاست دانوں کی طاقت کو محدود بنا رہی ہے، جن سے پوٹن کو اُمید تھی کہ وہ ان کی جارحانہ جنگ کی حمایت کریں گے۔

کریملن میں پالیسی کی تبدیلی

کریملن کے نقطہ نظر سے موجودہ حالت جاری نہیں رہ سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ صدر پوٹن تیزی سے تبدیلی لائے ہیں۔ بالآخر فوج کو جزوی متحرک کرنا مشرقی یوکرین میں فوجی کمزوری کا اعتراف ہے۔ روسی فیڈریشن میں شامل ہونے کے بارے میں مفتوحہ علاقوں میں چند دنوں کے اندر اندر ''ریفرنڈم‘‘ کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ یوکرینی روس میں شامل ہونا نہیں چاہتے۔ یہ بندوق کی نوک پر ووٹنگ ہے یعنی کھنڈرات کے درمیان ریفرنڈم، دنیا میں کوئی بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لے گا۔

صدر پوٹن لوٹ مار کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں، وہ فتح شدہ علاقے روسی فیڈریشن میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد پوٹن وطن کے دفاع کے نام پر تمام فوجی ذرائع کا سہارا لینے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ جیسے شروع میں یوکرین کا ''خصوصی فوجی آپریشن‘‘ وقت اور جگہ کے لحاظ سے محدود تھا اور اس کا زیادہ تر روسیوں کی روزمرہ کی زندگی سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن اب پوٹن کی تقریر میں کہا گیا ہے کہ ''روسی سرزمین‘‘ کا ہر طرح سے دفاع کیا جائے گا، یعنی دوسرے لفظوں میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

'خصوصی آپریشن‘  کا اختتام

آنے والے دنوں میں ''خصوصی فوجی آپریشن‘‘ کی اصطلاح کے اختتام کی پیشین گوئی کرنے کے لیے آپ کو کوئی پیغمبر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کریملن کا پروپیگنڈا اب اس نعرے کو دفن کر دے گا۔ اس کے بجائے مزید خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے مضحکہ خیز اور پیچیدہ جھوٹ گھڑے جائیں گے۔ ریاست کے زیر کنٹرول ٹی وی براڈکاسٹر انہیں روسیوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے لیے استعمال کریں گے۔

وہ پہلے ہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ روس یوکرین کے خلاف جنگ نہیں کر رہا بلکہ روس یوکرین میں موجود امریکہ اور برطانیہ کے خلاف اپنا دفاع کر رہا ہے۔ لیکن جو اس پر یقین کرنا چاہتا ہے، اسے کس نے روک رکھا ہے۔

پوٹن کے آگ سے اس کھلواڑ کو عالمی رہنما اس وقت نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں سنجیدگی سے لیں گے۔ ماسکو کے حوالے سے ان کی پالیسی میں شاید ہی کوئی تبدیلی آئے۔ کییف کو ہتھیار ملتے رہیں گے، اس کی فوج لڑتی رہے گی۔

لیکن تین لاکھ روسی ریزرو فوجیوں کا کیا بنے گا؟ یہ کبھی جنگ میں نہیں گئے اور یہ کمزور بھی ہیں۔ یہ گھریلو لوگ ہیں، جنہیں اپنی روزمرہ کی زندگی سے ان کی مرضی کے خلاف اس جنگ میں دھکیل کر لایا گیا ہے۔ یہ یوکرین میں مجرموں اور چیچن کرایے کے فوجیوں کے ساتھ مل کر روس کا دفاع کرنے والے ہیں لیکن لگتا نہیں کہ ایسا ہو گا۔

یہ خود دیکھ لیں گے کہ یوکرین کے شہری روس سے تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔ دسیوں ہزار آدمی مارے جائیں گے تاکہ پوٹن اور ان کے ساتھی اقتدار میں رہ سکیں اور انہیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیے گئے جرائم کا جواز پیش کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ یہ کریملن کے سربراہ کے حالیہ بُرے فیصلے کا اصل المیہ ہے۔

یہ آرٹیکل جرمن زبان میں شائع کیا گیا ہے۔

ترجمہ، امتیاز احمد / ر ب

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Eröffnung des neuen Parlaments 1. Juni 2013

شیخ رشید کی گرفتاری، ’سافٹ ویئر‘ اپ ڈیٹ کی کوشش؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں