یونان: مہاجر  بچوں کی پولیس کی نگرانی میں اسکول روانگی | مہاجرین کا بحران | DW | 11.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یونان: مہاجر  بچوں کی پولیس کی نگرانی میں اسکول روانگی

یونان کے ایک شمالی گاؤں میں مہاجر بچوں کی تعلیم کے ایک سرکاری پروگرام کے اجراء پر مقامی والدین کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے باعث  پناہ گزین بچوں کو پولیس کی نگرانی میں اسکول جانا پڑا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر 10 اکتوبر کو قریب ایک سو پولیس اہلکاروں نے یونان کے شمالی شہر تھیسالونیکی سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع  ’پروفیٹیس‘ کے دیہات میں  چالیس مہاجر بچوں کے اسکول جانے کے لیے راستہ بنایا۔ ان بچوں میں افغانستان اور شام سے تعلق رکھنے والے بچے شامل تھے۔

 اے ایف پی کے رپورٹر کے مطابق یہ بچے بہت گھبرائے ہوئےنظر آ رہے تھے۔

 اس سے قبل مقامی افراد کی تقریباﹰ اتنی ہی تعداد نے اسکول کے گیٹ کو تالا لگا دیا تھا۔ اور یونانی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ ایک یونانی بچے کے والدین نے چیخ کر کہا،’’ اگر ہمارے بچوں کا ریپ کیا گیا تو اس کی ذمّہ داری کون لے گا۔‘‘ یونانی بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ اُ نہیں بتایا گیا ہے کہ پناہ گزین بچوں کی ویکسینیشن کرائی گئی ہے تاہم اُنہیں اس بات پر یقین نہیں۔

 یونان بھر میں بیس اسکولوں میں جنگ زدہ ممالک سے ہجرت کر کے آنے والے  پندرہ سو مہاجر بچوں نے سرکاری پروگرام کے تحت پیر کے روز پہلی بار کلاسوں میں شرکت کی۔ پولیس حکام کے مطابق دیگر ایسے اسکولوں میں، جہاں مہاجر بچوں کے تعلیمی منصوبے کا اجراء کیا گیا، ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

 یونان میں وزارتِ تعلیم کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اسکولوں میں والدین اور بچوں نے مہاجر طلباء و طالبات کا پر جوش خیر مقدم کیا۔ تھیسالونیکی اور اس کے مضافات کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں پناہ گزین بچوں کے لیے دوپہر کو کلاسز کا بندو بست کیا گیا ہے۔

 یونانی حکام نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی بچہ بغیر ویکسینیشن کروائے تعلیمی پروگرام میں حصہ نہیں لے سکتا۔ یونان کی وزارتِ تعلیم کے مطابق رواں ماہ کے آخر تک دس ہزار سے زائد بچے اس تعلیمی پروگرام کا حصہ بن جائیں گے۔

یونانی حکومت نے ابتداء میں کہا تھا کہ ستمبر کے آخر سے لگ بھگ اٹھارہ سو مہاجر بچوں کو اسکولوں میں رجسٹر کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں بلقان ریاستوں کی جانب سے سر‌حدیں مکمل طور پر بند کیے جانے کے بعد ساٹھ ہزار کے قریب پناہ گزین اور تارکین وطن یونان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سرحدیں بند ہونے سے قبل یہ مہاجرین وسطی اور شمالی یورپ جانے کی کوشش میں تھے۔

DW.COM

اشتہار