یونانی وزیر اعظم قومی حکومت کے قیام کے لیے سرگرم | حالات حاضرہ | DW | 05.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یونانی وزیر اعظم قومی حکومت کے قیام کے لیے سرگرم

یونانی وزیر اعظم ملکی پارلیمان سے بمشکل اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اب بحرانی مالیاتی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی حکومت کے قیام کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔

default

وزیر اعظم جارج پاپاندریو کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا سلسلہ فی الفور شروع کر دیا جائے گا۔ یونانی وزیر اعظم نے ہفتے کی صبح ملکی صدر کارلوس پاپولیاس سے ایوان صدر میں ایک گھنٹہ طویل ملاقات کی۔ بعد میں اخباری نمائندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ قومی مفاہمتی حکومت کے قیام کے لیے اپنے ارادوں کے حوالے سے صدر سے تبادلہء خیال کرنے آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی حکومت کا اہم ہدف 130 ارب یورو کے بیل آؤٹ پیکج کی شرائط پر عملدرآمد کو ممکن بنانا ہوگا، جس کے تحت یونان کی بحران زدہ مالی حالت کے لیے ناگزیر سہارا مل سکے گا۔ پاپاندریو نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس بیل آؤٹ پیکج کی شرائط پر عملدرآمد کا معاملہ یونان کے یورو زون میں رہنے کے سوال سے جُڑا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ جب یونانی وزیر اعظم نے یورو زون سے مالی سہارا حاصل کرنے کے بعد بیل آؤٹ پیکج پر عوامی ریفرنڈم کی بات کی تو فرانس نے واضح کر دیا تھا کہ یونان کو یورو زون سے نکالا جاسکتا ہے۔ یورپی رہنماؤں نے وزیر اعظم پاپاندریو کے اس اعلان کو وعدہ خلافی سے تعبیر کیا تھا۔

بین الاقوامی اور اندرونی دباؤ کے بعد پاپاندریو ریفرنڈم کا فیصلہ واپس لے چکے ہیں مگر انہیں اب بھی داخلی سطح پر عوام اور اپوزیشن کی جانب سے جبکہ بین الاقوامی سطح پر یورو زون کے دباؤ کا سامنا ہے۔ 2009ء میں ملک گیر سطح پر انتخابی کامیابیاں سمیٹنے والے پاپاندریو نے گزشتہ شب پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد مستعفی ہوجانے کاعندیہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزارت عظمیٰ کی کرسی میں مزید دلچسپی نہیں رکھتے۔

یونانی اپوزیشن ملک میں فوری طور پر نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق قبل از وقت انتخابات یونان کے ریاستی اخراجات اور سابقہ قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے ملنے والی امداد کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں یورو کرنسی والے ممالک شدید دباؤ میں آجائیں گے۔

یونان کی بحران زدہ مالی صورتحال کا اندازہ ان کے وزیر خزانہ Evangelos Venizelos کے بیان سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے 15 دسمبر تک ایتھنز حکومت کے لیے آٹھ ارب یورو کی امداد کو ناگزیر قرار دیا تھا۔

یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے حامل ملک جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کے بقول یورپ کو قرض کے موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے ایک دہائی درکار ہے۔ جرمنی کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر مالیاتی لین دین پر محصول عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے تاکہ حکومتیں اس رقم کو بحرانی صورتحال میں کام میں لا سکیں۔ فرانس نے بھی اس تجویز سے اصولی طور پر اتفاق ظاہر کیا ہے مگر فی الحال اس معاملے پر بین الاقوامی مفاہمت نہیں۔ امریکہ، برطانیہ، چین اور بھارت جیسے ممالک کی مخالفت اس تجویز کی راہ میں حائل ہے اور اُن کی رضامندی کے بغیر اس تجویز کے مؤثر ہونے کے امکانات کم ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM