یورپ کے مالی مسائل اور افغانستان سے متعلق ترجیحات | حالات حاضرہ | DW | 05.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یورپ کے مالی مسائل اور افغانستان سے متعلق ترجیحات

مغربی دنیا پیر پانچ دسمبر کو بون میں ہونے والی افغانستان کانفرنس کواپنے ان ارادوں کے اظہار کے لیے استعمال کرنا چاپتی ہے کہ افغانستان کی طویل مدت کے لیے مدد کا سلسلہ جاری رہے گا۔

default

افغانستان میں نیٹو اور ISAF دستوں کے لیے اپنے فوجی مہیا کرنے والے اتحادی ملک اب افغانستان سے اپنے فوجی انخلاء کی تیاریاں شروع کر چکے ہیں۔ یہ انخلاء سن 2014 میں مکمل ہو جائے گا۔ تاہم جرمن شہر بون میں بین الاقوامی افغانستان میں شریک ملک اور خصوصاً یورپی ریاستیں اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ انہیں اپنے ہاں بحرانی نوعیت کے مالی مسائل کا سامنا بھی ہے۔اس کے باوجود یورپی ممالک کابل حکومت اور عالمی برادری کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے داخلی مالی مسائل اور افغانستان سے مجوزہ فوجی انخلاء کے باوجود آئندہ بھی کابل کی بھرپور مدد جاری رکھیں گے۔

کابل کے اتحادیوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے اس ملک میں ایک ایسا مضبوط سیاسی نظام چھوڑیں جو اس بات کو یقینی بنا سکے کہ نیٹو اور آئی سیف دستوں کی واپسی کے بعد افغانستان کی صورت حال ایک بار پھر ویسی نہیں ہو جائے گی جیسی سوویت دستوں کی واپسی کے بعد ہو گئی تھی۔

Delegierte auf der Afghanistan Konferenz

بون میں آج کی افغانستان کانفرنس کے آغاز پر اپنے افتتاحی خطاب میں جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے صدر حامد کرزئی کو یقین دلایا کہ عالمی برادری افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ ویسٹر ویلے کے بقول سن 2014 میں غیر ملکی فوجی دستوں کی واپسی کے بعد بھی جرمنی کم از کم ایک عشرے یعنی سن 2024 تک افغانستان کی بھرپور مدد کرتا رہے گا۔ جرمن وزیر خارجہ کے خطاب میں ایک اہم پیغام یہ تھا، ’ہمیں ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔ فوجی دستوں کی واپسی کے بعد افغانستان میں غیر ملکی موجودگی ختم نہیں ہو گی، نہ ہی سن 2014 کے بعد افغانستان کو بھلا دیا جائے گا۔ افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کا یہ اشتراک عمل مسلسل جاری رہے گا۔‘

پاکستان بون کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہا حالانکہ وہ افغانستان کا اہم ترین ہمسایہ ملک ہے۔ افغانستان میں مستقل قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔

اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان سے کوئی وفد بون میں موجود نہیں، مغربی دنیا میں بہت سے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ پاکستان طالبان کی قیادت کو مذاکرات کی میز تک لانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ طالبان کی قیادت پاکستان میں کہیں موجود ہے اور کئی سکیورٹی ماہرین کے مطابق پاکستان افغان طالبان پر ممکنہ طور پر اثر انداز بھی ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ افغانستان میں سلامتی کی صورت حال کا تعلق پاکستان سے بھی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ان دونوں ملکوں کو اپنے ہاں طالبان کی شدت پسندی کا سامنا ہے۔ اسی لیے اکثر تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اگر دونوں میں سے کسی ایک بھی ملک میں داخلی سلامتی کی صورت حال خراب ہوتی ہے تو اس کا اثر ہمسایہ ملک پر بھی پڑے گا۔

بون میں افغانستان کے بارے میں آج کی بین الاقوامی کانفرنس میں کابل کے لیے مالی امداد کے نئے وعدوں کی کوئی توقع نہیں کی جا رہی لیکن بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد اس ملک کو دی جانے والی امداد میں واضح کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

اس بارے میں انٹر نیشنل سطح پر کام کرنے والی امریکی امدادی تنظیموں کے سب سے بڑے اتحاد انٹر ایکشن کے سربراہ Samuel Worthington کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس میں حصہ لینے والی حکومتوں کو افغانستان کی اس سے کہیں زیادہ مدد کرنی چاہیے جتنی انہوں نے اب تک کی ہے۔ سیموئل وردنگٹن کہتے ہیں کہ افغانستان کو بحالی، تعمیر نو، دیرپا ترقی اور استحکام کے راستے پر لانے کے لیے اب تک کی جانے والی کوششوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کوششوں اور وسائل کی ضرورت ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امجد علی

DW.COM