یورپ کیوں پریشان ہے؟ | دستک | DW | 25.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کالم

یورپ کیوں پریشان ہے؟

سوئٹزرلینڈ کے ایک خوبصورت شہر لوگانو میں افغانستان اور پاکستان کے بارے میں بہت سے سوالات کا جواب دینا ایک منفرد اور انوکھا تجربہ تھا۔

حامد میر

حامد میر

بہت سال پہلے میں نے سوئٹزرلینڈ کے مشہور شہر ڈیووس میں اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز کا انٹرویو کیا تھا۔ جنیوا میں فلسطینی لیڈر یاسر عرفات سے ملاقات کا موقع بھی ملا لیکن لوگانو کا نام نہیں سنا تھا۔ چند ماہ قبل مجھے لوگانو فیسٹیول میں شرکت کی دعوت ملی تو پہلی دفعہ لوگانو کے نام سے آشنائی ہوئی۔

لوگانو فیسٹیول میں نائن الیون حملوں کے 20 سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی سیشن رکھا گیا تھا، جس میں مجھے خطاب کی دعوت دی گئی تھی۔ دعوت نامہ لوگانو فیسٹیول کے صدر آندرے لیونی کی طرف سے آیا، جو خود بھی ایک صحافی ہیں۔

پتہ چلا کہ اس فیسٹیول میں ایک سیشن ایسا بھی ہو گا، جس میں اٹلی کی ایک عسکری تنظیم ریڈ بریگیڈ کی مسلح کارروائیوں میں ملوث افراد اور ان کارروائیوں کا نشانہ بننے والوں کے لواحقین کے درمیان مکالمہ ہو گا۔ بطور ایک صحافی مجھے یہ سیشن بہت اہم لگا لہٰذا میں نے لوگانو فیسٹیول میں شرکت کی حامی بھر لی۔

اسی دوران 15 اگست کو طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا۔ دنیا بھر میں افغانستان اور پاکستان کے بارے میں بحث شروع ہو گئی اور لوگانو سے پہلے الیسینڈرا گیانیلا نے بتایا کہ 17 ستمبر سے 19 ستمبر تک فیسٹول میں شرکت کے علاوہ بہت سے اخبارات اور ٹی وی چینلز میرے انٹرویوز کرنا چاہتے ہیں۔

شروع میں تو مجھے الیسینڈرا کے بارے میں زیادہ پتا نہیں تھا۔ وہ میرے سفر کے انتظامات اور لوگانو میں میری مصروفیات کا شیڈول بنانے کی ذمہ دار تھیں۔ جب میں 17 ستمبر کو لوگانو پہنچا تو پتہ چلا کہ وہ پارلیمنٹ کی رکن ہیں۔

زیورخ ایئرپورٹ سے لوگانو کا سفر کچھ لمبا ہو گیا کیونکہ جمعہ کا دن تھا اور ویک اینڈ پر بہت سے لوگ فرانس اور جرمنی سے لوگانو جا رہے تھے۔

سوئٹزرلینڈ اپنے پہاڑوں، جھیلوں، چاکلیٹ، پنیر، گھڑیوں اور غیرجانبدارانہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ خوبصورت ملک فرانس، جرمنی، اٹلی اور آسٹریا کے بالکل درمیان میں واقع ہے لہٰذ‌ا ویک اینڈ پر ان ممالک کے لوگ سوئٹزرلینڈ بڑی آسانی سے آ جاتے ہیں۔

اٹلی کا شہر میلان تو لوگانو سے صرف 75 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ لوگانو پہنچا تو پتہ چلا کہ اگلے روز مجھے کم از کم چھ مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کو انٹرویو دینے تھے۔ میں نے اپنے میزبانوں کے تیار کردہ شیڈیول کے مطابق انٹرویوز بھی دیے اور ریڈ بریگیڈ کے سابقہ لیڈروں اور ان کے حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کے لواحقین میں مکالمہ بھی سنا۔

یہ مکالمہ اطالوی زبان میں تھا لیکن ایک صحافی جو پائیراسی نے میرے لیے مترجم کے فرائض انجام دیے۔

یاد رہے کہ ریڈ بریگیڈ اٹلی کے سابق وزیراعظم آلڈو مورو کے اغوا اور قتل میں ملوث تھی۔ کانفرنس میں شریک ریڈ بریگیڈ کے دو سابق لیڈرز فرانکو بونی سالی اور ایڈریانا فارانڈا پر آلڈو مورو کے اغوا کی منصوبہ بندی میں شرکت کا الزام تھا لیکن ان دونوں پر قتل کے دیگر الزامات بھی تھے۔

یہ الزامات عدالتوں میں زیر سماعت رہے اور دونوں نے لمبی لمبی قید کاٹی۔ لوگانو فیسٹیول میں یہ دونوں ایک سٹیج پر ان افراد کے لواحقین کے ساتھ بیٹھے تھے، جن کے قتل کا الزام ان دونوں پر لگایا گیا۔ اہم بات یہ تھی کہ ان دونوں نے عمر قید کے برابر سزا کاٹی اور پھر رہا ہوئے۔

رہائی کے بعد یہ دونوں اپنے کیے پر پشیمان نظر آ رہے تھے۔ میں ان دونوں کا ان افراد سے تقابل کر رہا تھا، جن پر پاکستان میں قتل اور دہشت گردی کے واقعات کا الزام ہے، وہ ان واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں اور ریاست کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کے آئین کو تسلیم کر لیا جائے تو بات چیت ہو سکتی ہے۔

آئین کو تسلیم کرنے کا مطلب کیا ہے؟ کیا وہی مطلب ہے، جو اٹلی میں لیا گیا؟ پہلے ریڈ بریگیڈ کی قیادت کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا پھر رہائی کے بعد ان سے بات کی گئی۔ مجھے نہیں پتا کہ پاکستان میں کیا ہو گا لیکن لوگانو فیسٹیول میں مجھ سے افغانستان کے متعلق کم اور پاکستان کے متعلق زیادہ سوالات کیے گئے۔

سوئٹزرلینڈ کے میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز اور لوگانو فیسٹیول میں کیے گئے سوالات سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ یورپ میں یہ تاثر عام ہے کہ افغانستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کے پیچھے پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔

ایک صحافی نے مجھ سے پوچھا کہ پاکستان کی فوج پنج شیر کیوں گئی؟ میں نے بتایا کہ پاکستان کی فوج پنج شیر نہیں گئی یہ جھوٹ ہے۔ اس نے ثبوت مانگا، میں نے اس سے کہا کہ پہلے آپ ثبوت دیں۔

صحافی نے مجھے ایک سوشل میڈیا پوسٹ دکھائی، جس میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین فوجی وردی میں زمین پر گرے پڑے تھے اور کہا گیا تھا کہ یہ پاکستانی فوج کا کرنل پنج شیر میں مارا گیا۔

میں نے سوئس صحافی کو بتایا کہ یہ شخص کرنل نہیں بلکہ قومی اسمبلی کا رکن ہے اور بہت بڑا ایکٹر ہے اور ابھی تک زندہ ہے۔

سیشن کے دوران میں نے بتایا کہ پچھلے 20 سال کے دوران افغانستان میں چھ ہزار امریکیوں کی جانیں گئیں اور اس دوران دہشت گردی کے واقعات میں چھ ہزار پاکستانی فوجیوں اور 86 ہزار عام پاکستانیوں کی جان گئی تو سامعین حیران رہ گئے۔

مجھے ایک مشکل یہ پیش آئی کہ جب بھی میں پچھلے 20 سال کے دوران پاکستان کے کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتا تو مجھ سے سوالات  کرنے والے پاکستان میں میڈیا کو درپیش صورتحال کو زیر بحث لاتے اور پوچھتے، ان 20 سالوں میں آپ پر کتنی دفعہ پابندی لگی؟

مجھے بتانا پڑتا کہ تین مرتبہ پابندی لگی۔ ایک سوال کیا گیا کہ آپ اپنے اکثر مسائل کی ذمہ داری بھارت پر ڈال دیتے ہیں، کیا آپ پر پابندی بھی بھارت نے لگائی؟ میں لاجواب ہو گیا۔

یہاں سوئٹزرلینڈ  کی سابق اٹارنی جنرل کارلا ڈیل پونٹے سے بھی ملاقات ہوئی، جنہوں نے سسلین مافیا کے خلاف لمبی قانونی جنگ لڑی اور قتل کی سازشوں کا سامنا کرتی رہیں۔ انہوں نے یوگوسلاویہ اور روانڈا کے وار کرائمز ٹریبیونل کی سربراہی بھی کی۔ پاکستان اور افغانستان کے متعلق ان کی معلومات حیرت انگیز تھیں۔

اطالوی مافیا کے خلاف جنگ میں مصروف اطالوی پراسیکیوٹر گراتیری بھی لوگانی فیسٹیول کے ایک سیشن میں مہمان تھے اور تمام مسائل کا حل قانون کی بالادستی کو قرار دے رہے تھے۔

لوگانو فیسٹیول میں شرکت سے احساس ہوا کہ یورپ افغانستان کے بارے میں بہت پریشان ہے اور پاکستان کے بارے میں تشویش رکھتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کو یورپ کا دل کہا جاتا ہے۔ اگر وہاں پاکستان کا نام سن کر بہت سے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں تو یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے متعلق غلط فہمیاں دور کرے اور افغانستان کے بارے میں بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ آگے بڑھے۔