یورپ میں مہاجرین کی منصفانہ تقسیم، تعطل کے خاتمے کی کوشش | مہاجرین کا بحران | DW | 26.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

یورپ میں مہاجرین کی منصفانہ تقسیم، تعطل کے خاتمے کی کوشش

یورپی یونین نے رکن ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ مہاجرین کی منصفانہ تقسیم کے منصوبے پر عملدرآمد کریں۔ یہ اپیل ایک ایسے وقت پر کی گئی ہے، جب مستقبل قریب میں وسطی بحیرہ روم میں مہاجرین کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یورپی یونین کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کی منصفانہ تقسیم کے منصوبے پر عملدرآمد ضروری ہے تاکہ کسی ایک ریاست پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہے اور کئی ممالک اپنے ہاں مہاجرین کو پناہ دینے کے خلاف ہیں۔

مہاجرین کی تقسیم کا معاملہ، یورپی وزرائے میں اختلافات برقرار

یورپی یونین میں ’مہاجر کوٹہ سسٹم منصوبہ‘ مشکلات کا شکار

مہاجرین کو اٹلی اور یونان سے منتقل کیوں نہیں کیا جا رہا؟

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ چھبیس جنوری بروز جمعرات مالٹا کے شہر والیٹا میں ملاقات کر رہے ہیں، جس دوران ڈبلن قواعد پر مذاکرات کیے جانا ہیں۔ ان قواعد و ضوابط کے تحت یورپی یونین کی کسی رکن ریاست میں پہلی مرتبہ داخل ہونے والا مہاجر اسی ملک میں اپنی رجسٹریشن کرانے کا پابند ہے۔ یورپ آنے والے مہاجرین پہلے یونان یا اٹلی پہنچتے ہیں، اس لیے ان دونوں ممالک میں مہاجرین کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے۔

یورپی یونین کی کوشش ہے کہ اٹلی اور یونان پہنچنے والے پناہ کے متلاشی افراد کو دیگر ممالک میں آباد کیا جائے۔ اس مقصد کی خاطر ایک منصوبہ ترتیب دیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ والیٹا مذاکرات سے قبل یورپی یونین کے امیگریشن امور کے نگران کمشنر دیمیتریس آوراموپولوس نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے راہ ہموار ہو جائے گی۔

ویڈیو دیکھیے 03:46
Now live
03:46 منٹ

مہاجرین کی غیر منصفانہ تقسیم: امیر ممالک تنقید کی زَد میں

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے کہا ہے کہ اس ڈیڈ لاک کے خاتمے کی خاطر فرانس اور جرمنی نے منصوبے تیار کیے ہیں لیکن انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیل بیان نہ کی۔ یورپی یونین کے ششماہی بنیادوں پر موجودہ صدر ملک مالٹا کے شہر والیٹا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، ’’میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ آئندہ کچھ مہینوں میں اس ڈیڈ لاک کو ختم کر لینا چاہیے۔‘‘

اٹھائیس رکنی یورپی یونین میں ہنگری، سلوواکیہ اور پولینڈ ایسے ممالک ہیں، جو اپنے ہاں مہاجرین کو پناہ دینے کے شدید خلاف ہیں۔ ان ممالک کا البتہ کہنا ہے کہ اس بحران میں وہ مالی امداد کرنے پر تیار ہیں۔ مالٹا میں اس ڈیڈ لاک کے خاتمے کی خاطر یہ مذاکرات ایک ایسے وقت پر ہو رہے ہیں، جب مالٹا کے وزیر اعظم جوزف موسکیٹ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ موسم بہار میں وسطی بحیرہ روم میں لیبیا تا اٹلی مہاجرین کا بحران ’غیرمعمولی‘ شدت اختیار کر سکتا ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic