یورپ معاشی بحران جلد حل کرے، جی ٹوئنٹی ممالک | حالات حاضرہ | DW | 04.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورپ معاشی بحران جلد حل کرے، جی ٹوئنٹی ممالک

اقتصادی طور پر ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے جی ٹوئنٹی گروپ نے یورپ سے کہا ہے کہ وہ یورو زون کو درپیش اقتصادی بحران کا فوری حل تلاش کرے۔

default

جی ٹوئنٹی ممالک کے رہنماؤں کا گروپ فوٹو

امریکی صدر باراک اوباما نے فرانس کے شہر کن میں جمعرات کے روز شروع ہونے والے جی ٹوئنٹی اجلاس کے افتتاحی سیشن میں کہا کہ جی ٹوئنٹی ممالک کے رہنماؤں کی اولین ترجیح یورو زون ممالک کا اقتصادی بحران حل کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہمیں درپیش مسائل میں سب سے اہم یورپ کا اقتصادی بحران ہے۔‘‘

جاپانی وزیر اعظم یوشی ہیکو نوڈا نے خبردار کیا ہے کہ یورپی کا معاشی بحران عالمی معیشت کے لیے سلسلہ وار بحرانوں کو جنم دے سکتا ہے۔

جی ٹوئنٹی اجلاس میں یونان کا بحران ہی سر فہرست رہا۔ مبصرین کے مطابق یونان کے حالات دیکھتے ہوئے اس یورپی ملک کے یورو زون سے باہر نکل جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسی حوالے سے اجلاس سے ایک روز قبل جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے یونانی وزیر اعظم جارج پاپاندریو سے علیحدہ سے ملاقات کی اور یونان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

یورپی یونین کے صدر ہرمن فان رومپوئے کا کہنا تھا، ’’یورپی یونین یونان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے مگر یونان کو یورپی بیل آؤٹ پیکج پر قائم رہنا پڑے گا۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے۔‘‘

روسی صدر دمتری میدویدیف نے بھی یونان پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے فیصلے کرے جو کہ ’غیر مقبول‘ ہوں۔ انہوں نے کہا، ’’روس یورپ کا حصہ ہے اور اس کے مسائل روس کے مسائل ہیں۔ ہم اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گے۔‘‘

برطانیہ اور آسٹریلیا نے بحران کے حل کے لیے آئی ایم ایف کے اضافی کردار پر زور دیا ہے۔

چینی وزیر خزانہ چن ڈیمنگ نے کہا ہے کہ یورپ کے مالیاتی بحران کے اثرات چینی تجارت پر بھی پڑ رہے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

اشتہار