1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین کی میانمار کی فوجی جنتا پر نئی پابندیاں

22 جون 2021

مغربی ممالک نے فوجی جنتا پر جمہوریت نوازمظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کو روکنے کے لیے دباو بڑھا دیا ہے۔ یہ نئی پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب میانمار کی فوج روس کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کررہی ہے۔

https://p.dw.com/p/3vJ9R
Myanmar Konflikte Soldaten
تصویر: STR/AFP

یورپی یونین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مدنظر میانمار کی حکمراں فوجی جنتا کے اعلی عہدیداروں پر نئی پابندیا ں عائد کردی ہیں۔

اس 27رکنی بلاک نے آٹھ افسران پر سفری پابندیاں عائد کردیں اور میانمار کی فوج سے تعلق رکھنے والے چار 'اقتصادی اداروں‘ کے خلاف بھی کارروا ئی کی ہے۔

پابندیوں کے بارے میں یو رپی یونین کا کیا کہنا ہے؟

یورپی یونین نے میانمار میں ”جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو نظر انداز کرنے اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں"  کے لیے عہدیداروں کی نکتہ چینی کی ہے۔

فوج کے کنٹرول والی کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کا مقصد فوجی جنتا کو مالی لحاظ سے نقصان پہنچانا ہے۔

یورپی یونین نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا،”جواہرات اور بانس کے سیکٹر کو نشانہ بناکر ان اقدامات کے ذریعہ میانمار کے قدرتی وسائل سے مالی فائدے حاصل کرنے کی فوجی جنتا کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ پابندیاں اس انداز میں نافذ کی گئی ہیں جس سے کہ میانمار کے عوام کو کوئی نقصان نا پہنچے۔"

برطانیہ نے بھی میانمار کی تین اقتصادی کمپنیوں پر پیر کے روز پابندیاں عائد کردیں۔ ان میں موتی تیار کرنے والی سرکاری ملکیت والی ایک کمپنی اور بانس کا کاروبار کرنے والی ایک کمپنی شامل ہے۔

میانمار کی فوج کے ماسکو کے ساتھ تعلقات میں اضافہ

یہ پابندیاں ایسے وقت عائد کی گئی ہیں جب فوجی جنتا نے امداد کے لیے روس کی جانب رخ کیا ہے۔

فوجی جنتا کے لیڈر من آنگ ہلینگ نے ماسکو میں اس ہفتے ہونے والی بین الاقوامی سکیورٹی کانفرنس سے قبل پیر کے روز روس کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نکولائی پیٹروشیو سے ملاقا ت کی۔

قومی سلامتی کونسل کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے دہشت گردی، علاقائی سلامتی کے موضوعات کے علاوہ میانمار کے داخلی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کے متعلق با ت چیت کی۔  دونوں ملکوں نے ”باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش" کا اعادہ کیا۔

روس میانمار کی فوج کو ہتھیاروں کی سپلائی کرنے والا اہم ملک ہے۔ فروری میں آنگ سان سوچی کی قیادت والی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی حکومت کو معزول کرکے میانمار کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے من آنگ ہلینگ کا ماسکو کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

میانمار میں سیاسی صورت حال کیسی ہے؟

میانمار کی فوج نے یکم فروری کو ملک کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا اور اسٹیٹ کاونسلر آنگ سان سوچی اور ان کی حکمراں جماعت این ایل ڈی کے دیگر اراکین کو گرفتار کرلیا گیاتھا۔

فوج نے بغاوت کرنے سے قبل سوچی کی جماعت پر گزشتہ برس ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

Myanmar Yangon | Proteste gegen Militärregime an Geburtstag von Aung San Suu Kyi
تصویر: AFP

سوچی کے خلاف اس وقت اپنے ذاتی محافظوں کے لیے غیر قانونی طورپر واکی ٹاکی درآمد کرنے اور کورونا وباکے ضابطو ں کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں۔ ان کے خلاف بدعنوانی اور دیگر الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں تاہم سوچی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات سیاسی اغراض پر مبنی ہیں اور اس کا مقصدانہیں عہدے پر دوبارہ فائز ہونے سے روکنے کی کوشش ہے۔

سوچی کے وکلاء نے پیر کے روز بتایا کہ ان کے خلاف پیش کیے گئے بعض قانونی شواہد جھوٹے ہیں۔

فوج نے بغاوت کے بعد سے ہی مظاہرین اور مخالفین کے خلاف سخت کارروائیوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔  انسانی حقوق کی ایک معروف تنظیم کاکہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سکیورٹی فورسیز کے ہاتھوں 860سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ فوجی جنتا سے ساڑھے چار ہزار سے زائد افراد کو جیلوں میں ڈال رکھا ہے۔

 ج  ا/ ص ز (اے ایف پی، روئٹرز)

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں