یورپی یونین: انتہائی دائیں بازو کا ’وسیع‘ فیک نیوز نیٹ ورک | حالات حاضرہ | DW | 22.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یورپی یونین: انتہائی دائیں بازو کا ’وسیع‘ فیک نیوز نیٹ ورک

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق یورپی پارلیمانی انتخابات سے قبل انتہائی دائیں بازو کے نظریات اور فیک نیوز پر مشتمل پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور اس میں لاکھوں یورپی شہری ملوث ہیں۔

امریکا کی غیر سرکاری تنظیم ’آواز موومنٹ‘ نے بدھ کے روز ایک نئی رپورٹ پیش کی ہے، جس کے مطابق یورپ میں مہاجرین سے متعلق ایسی جعلی خبریں، جعلی اقوال اور جعلی ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں انہیں کوئی ’غلط کام‘ کرتے دکھایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسی ہی ایک ویڈیو کو گزشتہ تین ماہ میں پانچ سو تینتیس ملین مرتبہ دیکھا گیا۔ آواز کے اندازوں کے مطابق مہاجرین مخالف اس ایک جعلی ویڈیو کو فی دن ساٹھ لاکھ افراد نے دیکھا۔ آواز کے ڈائریکٹر کرسٹوف شوٹ کے مطابق یورپی پارلیمانی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل یورپی یونین ’جعلی خبروں میں ڈوبتی‘ جا رہی ہے۔

کرسٹوف شوٹ کا مزید کہنا تھا، ’’ان نیٹ ورکس کا سائز اور نفاست انہیں جمہوریت کے لیے تباہ کن ہتھیار بنا رہے ہیں اور اس وقت یہ یورپ بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ ابھی ہم نے صرف اس کی ظاہری سطح کو چھوا ہے۔‘‘ آواز کے مطابق صرف جرمنی، فرانس، برطانیہ، اسپین، پولینڈ اور اٹلی میں انتہائی دائیں بازو کے پروپیگنڈا پر مشتمل تقریبا پانچ سو مشتبہ پیجز ہیں۔ فیس بک انتظامیہ نے ان میں سے ستتر پیجز کو ختم کر دیا ہے۔ صرف ان ختم کیے گئے فیس بک پیجز کے تقریبا ساٹھ لاکھ فالورز تھے۔

ویڈیوز اور نفرت انگیز تقریر

اس حوالے سے آواز گروپ نے ایک انتہائی دائیں بازو کے ایک اطالوی پیج کی مثال دی ہے۔ یہ فیس بک پیج ماتیو سالوینی لیگ پارٹی کی حمایت کرتا ہے۔ اس پیج پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں مبینہ طور پر مہاجرین کو ایک پولیس کار پر حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اصل میں یہ ویڈیو ایک فلم کے سین سے لی گئی ہے، اسے کئی مرتبہ رپورٹ بھی کیا گیا لیکن یہ ابھی تک بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہے۔ اسی طرح پولینڈ میں بھی انتہائی دائیں بازو کے ایک پیج نے ایک فلم کی ویڈیو ایڈٹ کر کے شیئر کی، جس میں ایک مہاجر ٹیکسی ڈرائیور کو ایک خاتون سے جنسی زیادتی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اسی طرح اسپین میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے پروپیگنڈا سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔

اسپین میں ایک گروپ کا پہلے ’واچ موویز فار فری‘ نام رکھا گیا، پھر اس کا نام ’واچ موویز‘ کر دیا گیا، اس کے بعد اسے ’موویز آف اسپین‘ کا نام دیا گیا اور فالورز کی مزید تعداد بڑھنے پر اس کا نام ’فائٹ فار اسپین‘ رکھ دیا گیا۔ یہ اپنے سابق فالوورز کو ابھی تک  قوم پرستانہ مواد دکھا رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق لاکھوں یورپی شہریوں کی جھوٹ اور پروپیگنڈا کے ذریعے دماغ سازی کی جا رہی ہے اور اگر فیس بک نے ان کے خلاف اقدامات نہ اٹھائے تو یہ جعلی خبریں مزید لاکھوں لوگوں تک پہنچیں گی۔

ا ا / ع ا