1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
جرائمبیلجیم

یورپی پارلیمان: بدعنوانی کے الزم میں ملزمان پر فرد جرم عائد

12 دسمبر 2022

یونان سے تعلق رکھنے والی یورپی پارلیمان کی رکن ایوا کیلی کو مبینہ بدعنوانی کے الزام پر جمعے کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر قطر کے لیے غیر قانونی طور پر اثرورسوخ استعمال کرنے کا الزام ہے۔

https://p.dw.com/p/4Komk
Frankreich, Straßburg | Eva Kaili im EU-Parlament
تصویر: Christoph Hardt/Panama Pictures/picture alliance

یورپی پارلیمنٹ میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات پر ایک خاتون رکن پارلیمنٹ سمیت چار  افراد پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یونان کی سوشلسٹ پارٹی کی یورپی پارلیمان میں رکن (ایم ای پی) ایوا کیلی ان چار مشتبہ افراد میں شامل ہیں جن پر اتوار کو بیلجیئم میں ورلڈ کپ کے میزبان قطر سے متعلق اسکینڈل کے سلسلے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ چاروں ملزمان زیر حراست ہیں۔

یونان کی سوشلسٹ پارٹی کی یورپی پارلیمان میں رکن ایوا کیلی بد عنوانی کے الزامات میں زیر حراست ہیں
یونان کی سوشلسٹ پارٹی کی یورپی پارلیمان میں رکن ایوا کیلی بد عنوانی کے الزامات میں زیر حراست ہیںتصویر: Christophe Licoppe/European Commission/dpa/picture alliance

بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا، '' تحقیقات کی قیادت کر نے والے برسلز کے تفتیشی جج نے چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان افراد  پر مجرمانہ تنظیم میں شمولیت، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ دو افراد کو تفتیشی جج نے رہا کر دیا ہے۔‘‘

بیان میں ملزمان کی شناخت نہیں کی گئی۔ لیکن خبر رساں ادارے اے ایف پی اور بیلجیئم کے اخبارات نے عدالتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیلی بھی ان ملزمان میں شامل ہیں۔

بیلجیئم کے زرائع ابلاغ کے مطابق ان ملزمان میں کیلی ان کے پارلیمانی مشیر فرانسسکو جیورگی اور  اطالوی سوشل ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے یورپی پارلیمان کے  رکن پیئر انتونیو پنزیری شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  برسلز کے ایک لابیسٹ کو بھی مذکورہ تین افراد کے ہمراہ حراست میں لیا گیا ہے تاہم اس کی شناخت نہیں ہو سکی۔

 ان الزامات سے رہائی پانے والوں میں ایوا کیلی کے والد  اور  انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل لوکا ویسینٹینی شامل ہیں۔

ایوا کیلی قطر کے وزیر محنت علی بن سامخ المری کے ہمراہ
ایوا کیلی قطر کے وزیر محنت علی بن سامخ المری کے ہمراہ تصویر: Twitter/Ministry of Labour/REUTERS

دوسرے رکن اسمبلی کے گھر کی تلاشی

پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ بدعنوانی کے اسکینڈل کے سلسلے میں اختتام ہفتہ یورپی پارلیمان کے ایک اور رکن کے گھر کی تلاشی لی گئی۔ برسلز کے ایک اخبار لی سوئر نے اس قانون ساز کی شناخت سوشل ڈیموکریٹ مارک ترابیلا کے نام سے کی  ہے۔

کیلی جمعے کو برسلز میں گرفتار کیے گئے چھ مشتبہ افراد میں شامل تھیں اور بیلجیئم کے میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ان کے والد کو مبینہ طور پر ایک بیگ میں 632,000 ڈالر کی رقم کے ساتھ ہوٹل جاتے ہوئے پکڑے جانے کے بعد 44 سالہ کیلی کے گھر کی تلاشی لی گئی۔

کیلی نے نائب صدر کے اختیارات کھو دیے

مبینہ بدعنوانی کے اسکینڈل میں ملوث ہونے کے الزامات کے بعد ایوا کیلی سے یورپی پارلیمنٹ میں نائب صدر کے طور پر ان کے اختیارات چھین لیے گئے ہیں۔ لیکن وہ اب بھی یورپی پارلیمان کی ایک رکن ہیں اور عام طور پر انہیں مجرمانہ استغاثہ سے استثنیٰ حاصل ہے۔

کیلی کی گرفتاری کے نتیجے میں ان کے باضابطہ استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ یونان کی بائیں بازو کی سوشلسٹ پارٹی (پاسوک) نے کیلی کو پارٹی سے نکال دیا ہے اور یورپی بائیں بازو کے سیاسی گروپ نے بھی کیلی کی رکنیت کی معطلی کا اعلان کیا ہے۔

بیلجیئم کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ انہیں کئی مہینوں سے شبہ تھا کہ ایک خلیجی ریاست نے  یورپی پارلیمنٹ کے اندر بااثر لوگوں کو بھاری رقوم کی ادئیگی کے ساتھ ساتھ تحائف کی پیشکش کی ہے۔  بیلجیئم کے میڈیا نے اس ریاست کی  شناخت قطر کے نام سے کی ہے۔

Frankreich, Straßburg | Eva Kaili im EU-Parlament
مبینہ بدعنوانی کے اسکینڈل میں ملوث ہونے کے الزامات کے بعد ایوا کیلی سے یورپی پارلیمنٹ میں نائب صدر کے طور پر ان کے اختیارات چھین لیے گئےتصویر: EP/REUTERS

قطر کو فیفا ورلڈ کپ کے انعقاد کے لیے اسٹیڈیمز سمیت دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے دوران ہزاروں تارکین وطن مزدوروں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔

قابل اعتراض ووٹ

کیلی نے حال ہی میں مزدوروں کے حقوق سے متعلق قطر کے ریکارڈ کے بارے میں مثبت تبصرے کیے تھے اور یکم دسمبر کو کیلی اور ترابیلا نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران قطری شہریوں کے لیے یورپی یونین کے ویزا کو آزاد کرنے کے عمل کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ 

یورپی پارلیمان کے گھر برسلز میں تقریباً 25,000 لابیسٹ ہیں، جو باقاعدگی سے سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تازہ ترین اسکینڈل کو حالیہ برسوں میں یورپی پارلیمنٹ میں مبینہ طور پر اثر و رسوخ خریدنے کا سب سے سنگین معاملہ قرار دیا گیا ہے۔

Eva Kaili
گرفتار کیے گئے افراد میں ایوا کیلی کے عملے کے ارکان بھی شامل ہیںتصویر: Eric Vidal/AFP

ڈی ڈبلیو کے برسلز میں نامہ نگار جیک پیروک نے کہا کہ اس اسکینڈل نے ''یورپی یونین کے اداروں کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ، ''یورپی پارلیمنٹ خود کو یورپی یونین میں بنیادی جمہوریت، حقوق اور اقدار کے گڑھ کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس لیے یہ ان کے ساتھ ساتھ قطر کے لیے بھی ایک بڑا ساکھ کا مسئلہ ہے۔‘‘

قطر نے بدانتظامی کے الزامات کو مسترد کردیا

یورپی یونین میں قطر کے مشن نے اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ وہ  بدانتظامی کے الزامات کے ساتھ جوڑے جانے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔ قطری حکومت کا ان دعووں کے ساتھ کوئی بھی تعلق جوڑنا بے بنیاد اور انتہائی غلط معلومات پر مبنی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر''اداروں سے اداروں کی سطح پر اور بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی مکمل تعمیل میں کام کرتا ہے۔‘‘

ش ر ⁄ اا  (اے ایف پی، ڈی پی اے)