یورپی مہاجرین پالیسی ’منافقت‘ پر مبنی ہے، آئی وےوے | معاشرہ | DW | 15.03.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

یورپی مہاجرین پالیسی ’منافقت‘ پر مبنی ہے، آئی وےوے

مشہور آرٹسٹ آئی وےوے نے مہاجرین کو پناہ دینے کے حوالے سے یورپ پر دوہرے معیار کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’کھلی منافقت‘ قرار دیا ہے۔ آئی وےوے کے زیادہ تر آرٹ کے نمونے مہاجرین کو درپیش خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔

آئی وےوے کے مطابق مغربی یورپی ممالک یوکرینی مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول رہے ہیں اور ان ممالک کا یہ رویہ اس کے بالکل برعکس ہے، جب سن 2015ء میں افریقی اور مشرق وسطیٰ کے مہاجرین کے لیے دروازے بند کیے جا رہے تھے۔ ان کے مطابق اس رویے کی بنیاد پر 'منافقت‘ کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے۔

ویانا میں ایک نئے شو کے آغاز سے پہلے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، '' یہ جدید دور میں بہت ہی عام  پائی جانے والی منافقت ہے، جو میں دیکھ رہا ہوں۔‘‘ ان کا شدید تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا، ''یورپ کے اس رویے کے لیے منافقت ایک نرم لفظ ہے، میں اس حوالے سے بہت ہی شائستہ رہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘‘

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ''ہمارے پاس اب کوئی واضح اخلاقی یا فلسفیانہ معیار نہیں ہے۔‘‘ آئی وےوے سن 2015ء میں چین سے فرار ہو کر یورپ پہنچے تھے اور وہ چینی حکومتی پالیسیوں کے بھی سخت ناقد ہیں۔

BdTD | Ai Weiweis Ausstellung Rapture in Lissabaon, Portugal

آئی وےوے کے زیادہ تر آرٹ کے نمونے مہاجرین کو درپیش خطرات کو اجاگر کرتے ہیں

یوکرائن کے ہزاروں مہاجرین ہر روز یورپی ممالک کی سرحدوں پر پہنچ رہے ہیں۔ ان کا خوش دلی سے استقبال کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ پولینڈ، ہنگری، بلغاریہ، مالدووا اور رومانیہ کے رہنماؤں نے بھی انہیں خوش آمدید کہا ہے۔ یوکرینی مہاجرین کے حوالے سے جہاں یورپ کی مہمان نوازی کی تعریف کی جا رہی ہے، وہاں کئی یورپی ممالک کے اس مختلف رویے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے، جو انہوں نے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور خاص طور پر شامی مہاجرین کے حوالے سے اپنایا تھا۔

صرف یہی نہیں بعض یورپی رہنماؤں کے بیانات بھی شدید تکلیف دہ اور پریشان کر دینے والے ہیں۔ جیسے کہ بلغاریہ کے صدر رومین رادیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''یہ وہ مہاجرین نہیں ہیں، جن کے ہم عادی ہیں۔ یہ لوگ یورپی ہیں۔‘‘

اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا، ''یہ ذہین اور تعلیم یافتہ افراد ہیں۔ یہ ویسے مہاجرین نہیں ہیں، جن کے ہم عادی ہیں، جن کی شناخت کے بارے میں ہمیں علم نہیں، جن کے ماضی کا ہمیں علم نہیں، جو دہشت گرد بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر میں پالیسی سازی کے سابق سربراہ جیف کریسپ کا کہنا تھا، ''نسل اور مذہب نے مہاجرین کے ساتھ رویے کو اثرانداز کیا ہے، بہت سے لوگوں کی طرح یہ اوربان (ہنگری کے وزیراعظم) کا دوہرا معیار ہے۔‘‘

تاہم یوکرائن کے یورپ کے ساتھ ثقافتی اور تاریخی روابط بھی رہے ہیں۔ جیف کریسپ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے یورپی لوگوں کی ہمدردی فطری ہے کہ زبان اور ثقافت وغیرہ ملتی جلتی ہیں۔ پہلے ہی لاکھوں یوکرائنی باشندے یورپی یونین میں ضم ہو چکے ہیں اور مختلف ممالک میں رہتے ہیں۔

ا ا / ع ح (ڈی پی اے، اے پی)