یورپی سرحدوں پر سختی، پریشانی الجزائر کو | مہاجرین کا بحران | DW | 27.04.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

یورپی سرحدوں پر سختی، پریشانی الجزائر کو

یورپی سرحدوں پر نگرانی سخت ہونے اور غیرقانونی طور پر یورپی یونین میں داخلے میں مشکلات کی وجہ سے الجزائر کو پریشانی کا سامنا ہے۔ یورپ پہنچنے کے خواہش مند ہزاروں غیرقانونی تارکین وطن الجزائر کا رخ کر رہے ہیں۔

الجزائر کو خدشات ہیں کہ بحیرہء روم میں لیبیا سے اٹلی کے درمیانی راستے پر سخت جانچ پڑتال اور نگرانی کی وجہ سے زیریں صحارا افریقہ کے خطے سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن الجزائرکا رخ کر سکتے ہیں۔ الجزائر کے وزیرداخلہ نے جمعرات کے روز کہا کہ یورپ کی سخت سرحدی پالیسی کی وجہ سے الجزائر کو تارکین وطن کے بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لاپتہ مہاجرین کہاں ہیں؟

’مہاجرین کے حقوق کی پامالیوں کی ذمہ دار یورپی یونین بھی‘

تین درجن سے زائد تارکین وطن قبرص پہنچ گئے

2016ء میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والی ڈیل کی وجہ سے بحیرہء ایجیئن کے راستے یونان پہنچنا مشکل بنا دیا گیا تھا، جب کہ بلقان خطے نے بھی غیرقانونی تارکین وطن کے لیے اپنی اپنی قومی سرحدیں بند کر رکھی ہیں۔  یورپ اور انقرہ کے درمیان ڈیل سے قبل اس راستے سے ایک ملین سے زائد افراد یورپی یونین پہنچے تھے۔

اس کے بعد تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد نے شمالی افریقہ خصوصاﹰ لیبیا سے اٹلی کا رخ کرنا شروع کر دیا تھا۔ تاہم اٹلی اور لیبیا کے درمیان بھی اب اس معاملے پر قریبی تعاون اور کوسٹ گارڈز کی امداد اور تربیت کے تناظر میں بحیرہ روم کے اس وسطی  علاقے کا راستہ بھی مہاجرین کے لیے نہایت مشکل بن چکا ہے۔ اسی طرح یورپی یونین نے تیونس کے ساتھ بھی اس معاملے پر اپنے تعاون میں اضافہ کیا ہے۔

الجزائر کے وزیرداخلہ، حسن کاچمی کے مطابق، ’’ہمارے ہاں اب ہزاروں تارکین وطن موجود ہیں اور ہمیں خدشات ہیں کہ یورپ کی جانب سے دروازے بند کر دیے جانے کے بعد مزید لاکھوں افراد الجزائر کا رخ کریں گے۔‘‘ انہوں کا مزید کہنا تھا، ’’مسئلے کا حل یہ نہیں کہ آپ اپنے اپنے ملک کے دروازے بند کر لیں اور کسی دوسری جگہ پر لوگوں کو مرنے دیں۔

الجزائر کو اپنے ہاں مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر شدید تشویش ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مالی اور نائجر کے ساتھ ملنے والی قریب ڈھائی ہزار کلومیٹر کی سرحد پر مہاجرین کے سیلاب کو روکنے کے لیے الجزائر بیس ملین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔

ع ت / ع ب

DW.COM