یورپی سربراہی اجلاس سے بہت سی امیدیں وابستہ | حالات حاضرہ | DW | 08.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یورپی سربراہی اجلاس سے بہت سی امیدیں وابستہ

یورپی یونین کی27 رکن ریاستوں کے سربراہ دو روز کے لیے برسلز میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس اجلاس میں یورو زون میں بجٹی خسارے اور کرنسی کو درپیش مسائل پر بات ہو گی۔ ساتھ ہی جرمنی اور فرانس کی تجاویز پر بھی بحث کی جائے گی۔

اس اجلاس میں جرمنی اور فرانس کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر بحث کی جائے گی

اس اجلاس میں جرمنی اور فرانس کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر بحث کی جائے گی

برسلز میں آج سے شروع ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کا مقصد یورو کرنسی کے بحران پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے رکن ممالک کے ریاستی بجٹ کے خسارے کو کم کرنے اور مستقبل میں اس طرح کی صورت حال سے محفوظ رہنےکے حوالے سے ایک حکمت عملی بھی تیار کرنا ہے۔ جرمنی اور فرانس اس تناظر میں یورپی یونین کے معاہدے لزبن ٹریٹی میں اصلاحات لانے کی بات کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ دونوں ممالک یورو زون کے مالی معاملات کو مزید سخت بنانے کی بھی وکالت کر رہے ہیں تاکہ بجٹ کے خسارے کو کنٹرول کیا جائے۔ آج سے شروع ہونے والے اس اجلاس میں جرمنی اور فرانس کی جانب سے پیش کی جانے والی ان تجاویز پر بھی بات چیت ہو گی۔

EU Gipfeltreffen Brüssel Angela Merkel

امریکی صدر نے چانسلر میرکل کو اس مشکل وقت میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے

اس بارے میں گزشتہ روز جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی سربراہ نکولا سارکوزی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یورو زون کو زیادہ پابند قواعد اور ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے، جو مشترکہ ذمہ داری کا عکاس ہو۔ اس سربراہی اجلاس میں جہاں ان تجاویز پرکئی ممالک رضامند نظر آ رہے ہیں وہیں کچھ ملکوں کی جانب سے اس کی مخالفت بھی کی جا سکتی ہے۔ فن لینڈ نے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ یورپی سطح پر فیصلے کرتے وقت تمام رکن ممالک کو شامل کرنا لازمی ہے اور تجاویز کی تیاری میں بھی رکن ممالک سے مشورہ کرنا چاہبے۔

فرانس کے وزیر مالیات نے کہا ہے کہ چانسلر میرکل اور صدر ساکوزی کو اس وقت تک برسلز میں رہنا چاہیے ، جب تک مالیاتی بحران پر قابو پانے کے حوالے سے کوئی بڑا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ اس کے برعکس ایک سینیئر جرمن سفارت کار نے کہا کہ امریکی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز کی جانب سے جرمنی اور فرانس سمیت یورو زون کے متعدد ممالک کی ریٹنگ کو کم کیے جانے کے خدشے کے اظہار کے بعد یورپی یونین کے اس سربراہی اجلاس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ تاہم اس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہیں۔

اگر یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک یورپی معاہدے لزبن ٹریٹی میں اصلاحات پر راضی نہیں ہوتے تو یورو زون کے سترہ ملکوں کو اس پر راضی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یورپی مالی منڈیاں برسلز میں ہونے والے اجلاس سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ یورو زون میں مالی عدم استحکام کی وجہ سے ایشیا میں یورو کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : ندیم گِل

DW.COM