یورو زون کا بحران: جرمنوں کے ذہن میں خدشات سر اٹھانے لگا | معاشرہ | DW | 15.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یورو زون کا بحران: جرمنوں کے ذہن میں خدشات سر اٹھانے لگا

یورو زون کا بحران ایک مرتبہ پھر لوٹ آیا ہے، حقیقت میں نہیں تو کم از کم جرمن عوام کے ذہنوں کی حد تک تو ضرور۔ اور اس خوف کی سب سے بڑی وجہ مشرق وُسطیٰ سے آنے والے وہ لاکھوں مہاجرین ہیں جو پناہ کی تلاش میں جرمنی پہنچے ہیں۔

جنگ زدہ اورتنازعات کے شکار علاقوں سے جان بچا کر آنے والے ان مہاجرین کا مسئلہ نہ صرف برلن میں جاری سیاسی بحث پر حاوی ہے بلکہ جرمن اخبارات کے پہلے صفحات پر یہی بھی بحران چھایا ہوا ہے۔ تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جرمنی کا رُخ کرنے والے مہاجرین کا طوفان کسی حد تک تھما ہے تو یورپ کی طویل عرصے سے مشکلات میں گھری کرنسی کے بارے میں ایک بار پھر خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔

جرمنی کے بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے روزنامے ’زُوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘ کے ایڈیٹوریل میں رواں ہفتے خبردار کرتے ہوئے لکھا گیا، ’’ایک طوفان پک رہا ہے‘‘۔ اس اداریے کے مطابق، ’’بعض اوقات لوگوں کی قسمت کا فیصلہ بنا بہت زیادہ ڈرامے کے محض چند لمحات میں ہی ہو جاتا ہے۔ یہی کچھ اب یورپ کی کرنسی یونین میں ہو رہا ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورو زون کے بارے میں یہ نئے خدشات دراصل بعض ایسی بظاہر جداگانہ مگر کسی حد تک مربوط پیشرفتوں کے بعد پیدا ہوئے ہیں جو جرمنی کی سیاسی اور میڈیا اسٹیبلشمنٹ میں پریشانی کا باعث بنیں۔ ان میں یورپ کے جنوبی حصے میں بچتی اقدامات سے الگ ہونے، یورپی سنٹرل بینک کی طرف سے رقوم سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی اور جرمنی کے سیاسی افق پر ہونے والی حالیہ تبدیلیاں شامل ہیں۔

ایک ماہ قبل جرمنی کی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعت ’آلٹرنیٹیو فار جرمنی‘ AfD تین جرمن ریاستوں کی اسمبلیوں میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ یہ جماعت چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین کے لیے ’اوپن ڈور‘ پالیسی کی شدید مخالف ہے۔ اس جماعت کی کامیابی نہ صرف بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے حیران کن تھی بلکہ اس کامیابی نے انہیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی پر بھی مجبور کر دیا تھا۔

حکام کے مطابق اس وقت کے بعد سے حکمران جماعت کی طرف سے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ ملکی سطح پر جاری بحث کا رُخ مہاجرین کی طرف سے موڑا جائے۔ اس وقت کے بعد سے میرکل کی جماعت سی ڈی یو کے ساتھ حکمران اتحاد میں شامل جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی SPD کے رہنما، وزیر خزانہ وولف گانگ شوئبلے کی سربراہی میں مسلسل یورپی مرکزی بینک کی کم شرح سود کی پالیسی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

حکمران جماعتوں کو خدشہ ہے کہ AfD کم شرح سود کے مسئلے کو نشانہ بناتے ہوئے اپنی مقبولیت میں اضافے کی کوشش کر سکتی ہے۔ کم شرح سود جرمنی میں خاص طور پر ایک نازک معاملہ ہے کیونکہ اس طرح ایسے کروڑہا لوگوں کی مالی بچتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جنہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے لیے پیسہ بینکوں میں جمع کرا رکھا ہے۔