یورو زون میں قرضوں کا بحران بڑھتا ہوا | حالات حاضرہ | DW | 22.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یورو زون میں قرضوں کا بحران بڑھتا ہوا

یورپی ملک اسپین میں قدامت پسند پارٹی کی واضح کامیابی کے باوجود یورو زون میں قرضوں کے بحران کے باعث مالیاتی منڈیوں میں بے چینی کا عنصر پیر کو مزید شدت اختیار کرتا دکھائی دیا ہے۔

default

ہسپانوی قدامت پسند رہنما ماریانو راخوائے

سترہ رکن ممالک پر مشتمل یورو زون میں قرضوں کے جاری بحران اور مالیاتی منڈیوں کی بے چینی کے باعث اس بلاک کے پانچ ممالک میں حکومتیں بدل چکی ہیں۔ اسپین ان میں پانچواں ایسا ملک ہے، جہاں قدامت پسند پارٹی کے رہنما ماریانو راخوائے نے حکمران سوشلسٹ پارٹی کو تاریخ کی ایک بڑی شکست سے دوچار کیا۔

اس سے قبل اسی مالیاتی بحران کے نتیجے میں رواں برس ہی پرتگال، آئرلینڈ، اٹلی اور یونان کی حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں۔ اگرچہ راخوئے نے کہہ رکھا ہے کہ وہ ملک میں اقتصادی خستہ حالی کو دور کرنے کے لیے سخت بچتی اقدامات اٹھانے میں تساہل سے کام نہیں لیں گے لیکن اس کے باوجود مشترکہ کرنسی استعمال کرنے والے اس یورو زون میں خطرے کی گھنٹیاں بجنی بند نہیں ہوئی ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں یورو کی قدر میں کمی ہوئی۔

پیر کو ایسی اطلاعات سامنے آنے کے بعد کہ فرانس کی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی ہو سکتی ہے، یورپی حصص کی قیمتوں میں دو فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس صورتحال میں یورپی یونین کے اقتصادی اور مانیٹری امور کے کمشنر اولی رہن نے کہا، ’ہمیں اس بارے میں کسی شک کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ اس بحران کے نتیجے میں یورو زون کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں‘۔

پیر کو برسلز میں منعقد ہوئے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اولی رہن نے کہا ، ’آپ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیے بغیر انہیں اپنے متعلقہ ممالک میں سرمایہ کاری پر مجبور نہیں کر سکتے ہیں‘۔ انہوں نے یونین کی طرف سے جاری اس مہم کا بھی دفاع کیا، جس کے تحت رکن ممالک پر بچتی اقدامات اٹھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ کئی اقتصادی ماہرین کے بقول انہی بچتی اقدامات کے باعث ترقی کی رفتار میں کمی ہو رہی ہے اور ساتھ ہی بے روزگاری کی شرح میں اضافہ بھی۔

Lucas Papademos Griechenland Regierungserklärung

یونان کے ٹیکنو کریٹ وزیراعظم لوکاس پاپادیموس

دریں اثناء پیر کو ہی یونان کے عبوری وزیر اعظم نے برسلز کا پہلا دورہ کیا۔ اس دوران یورپی رہنماؤں نے نئے یونانی وزیر اعظم  اور ماہر اقتصادیات لوکاس پاپادیموس کو یقین دہانی کروائی کہ یونان کے مالی بحران کے لیے وہ متحد ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی پاپادیموس کو ٹیلی فون کر کے کہا کہ اس مشکل وقت میں واشنگٹن حکومت یونان کے ساتھ رہے گی۔

اٹلی میں بھی نئے وزیر اعظم ماریو مونٹی کو ملکی قرضوں کو کنٹرول میں کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم مونٹی نے بھی مالی مشکلات کے شکار دیگر یورپی ممالک کی طرح یورپی یونین کےماہرین سے رابطے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اٹلی کو بھی ملکی تاریخ میں شدید ترین بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔ ان اہم یورپی ممالک میں قرض بحران نے یورو زون کے لیے انتہائی سنگین مسائل پیدا کر دیے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار