یورو بحران کے حل میں برسوں لگیں گے، میرکل | حالات حاضرہ | DW | 15.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یورو بحران کے حل میں برسوں لگیں گے، میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرمن پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ‘ بنڈس ٹاگ’ میں اپنے پالیسی بیان میں کہا کہ یورپ میں پیدا قرضوں کا بحران حل کرنے کے لیے کئی سال درکار ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل

انگیلا میرکل نے گزشتہ ہفتے کے یورپی سربراہی اجلاس کے دوران کیے جانے والے فیصلوں کے تناظر میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیتے ہوئے بدھ کی شام خصوصی تقریر کی۔ اس خطاب کے دوران میرکل نے واضح کیا کہ یورپ میں پیدا قرضوں کے بحران کو حل کرنے کے لیے برسوں درکار ہیں۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اس بحران کے حل ہونے کے بعد یورپ اور یورو زون انتہائی طاقتور خِطہ بن کر ابھرے گا۔ جرمن چانسلر نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ قرضوں کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایک طریقہٴ کار پر عمل شروع کیا جا چکا ہے اور یہ بحرانی صورت حال ہفتوں میں حل ہونے والی نہیں ہے۔

نو دسمبر کی یورپی یونین سمٹ میں یونین کی دستوری ٹریٹی میں ترمیم کے حوالے سے ستائیس رکن ریاستوں میں سے چھبیس نے اتفاق ظاہر کیا۔ صرف برطانیہ نے اس معاملے پر اتفاق نہیں کیا۔ ترمیم کی تجویز کو فرانس اور جرمنی کی حمایت حاصل تھی۔ برطانیہ نے اس تجویز کی راہ میں اپنی نہ کی رکاوٹ کھڑی کردی تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ برطانیہ یورو کرنسی کی جگہ اپنی پونڈ کرنسی استعمال کرتا ہے۔ برطانیہ کے انکار کے بعد دیگر چھبیس رکن ملکوں نے نئے مالیاتی ضوابط کے معاہدے میں شمولیت پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

جرمن پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں خطاب کے دوران انگیلا میرکل کا کہنا تھا کہ

اس اجلاس کے دوران کچھ رکاوٹیں ضرور تھیں لیکن ان سے حوصلہ کم کرنے کے بجائے مستقبل میں دیکھنا ہے اور یورپ اس بحران سے نا صرف نکلے گا بلکہ بہت طاقتور بن کر ابھرے گا۔ میرکل کے مطابق حقیقی سیاسی اتحاد کی بنیاد کٹاؤ پر بندھ باندھنے میں پوشیدہ ہے۔ انگیلا میرکل نے یورپی یونین کے لیے ہنگامی امدادی فنڈ مہیا کرنے والے یورپی استحکام مکینزم کے مالیاتی حجم میں اضافے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

دوسری طرف عالمی شہرت کی حامل ریٹنگ ایجنسی مُوڈیز کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے اجلاس میں پالیسی سازی پر کوئی مناسب فیصلہ سامنے نہ آنے کی وجہ سے یورپی یونین کی تمام ریاستوں کی کریڈٹ ریٹنگ کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس مناسبت سے مُوڈیز نے اگلے تین ماہ بہت اہم قرار دیے ہیں۔ دوسری جانب ایک اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پُورز اسی ہفتے کے دوران فیصلہ کرنے والی ہے کہ یورو زون کی سترہ میں سے پندرہ ریاستوں کی کریڈٹ ریٹنگ کم کی جائے یا کچھ اور اضافی وقت دیا جائے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس