یمن میں امریکی فوجی متعین ہیں، پینٹاگون کا اعتراف | حالات حاضرہ | DW | 07.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یمن میں امریکی فوجی متعین ہیں، پینٹاگون کا اعتراف

امریکا نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ اُس نے یمن میں اپنے فوجی متعین کر رکھے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق القاعدہ کی ذیلی شاخ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

امریکی وزارت دفاع اور افواج کے صدر دفتر پینٹاگون کے ترجمان جیف ڈیوس نے کہا ہے کہ گزشتہ برس جزیرہ نما عرب کے ملک یمن میں سلامتی کی انتہائی مخدوش صورت حال کے تناظر میں ایک مختصر تعداد میں امریکی فوجی ایک مقام پر متعین کیے گئے تھے۔ ترجمان کے مطابق اِن فوجیوں کی تعیناتی کی بنیادی وجہ منصور ہادی حکومت اور سعودی عرب کے عسکری اتحاد کے افواج کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ، جہادیوں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنا اور القاعدہ کی ذیلی شاخ کے ٹھکانوں کی نشاندہی ہے۔

پینٹاگون کے نیوی کیپٹن جیف ڈیوس نے یہ بھی بتایا کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ (AQAP) کے اہداف کو نشانہ بنانے کے عمل میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ مسلح جنگجووں کو حکومتی اور عرب اتحادیوں کی افواج پر کم سے کم حملوں کا موقع مل سکے۔ زمینی معلومات کی بنیاد پر ڈرونز حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔ جیف ڈیوس کے مطابق مختصر تعداد میں جو امریکی فوجی یمن میں تعیینات ہیں، وہ بنیادی طور پر متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کی معاونت میں مصروف ہیں۔

Kämpfe im Jemen

جنوبی یمن میں حکومتی فوج کو اماراتی فوج کا مکمل عملی تعاون حاصل ہے

گزشتہ ایک دو ہفتوں کے دوران منصور ہادی کی افواج نے متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کی مدد سے ساحلی شہر المکلا کو جہادیوں کے قبضے سے بازیاب کرایا تھا۔ اسی عرصے میں دس جہادی کمانڈروں کو ڈرون حملوں میں ہلاک بھی کیا گیا۔ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق یمن میں کسی بندرگاہ پر عسکریت پسند قابض ہوں یہ امریکی اور خطے کے مفاد کے منافی ہے۔ پینٹاگون نے یہ تو بتایا کہ امریکی فوجی اماراتی فوجیوں کو خفیہ معلومات یقینی طور پر فراہم کر رہے ہیں لیکن اِس مناسبت سے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا امریکی فوجی کس اسپیشل آپریشنز یونٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔

قبل ازیں پینٹگون نے یہ ضرور کہا تھا کہ اسپیشل آپریشنز فورسز کے ایک سو اہلکار یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدر منصور ہادی کی افواج کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اُن کو جنگی حکمت عملی مرتب کرنے میں مشورہ دے رہے تھے لیکن حکومت کے زوال کے بعد انہیں واپس طلب کر لیا گیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق القاعدہ کی ذیلی شاخ نے ہادی حکومت اور حوثی شیعہ ملیشیا کے درمیان لڑائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنوبی یمن کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ ان میں بندرگاہی شہر المکلا بھی شامل تھا۔ اِس قبضے پر امریکا کو تشویش تھی کیونکہ اُس کا اہم جنگی بحری جہاز یو ایس ایس باکسر اور دو ڈیسٹرائر بھی اِس بندرگاہ کے قریبی سمندری علاقے میں موجود ہیں۔

DW.COM

اشتہار