یمن: حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان قیدیوں کی رہائی پر اتفاق | حالات حاضرہ | DW | 28.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یمن: حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان قیدیوں کی رہائی پر اتفاق

یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان تبادلے کے تحت تقریبا ایک ہزار قیدیوں کی رہائی پر اتفاق ہو گيا ہے۔ فریقین کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں ایک دوسرے سے بر سرپیکارگروپوں نے اتوار 27 ستمبر کو تبادلے کے تحت قیدیوں اور حراست میں لیے گئے ایک ہزار افراد کو رہا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں یمن کی تسلیم شدہ حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان اقوام متحدہ کی نگرانی میں سوئٹزر لینڈ میں بات چیت چل رہی تھی جس کے اختتام پر فریقین نے اس معاہدے پر اتفاق کیا۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر مارٹن گریفتھ نے ایک بیان میں کہا، ''آج کا دن ان ایک ہزار خاندانوں کے لیے بہت اہم ہے جو امید ہے کہ اپنے لواحقین اور پیاروں کا بہت ہی جلد پھر سے خیر مقدم کر سکیں گے۔'' حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان 2014 سے جنگ جاری ہے اور اس دوران بھی فریقین میں کبھی کبھی قیدیوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے تاہم اس معاہدے کے تحت دونوں جانب کے 1081 قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ ہوا ہے جو قیدیوں کی رہائی کا اب تک سب سے بڑا معاہدہ ہے۔

انسان دوست پیش رفت

حوثی باغیوں سے وابستہ ایک افسر نے میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ فریقین کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ آئندہ ماہ اکتوبر کے وسط سے شروع ہوگا۔ حوثی خیمے میں جنگی قیدیوں کی کمیٹی کے سربراہ  عبدالقادر مرتضی کا کہنا تھا، ''اس مسئلے پر چار دور کے مذاکرات کے بعد قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ، اس پر جمی برف توڑنے کی سمت میں ایک اہم قدم کے طور دیکھا جا رہا ہے۔''

ویڈیو دیکھیے 02:20

فاقہ کشی کا شکار یمنی بچے

یمن کے وزیر خارجہ محمد الحظرمی نے بھی ''انسان دوست پیش رفت'' بتا کر اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ البتہ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں یہ بھی کہا کہ ''حکومت کا مطالبہ ہے کہ اس معاہدے پر بغیر کسی تاخیر اور رخنہ اندازی کے عمل کیا جائے۔'' 

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یمنی حکومت کے ایک وفد کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس معاہدے میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ یمن کی حکومت حوثی باغیوں کے 681 قیدی رہا کرے گی جس کے بدلے میں حوثی باغی، حکومت اور اس کے عسکری حلیفوں کے 400 فورسز کو رہا کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق اس فہرست میں 15 سعودی اور چار سوڈانی شہری بھی شامل ہیں۔

 خیال رہے کہ یمن پچھلے پانچ برسوں سے جنگ کی مار جھیل رہا ہے۔ وہاں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اس حکومت کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔  پچھلے پانچ برسوں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ تشدد کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

ص ز/ ج ا  (اے ایف پی، ڈی پی اے)

ویڈیو دیکھیے 01:59

جنگ کے متاثرہ یمنی بچوں کے لیے روٹی

DW.COM