یمنی صدر صالح ’شدید زخمی ہیں‘ | حالات حاضرہ | DW | 08.06.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

یمنی صدر صالح ’شدید زخمی ہیں‘

امریکی حکام کے مطابق سعودی عرب میں زیرِ علاج یمنی صدر علی عبداللہ صالح اندازوں سے کہیں زیادہ زخمی حالت میں ہیں، اور ان کا 40 فیصد جسم یمن میں حملے کی وجہ سے جلا ہوا ہے۔

یمنی صدر علی عبداللہ صالح

یمنی صدر علی عبداللہ صالح

صنعاء یمنی حکومت کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں زیرِ علاج یمنی صدر علی عبداللہ صالح اندازوں کے برخلاف شدید زخمی ہیں، اور یہ کہ ان کا چالیس فیصد جسم جل چکا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے صنعاء میں صالح کے صدارتی محل پر یمنی باغیوں نے راکٹوں سے حملہ کیا تھا جس میں صدر صالح اور حکومت کے کئی اعلیٰ اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ صدر صالح چند روز قبل علاج کی غرض سے سعودی عرب چلے گئے تھے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ صدر صالح کی یمن میں واپسی اب شاید ممکن نہ ہو۔ ان پر اقتدار چھوڑنے کے لیے اندرونی اور بیرونی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

یمن میں کئی ماہ سے جاری مظاہروں اور خانہ جنگی کے بعد جب صدر صالح سعودی عرب روانہ ہوئے تو حزبِ اختلاف اور مظاہرین نے دارالحکومت صنعاء میں جشن منایا۔

NO FLASH Jemen Proteste Demonstrationen gegen die Regierung

کئی ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں نے یمن کو ہلا کے رکھ دیا ہے

پیر کے روز امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے ایک مرتبہ پھر یمنی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ پر امن انتقالِ اقتدار کو ممکن بنائیں۔ برطانوی حکومت کی جانب سے بھی اسی طرح کے بیانات سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب سعودی حکومت نے یمن کے جنوبی علاقوں میں القاعدہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش اور پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ یمن کے جنوبی علاقوں میں حکومتی فورسز اور القاعدہ کے مسلح کارکنوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

اس صورتِ حال میں عرب ریاستوں کے علاوہ مغربی ممالک یمن کے بحران کے فوری حل کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM