ہیوسٹن: ٹرمپ مودی قربتیں اور کشمیر پر احتجاج | حالات حاضرہ | DW | 22.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ہیوسٹن: ٹرمپ مودی قربتیں اور کشمیر پر احتجاج

امريکی صدر ٹرمپ اتوار کو ہيوسٹن ميں بھارتی وزير اعظم کے ايک جلسے ميں شرکت کر رہے ہيں۔ اس موقع پر امريکا ميں مقيم پاکستانی اور کشمیری کميونٹی بھرپور احتجاج کا ارادہ رکھتی ہے۔

امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزير اعظم نريندر مودی دونوں اپنے اپنے ملکوں میں اکژیت کے قوم پرستانہ جذبات کی نمائندگی  کرتے ہوئے اقتدار میں آئے۔ دونوں کے طرز عمل ميں بھی کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں  ٹوئٹر پر بڑے فعال ہيں اور اکثر اوقات اہم اعلانات اسی پليٹ فارم پر کرتے ہيں۔ 

اتوار کو دونوں امريکی رياست ٹيکساس کے شہر ہيوسٹن ميں اکھٹے ہو رہے ہيں۔ امريکا ميں تعينات بھارتی سفير ہرشا وردھان شرنگلا کے مطابق يہ جلسہ ايک نئی روايت قائم کرے گا۔ 

اس رنگا رنگ تقريب کا انعقاد ہيوسٹن کے ايک فٹ بال اسٹيڈيم ميں ہو رہا ہے۔ منتظمين کو تقريباً پچاس ہزار بھارتی نژاد امريکی شہريوں کی شرکت کی توقع ہے۔ ’ہاؤڈی مودی‘ کے نام سے سجنے والے اس ميلے کو امريکا ميں کسی غير ملکی رہنما کا سب سے بڑا اجتماع کہا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا کيا فائدہ؟

امريکی صدر ويسے تو بڑے بڑے اجتماعات کی شکل ميں اپنی مقبوليت دکھانے کے شوقين ہيں ليکن انہيں کثير الثقافتی معاشرے يا پھر امريکی سرزمين پر غير ملکيوں کے حامی کے طور پر نہيں ديکھ جاتا۔ اميگريشن پر سخت گير موقف ان کی سياست کا اہم جزو ہے۔ تو پھر کيا ہے جو انہيں مودی کی اس ريلی کی طرف لا رہا ہے؟

امريکا ميں آئندہ انتخابات چودہ ماہ ميں متوقع ہيں۔ ہيوسٹن مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کا شہر مانا جاتا ہے اور ٹرمپ کی کوشش ہے کہ وہاں قدم جمائے جائيں اور ساتھ ہی امريکا ميں تقريباً چار ملين بھارتی کميونٹی کی حمایت حاصل کی جائے۔

کشمير کتنا اہم؟

بھارت کے زير انتظام کشمير ميں مودی حکومت کے حاليہ اقدامات پر مختلف حلقوں کی طرف سے مذمت جاری ہے۔ پاکستانی وزير اعظم عمران خان کے ساتھ صدر ٹرمپ نے بارہا کشمير پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں۔ لیکن  بھارت کا موقف ہے کہ کشمير اس کا داخلی معاملہ ہے، جس پر کسی پر ثالثی کی گنجائش نہيں۔ بعض حلقوں کے نزدیک يہ مشترکہ ريلی اس بات کا  ثبوت ہے کہ  کشمیر کے معاملے پر دونوں رہنماؤں میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں اور وہ ایک دوسرے کے حامی ہیں۔ 

دوسری جانب ’ہاؤڈی مودی‘ کے موقع پر امريکا ميں مقيم کشمیری اور پاکستانی نژاد لوگ احتجاج کا ارادہ بھی رکھتے ہيں۔ ڈی ڈبليو کی نھمہ نگار مونا کاظم نے ڈيلس سے بتايا کہ ريلی کے مقام پر احتجاج کے ليے امريکا کے مختلف حصوں سے پاکستانی وفود ہيوسٹن کا رخ کر رہے ہيں۔ بعض اندازوں کے مطابق مظاہرين کی تعداد  ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔

ع س / ش ج، نيوز ايجنسياں