ہوش ربا انکشافات: اقوام متحدہ کی نئی عالمی ماحولیاتی رپورٹ | سائنس اور ماحول | DW | 29.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

ہوش ربا انکشافات: اقوام متحدہ کی نئی عالمی ماحولیاتی رپورٹ

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الحکومتی پینل نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بہت سے پریشان کن انکشافات کیے ہیں۔ ان میں عالمی سمندروں کی سطح میں ایک میٹر تک اضافہ اور بار بار آنے والے سپر طوفان بھی شامل ہیں۔

’آئندہ ہر سال کئی کئی بار آنے والے سپر طوفان آج کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ تباہ کن ہوں گے‘

’آئندہ ہر سال کئی کئی بار آنے والے سپر طوفان آج کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ تباہ کن ہوں گے‘

فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے جمعرات انتیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی اےا یف پی کی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الحکومتی پینل (IPCC) نے اپنی ایک ایسی اسپیشل رپورٹ کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جو باقاعدہ طور پر اگلے ماہ کی 25 تاریخ کو موناکو میں پیش کی جائے گی۔

اس رپورٹ کے مسودے میں خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگلی چند صدیوں میں کرہ ارض پر انسانوں کو خود کو کئی طرح کے بہت شدید اور تباہ کن حالات کے لیے تیار رکھنا ہو گا۔ اس دوران عالمی سمندر، زمین کے برف پوش خطے اور چھوٹی چھوٹی جزیرہ ریاستیں بہت بڑی بڑی تبدیلیوں سے گزریں گے۔

Indien Ghoramara Island

’عالمی سمندروں کی سطح ایک میٹر تک بڑھ سکتی ہے، جو 28 کروڑ انسانوں کے بے گھر کر دے گی‘

'پھر کوئی ازالہ ناممکن ہو گا‘

آئی پی سی سی کی اس اسپیشل رپورٹ کے مطابق، ''زمین پر انسانوں کی اس سیارے کو مسلسل گرم کرتی جا رہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مسلسل اخراج کی عادت کئی طرح کے تباہ کن نتائج کا سبب بن رہی ہے۔ ان میں عالمی سمندروں کی سطح میں وہ اضافہ بھی شامل ہے، جس کا پھر کبھی کوئی تدارک نہیں کیا جا سکے گا۔‘‘

اس کے علاوہ اس خصوصی رپورٹ میں یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ حالانکہ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کو زیادہ سے زیادہ بھی صرف دو ڈگری سینٹی گریڈ تک روکے رکھنے کا تخمینہ بھی بہت ہی مثبت پسندی کی علامت ہے، تاہم یہ تبدیلی بھی ماحولیاتی تباہی کے باعث اب تک کے نقصانات کے مقابلے میں آئندہ عشروں میں 100 گنا زیادہ نقصانات کا باعث بنے گی۔

Infografik If these ice masses melted, sea level would rise ... EN

28 کروڑ انسان بے گھر

اس کی ایک مثال یہ کہ آنے والے عشروں میں عالمی سمندروں کی سطح میں اضافہ ایک میٹر تک ہو سکتا ہے، جو 280 ملین انسانوں کے بے گھر ہو جانے کا سبب بنے گا اور دنیا کی بہت سی چھوٹی چھوٹی جزیرہ ریاستیں شدید تر نقصانات کا سامنا کریں گی کیونکہ تب یہ جزیرے مکمل یا جزوی طور پر سمندر میں ڈوب جائیں  گے۔

جہاں تک زمین کے قطبی حصوں میں برف کی بہت موٹی تہہ کے بڑی تیز رفتاری سے پگھلتے جانے کا تعلق ہے، تو کرہ ارض کا یہ حصہ، جو 'کرائیوسفیئر‘ کہلاتا ہے، انسانوں کی پیدا کردہ عالمی حدت کا بری طرح نشانہ بنے گا۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ زمین کے برف پوش خطوں میں آج بھی سالانہ 400 بلین ٹن سے زیادہ برف پگھل کر ختم ہو رہی ہے۔

Projekt: Vermessung der südamerikanischen Gletscher der Friedrich-Alexander-Universität Erlangen-Nürnberg

زمین کے برف پوش خطوں میں آج بھی سالانہ 400 بلین ٹن سے زیادہ برف پگھل کر ختم ہو رہی ہے

ہر سال بار بار سپر طوفان

ان حالات میں مستقبل میں بڑے بڑے پہاڑی گلیشیئر بھی ختم ہو جائیں گے اور یوں انسانیت پینے کے صاف پانی کے سب سے بڑے قدرتی ذرائع سے محروم بھی ہو سکتی ہے۔ تازہ اور میٹھے پانی کی یہ قلت عالمی سطح پر کشیدگی اور تنازعات کو بھی جنم دے گی۔

اقوام متحدہ کے اس ماحولیاتی پینل نے خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ سن 2100 تک دنیا میں ہر سال اتنی زیادہ تعداد میں اور انتہائی تباہ کن سپر طوفان اور سیلاب آنے لگیں گے کہ ان کی وجہ سے ہونے والی تباہی آج تک کی سالانہ اوسط کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ تک ہو سکتی ہے۔

م م / ک م / اے ایف پی

DW.COM