ہوائی اڈوں کا انتظام، طالبان کی امارات کے ساتھ ڈيل | حالات حاضرہ | DW | 24.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ہوائی اڈوں کا انتظام، طالبان کی امارات کے ساتھ ڈيل

کئی ماہ سے جاری مذاکرات کے بعد طالبان نے تصديق کر دی ہے کہ عنقريب متحدہ عرب امارات کے ساتھ ايک ڈيل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جس کے تحت افغانستان کے ہوائی اڈوں کے انتظامات امارات کے سپرد کر ديے جائيں گے۔

افغان طالبان عنقريب متحدہ عرب امارات کے ساتھ ايک معاہدے کو حتمی شکل ديں گے، جس کے تحت افغانستان ميں ہوائی اڈوں کا انتظام امارات کو سونپ ديا جائے گا۔ طالبان کے نائب وزير اعظم ملا عبدالغنی برادر نے ايک ٹويٹ ميں اس سمجھوتے کی تصديق کی اور بعد ازاں منگل کو کابل ميں رپورٹرز کو بھی بتايا کہ امارات کے ساتھ ايک معاہدہ از سر نو تشکيل ديا جا رہا ہے۔

افغانستان میں خواتین اینکرز چہرہ ڈھانپنے پر مجبور

لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، طالبان میں تقسیم کا باعث

افغانستان کو تشدد کی نئی لہر کا سامنا

يہ پيشرفت طالبان کے امارات، ترکی اور قطر کے ساتھ کئی ماہ تک مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ فوری طور پر يہ واضح نہيں کہ معاہدے ميں کيا کيا شامل ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے اس معاہدے کی تصديق فی الحال نہيں ہو پائی ہے۔ اس مذاکراتی عمل سے واقف ايک ذريعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتايا کہ بات چيت کے دوران ايک اہم معاملہ قطر کا يہ مطالبہ تھا کہ اس کے سکيورٹی دستے ہوائی اڈے پر موجود ہوں۔

افغانستان ميں طالبان کی عمل داری کے بعد قطر اور ترکی کی ٹيکنيکل ٹيميں ہوائی اڈے کے آپريشنز اور سکيورٹی امور کا معائنہ کرنے کے ليے افغانستان کا دورہ بھی کر چکی ہيں۔ يہ اسی وقت کی پيش رفت ہے جب بين الاقوامی افواج افغانستان چھوڑ رہی تھيں۔

ہوائی اڈے کے امور سنبھالنے کے ليے مذاکراتی عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح مختلف بين الاقوامی قوتيں افغانستان ميں اثر ر رسوخ قائم کرنے کی دوڑ ميں لگی ہوئی ہيں۔ گو کہ طالبان کئی متنازعہ اقدامات و اعلانات کی بنياد پر شديد تنقيد کی زد ميں ہے اور اسے بين الاقوامی اداروں کی جانب سے مدد کی اميد کم ہی ہے۔ اب تک کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسليم نہيں کيا ہے۔ خواتين کے حقوق پر قدغنوں اور سلامتی کی صورتحال کے پيش نظر مستقبل قريب ميں بھی اس کی اميد کم ہی ہے۔

ع س / ر ب (روئٹرز)