ہنگری میں مہاجرین کے درمیان لڑائی، نو زخمی | مہاجرین کا بحران | DW | 18.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ہنگری میں مہاجرین کے درمیان لڑائی، نو زخمی

ہنگری میں مہاجرین کے درمیان لڑائی کے ایک واقعے میں نو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ ہنگری اور سربیا کی سرحد پر واقع مہاجرین کے ایک رجسٹریشن سینٹر پر پیش آیا۔

پیر کے روز سامنے آنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ اتوار کی شام پیش آیا۔ ہنگری کے صدر وکٹور اوربان کے سیکورٹی مشیر گیورگی باکونڈی کے مطابق مہاجرین کے رجسٹریشن سینٹر میں مہاجرین کے دو گروہوں کے درمیان اچانک جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونے والے نو میں سے آٹھ مہاجرین کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

باکونڈی نے بتایا کہ یہ واقعہ ہنگری کے جنوبی سرحدی علاقے کیشُنہالاس میں پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جھگڑے میں دو مہاجرین آپس میں دست و گریبان ہو گئے تھے۔ فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس جھگڑے کی وجہ کیا بنی، تاہم حکومتی بیان کے مطابق اس لڑائی کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری بھیجی گئی، جس نے حالات پر فوراﹰ قابو پا لیا۔

Ungarn Victor Orban

وکٹور اوربان جرمن چانسلر کو بھی مہاجرین دوست پالیسی پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں

باکونڈی نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں اس کیمپ میں اس طرز کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس سلسلے میں مزید وضاحت نہیں کی۔

یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ برس ایک ملین سے زائد مہاجرین نے ہنگری ہی کے ذریعے مغربی یورپ میں پناہ لی تھی اور اسے بلقان سے مغربی یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین کے لیے ایک اہم راستہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم وزیراعظم وکٹور اوربان مہاجرین کے سخت مخالف ہیں اور کئی مرتبہ یورپی یونین سے مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کے مطالبات کر چکے ہیں۔

یورپی یونین کی جانب سے مہاجرین کی تقسیم سے متعلق فارمولے پر بھی اوربان ملک میں ایک ریفرنڈم کا اعلان کرا چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ملکی عوام نے مہاجرین کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، تو وہ یورپی یونین کی جانب سے پیش کردہ اس فارمولے کو مسترد کر دیں گے۔

اشتہار