ہنگری، اسمگلروں کے بین الاقوامی گروہ کے تین ارکان گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 30.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہنگری، اسمگلروں کے بین الاقوامی گروہ کے تین ارکان گرفتار

ہنگری میں شام سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو نصف ملین یورو اسمگل کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ یہ افراد مبینہ طور پر انسانوں کی اسمگلنگ کے ایک بین الاقوامی گروہ کا حصہ ہیں۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ہنگری کی پولیس کی جانب سے کی گئی اس کارروائی میں خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاریاں اطالوی سکیورٹی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں کی گئی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ تینوں شامی باشندے مبینہ طور پر منشیات اور انسانوں کی اسمگلنگ کے ایک بین الاقوامی گروہ کا حصہ تھے۔ تاہم یہ لوگ اس گروہ کے لیے پیسے اسمگل کرنے کا کام سرانجام دیتے تھے۔

ویڈیو دیکھیے 01:28
Now live
01:28 منٹ

سرحد پار کرنے کی کوشش ’مہنگی‘ پڑ سکتی ہے

ہنگری کی پولیس نے ان افراد کی گرفتاری کے بارے میں معلومات آج تیس نومبر بروز جمعرات پر جاری کی ہیں۔ ان افراد کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ان افراد کے قبضے سے نصف ملین یورو نقدی برآمد کی گئی۔ اسمگلروں کے زیر قبضہ اس رقم میں سے دو لاکھ یورو کے بینک نوٹوں کے سیریل نمبروں کو متعلقہ یورپی حکام نے بلاک کر رکھا تھا۔ علاوہ ازیں ان شامی باشندوں کے پاس تین کلوگرام وزن کے برابر سونے کے زیورات بھی تھے۔

انٹرپول کی کارروائی، اسمگلروں کی قید سے 500 افراد رہا

اطالوی حکام کے مطابق اسمگلروں کا یہ بین الاقوامی گروہ انسانوں اور منشیات کی اسمگلنگ کے علاوہ غیر قانونی اسلحے کی خرید و فروخت کا کاروبار بھی کرتا ہے۔ اطالوی شہر میلان کی ایک عدالت نے اس گروہ کے مزید تیرہ مفرور ارکان کی جلد از جلد گرفتاری کے احکامات بھی جاری کر رکھے ہیں۔ حکام کے مطابق ہنگری سے گرفتار کیے گئے یہ تینوں شامی شہری مبینہ طور پر انسانوں اور منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے اسی جرائم پیشہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic