’ہنر مند تارکین وطن کو جرمنی سے نہیں نکالا جائے گا‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 24.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

’ہنر مند تارکین وطن کو جرمنی سے نہیں نکالا جائے گا‘

جرمنی کو ہنرمند مزدوروں کی اشد ضرورت ہے اور اسی لیے سیاسی پناہ کے ایسے کئی درخواست گزار ہیں، جنہیں ان کی ہنرمندی کی وجہ سے جرمنی میں قبول کیا گیا ہے۔

جرمنی میں دست کاری کی صنعتوں کی مرکزی تنظیم کے صدر ہانز پیٹر وولزائفر کا کہنا ہے کہ جرمنی میں بہت سے تارکین وطن کو ان کی ہنرمندی کی وجہ سے قبول کیا گیا ہے، جب کہ ملک میں ہنرمند مزدوروں کی قلت کی وجہ سے بہت سے تارکین وطن، جو اس وقت جرمنی میں موجود ہیں اور مختلف شعبہ ہائے جات کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے بھی جگہ موجود ہے۔

جرمن کابینہ نے امیگریشن قوانین کی منظوری دے دی

’پاکستان ہنر مند افراد کو قانونی طور پر جرمنی بھیجنے کا خواہش مند‘

وولزائفر کے مطابق جرمنی کو ایسے تارکین وطن کی اشد ضرورت ہے، جو جرمن زبان جانتے ہیں، معاشرتی انضمام میں مسائل کے شکار نہ ہوں اور ہنرمند ہوں، ’’ایسے افراد کو ہم کیوں واپس بھیجیں گے؟ واپس انہیں بھیجا جا رہے ہے، جو ہنرمند نہیں اور جن کا معاشرتی انضمام آسان نہیں۔ ایسے افراد ہمیں جن کی ضرورت ہے، انہیں جرمنی میں رکھا جانا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اگر کوئی راستہ اپنایا جاتا ہے، یعنی ہنرمند افراد کو اگر جرمنی سے نکالا جاتا ہے، تو یہ ایک ’پاگل پن‘ ہو گا۔

دست کاری کی صنعت رواں برس سیاسی پناہ کے 16 ہزار متلاشی افراد کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کر رہی ہے، جب کہ گزشتہ برس یہ تعداد گیارہ ہزار تھی۔

دست کاری کی صنعتوں کی مرکزی  تنظیم کے صدر وولزائفر کا مزید کہنا تھا، ’’میں آپ کو اپنے ذاتی تجربے سے بتا سکتا ہوں اور یہ بات میں نے سنی بھی ہے کہ یہ تارکین وطن دست کاری کی صنعت میں نہایت دل چسپی سے کام کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اسے نادر موقع سمجھتے ہیں اور یہ اس کا فائدہ اٹھانا اور جرمنی میں بسنا چاہتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ جرمنی کی وفاقی کابینہ نے کچھ نئے ضوابط متعارف کروائے ہیں، جن کے تحت انتہائی باہنر افراد کے لیے جرمنی میں قیام کی راہ ہم وار کی گئی ہے۔ ان ضوابط کے تحت سیاسی پناہ کے متلاشی باہنر افراد کو کام کی اجازت دی جائے گی اور ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں کی جانچ پڑتال کے وقت ان کی ہنرمندی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

ع ت، الف الف (ڈی پی اے)

DW.COM