’ہندووں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے پر‘ امیتابھ بچن کے خلاف معاملہ درج | حالات حاضرہ | DW | 03.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’ہندووں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے پر‘ امیتابھ بچن کے خلاف معاملہ درج

بھارت میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما نے ہندووں کے مبینہ مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں بالی ووڈ کے مشہور اداکار امیتابھ بچن کے خلاف معاملہ درج کرایا ہے۔

حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قانون ساز ابھیمنیو پوار نے ہندووں کے مبینہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے الزام میں بالی ووڈ کے مشہور اداکارامیتابھ بچن اور سونی انٹرٹینمنٹ چینل کے خلاف ریاست مہاراشٹر کے لاتور شہر میں معاملہ درج کرایا ہے۔ اسی سلسلے میں لکھنؤ میں بھی ایک معاملہ درج کرایا گیا ہے۔

معاملہ کیا ہے؟

امیتابھ بچن مقبول بھارتی ٹیلی ویزن گیم شو 'کون بنے گا کروڑپتی‘ کی میزبانی کرتے ہیں۔ اسے سونی انٹرٹینمنٹ چینل پر نشر کیا جاتا ہے۔ 30 اکتوبر کو 'کون بنے گا کروڑپتی 12‘ کا ایک خصوصی ایپیسوڈ نشر کیا گیا تھا۔ اس میں فلم اداکار انوپ سونی اور سر پرانسانی فضلہ ڈھونے کی لعنت کو ختم کرانے کے لیے سرگرم سماجی کارکن بیج واڈا ولسن مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔

امیتابھ بچن نے گیم شو کے دوران ایک امیدوار سے سوال پوچھا”25دسمبر 1927کو ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر اور ان کے حامیوں نے کس مذہبی کتاب کو نذر آتش کیا تھا؟"  جواب کے لیے چار متبادل دیے گئے تھے  '(a) وشنو پران (b) بھگوت گیتا(c) گ وید(d)منو سمرتی‘۔

امیدوار کی جانب سے اس سوال کا جواب دینے کے بعد امیتابھ بچن نے ناظرین کے علم میں اضافہ کے لیے بتایا کہ 1927میں ڈاکٹر بی آر امبیڈ کر نے ذات پات کی بنیاد پر تفریق کرنے اور چھوا چھوت کو نظریاتی طور پر درست قرار دینے والی قدیم ہندو مذہبی کتاب منوسمرتی کی مذمت کی تھی اور انہوں نے اس کے بقول جلائے تھے۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر امبیڈکر کو بھارت کا آئین ساز کہا جاتا ہے۔ وہ بھارتی آئین تیار کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ وہ پیدائشی لحاظ سے ہندوں کے نچلی ذات سے تعلق رکھتے تھے تاہم اپنے ساتھ ہونے والی تفریق سے ناراض ہوکر انہوں نے بعد میں اپنے حامیوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ بدھ مذہب اختیار کرلیا تھا۔

'مذہبی جذبات مجروح‘

بی جے پی کے رکن اسمبلی ابھیمنیو پوار نے لاتور پولیس میں درج کرائی گئی اپنی شکایت میں کہا ہے کہ سونی ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام 'کون بنے گا کروڑپتی'میں امیتابھ بچن کے اس سوال سے ہندووں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ سوال کے چاروں متبادل جواب میں ہندووں کے مذہبی کتابوں کے نام لیے گئے تھے۔ اگر ان کا مقصد درست ہوتا تو انہیں چار متبادل میں الگ الگ مذہبی کتابوں کے نام دینے چاہیے تھے۔ لیکن انہوں نے صرف ہندو مذہبی کتابوں کا ہی ذکر کیا اور ایسا کر کے امیتابھ بچن نے ہندووں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہندو اور بدھ مت ماننے والوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔

فلم ساز وویک اگنی ہوتری نے بھی ایک ٹوئٹ کرکے الزام لگایا کہ اس شو پر کمیونسٹوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ شدت پسند تنظیم اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے اترپردیش یونٹ کے صدر رشی کمار ترویدی نے بھی اس شو کے خلاف لکھنؤ میں شکایت درج کرائی ہے۔

سوشل میڈیا پر بحث شروع

اس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث گرم ہوگئی ہے۔  ایک صارف نے لکھا”کے بی سی کا نام بدل کر اب 'کون بنے گا کمیونسٹ‘ کردیا جائے۔"

دوسری طرف متعدد صارفین امیتابھ بچن کے دفاع میں بھی اتر آئے ہیں۔ ایک صارف نے ٹوئٹ کیا ”یہ محض جنرل نالج کا سوال تھا۔ اس سوال میں غلط بات کیا ہے۔ آج بہت سے بھارتی اس حقیقت سے نا واقف ہیں۔"  ایک اور صارف کا کہنا تھا ”منو سمرتی کو جلانا درحقیقت ایک شاندار انقلابی عمل تھا۔ ذات پات کا جتنا جلد سے جلد خاتمہ ہو، اتنا ہی بہتر ہوگا۔"

ایک دیگر صارف نے لکھا”کیا بکواس ہے!! منوسمرتی تفریق کا مینارہ ہے اور دلتوں کو آج بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ کے بی سی آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس موضوع پر بیداری پیدا کی۔  ایک اور صارف کا کہنا تھا”تبصرہ کرنے سے پہلے منوسمرتی پڑھ لیں۔ کے بی سی کی حمایت، بائیکاٹ نہیں۔"

دریں اثنا گلوکارہ سونا موہاپاترا بھی اس تنازعہ میں کود پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ بھی منو سمرتی کے نقول جلادیں گی۔

 سونا موہا پاترا نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا”اگر مجھے بھی موقع ملا تو میں بھی منو سمرتی کی کاپیاں جلادوں گی۔ کچھ بے وقوف لوگوں کی طرف سے ایف آئی آر درج کرانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کچھ لوگ فرانس کے واقعے کا موازنہ اس سے کررہے ہیں۔ کیا یہ مذاق نہیں ہے؟"

گیم شو 'کون بنے گا کروڑ پتی‘ 2000میں شروع ہوا تھا اور امیتابھ بچن اس وقت سے اس کی میزبانی کررہے ہیں۔ اس دوران یہ شو پہلے بھی کئی مرتبہ تنازعات کا شکار ہوچکا ہے۔ 2019 میں بھی ایک سوال کی وجہ سے امیتابھ بچن کو کافی نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے امیدوار سے پوچھا تھا کہ”مغل بادشاہ اورنگزیب کا ہم عصر بادشاہ میں کون تھا؟"  اس کے چار متبادل جوابات دیے تھے مہارانا پرتاپ، رانا سانگا، مہاراجہ رنجیت سنگھ، شیواجی۔ بعض لوگوں کو شکایت تھی کہ امیتابھ بچن نے شیوا جی کانا م ان کے لقب'چھترپتی شیواجی مہاراج"  کے ساتھ کیوں نہیں لکھا۔

ہنگامہ بڑھ جانے کے بعد امیتابھ بچن کولوگوں سے معافی مانگنی پڑی تھی۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات