ہم خود مختاری چاہتے ہیں، کرزئی کا لویہ جرگے سے خطاب | حالات حاضرہ | DW | 16.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ہم خود مختاری چاہتے ہیں، کرزئی کا لویہ جرگے سے خطاب

افغان صدر حامد کرزئی نے کابل میں جاری چار روزہ لویہ جرگہ کے پہلے دن شرکاء سے خطاب میں امریکہ کے ساتھ طویل المدتی بنیادوں پر تعاون کے لیے اپنی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل حکومت آج ہی خودمختاری چاہتی ہے۔

default

افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء کے بعد کی صورتحال پر عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے یہ جرگہ بلوایا ہے۔ اس دوران حامد کرزئی مستقبل میں امریکی حکومت کے ساتھ تعاون اور باہمی تعلقات کے حوالے سے بنائی گئی اپنی پالیسی پر قبائلی عمائدین اور رہنماؤں سے مشاورت کر رہے ہیں۔

امریکی فوجی دستے 2014ء کے اواخر تک افغانستان سے مکمل طور پر نکل جائیں گے۔ کئی سیکورٹی ماہرین کے بقول افغان حکومت اتنی مضبوط نہیں ہے کہ وہ طالبان باغیوں کی شورش کے دوران ملکی سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔

Flash-Galerie Loja Dschirga

چار روزہ لویہ جرگہ میں دو ہزار سے زائد افراد شریک ہیں

بدھ کو شروع ہونے والے اس جرگے میں افغان صدر حامد کرزئی نے دو ہزار قبائلی رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئےکہا، ’ہم قومی خود مختاری چاہتے ہیں۔ ہم یہ آج ہی چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ واشنگٹن حکومت کے ساتھ باہمی احترام کا رشتہ چاہتے ہیں۔ روایتی گرینڈ جرگے میں افغانستان میں موجودہ امریکی کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی ان کے ملک میں راتوں کو چھاپے مارنا ختم کرے۔

حامد کرزئی نے کہا کہ کابل حکومت وہاں امریکی افواج کی تعیناتی کے لیے طویل المدتی پروگرام کے حق میں ہے، ’اگر امریکہ یہاں فوجی اڈے بنانا چاہتا ہے تو ہم اس بات کی اجازت دیتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے مفاد میں ہے۔ اس سے افغان فوجی دستے تربیت حاصل کر سکیں گے‘۔ انہوں نے مزید کہا، ’امریکہ طاقتور ہے، امریکہ امیر ہے اور امریکہ ایک بڑا ملک ہے لیکن ہم بھی شیر ہیں‘۔

حامد کرزئی نے شرکاء پر زور دیا ہے کہ وہ اس چار روزہ جرگے کے دوران یکسوئی اور سنجیدگی کے ساتھ مستقبل کے افغانستان کے لیے پالیسی سازی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کا مستقبل اس وقت تک نہیں سنور سکتا جب تک افغان رہنما خود اس عمل میں اپنا کردار نہیں ادا کریں گے۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا ہے کہ افغان رہنماؤں کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری ہے اور مستقبل میں دونوں ممالک ایک حکمت عملی پر متفق ہو جائیں گے، ’ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں، جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہو۔ یہ بہتر ہے کہ اس عمل میں دیر ہو جائے لیکن یہ غلط نہیں ہونا چاہیے‘۔

دریں اثناء افغانستان میں اپوزیشن نے اس جرگے کے جائز ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کئی ممبر پارلیمان کا کہنا ہے کہ قومی مسائل پر پالیسی بنانے کے لیے پارلیمان ایک سپریم ادارہ ہے اور اس طرح کے جرگوں سے پارلیمان کا تقدس پامال ہوتا ہے۔

اس جرگے کے آغاز سے قبل کابل کو ایک آہنی قلعے میں بدل دیا گیا ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کئی اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ طالبان باغیوں نے کہا ہے کہ اس جرگے میں شامل ہونے والا ہر شخص قابل سزا ہے کیونکہ یہ جرگہ افغانستان میں امریکی افواج کو قیام کا ایک بہانہ مہیا کرےگا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار