ہم جنس پرستی پر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی سرعام بھیانک سزائے موت | معاشرہ | DW | 02.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ہم جنس پرستی پر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی سرعام بھیانک سزائے موت

دہشت گرد گروہ اسلامک اسٹیٹ نے شامی تاریخی شہر پالمیرا میں دو افراد کو ہم جنس پرستی میں ملوث ہونے پر ایک قریبی عمارت سے گرا کر سزائے موت دے دی۔

شامی شہر پالمیرا میں آدمیوں کا ایک ہجوم موجود تھا، جب ایک جج نے ہم جنس پرستی کے ’جرم‘ کے مرتکب دو افراد کو قریبی ہوٹل سے گرانے کی سزا سنائی تھی۔ سیاہ نقاب پہنے اس دہشت گرد کی خودساختہ خلافت سے وابستہ مسلح جہادی بھی موجود ہیں اور اس تنظیم کے زیرقبضہ علاقوں میں ہم جنس پرستی ایک گھناؤنا اور ناقابلِ معافی جرم‘ ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ جج ان دو ملزمان میں سے ایک سے پوچھتا ہے کہ آیا وہ اس سزا سے مطمئن ہے؟ کیوں کہ اسی طرح اس کے یہ گناہ دھُل سکیں گے۔

جواب میں 32 سالہ حواس مالا انتہائی بے بسی سے کہتا ہے، ’’زیادہ بہتر ہو گا کہ آپ میرے سر میں گولی مار کر مجھے ہلاک کر دیں۔‘‘

دوسرا ملزم 21 سالہ محمد سلامہ جج سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے کہتا ہے کہ’’ میں وعدہ کرتا ہوں کہ کبھی کسی آدمی کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کروں گا‘‘۔

رواں برس جولائی میں پیش آنے والے اس واقعے کا تفصیلی احوال اس عینی شاہد نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا۔

ایسے میں جج حکم دیتا ہے، ’’انہیں لے جاؤ اور عمارت کی چھت سے گرا دو۔‘‘

لمحوں میں نقاب پوش جہادی ان دونوں افراد کے ہاتھ پشت پر باندھ دیتے ہیں، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی جاتی ہیں اور انہیں قریب واقع چار منزلہ ہوٹل کی چھت کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔

یہ دہشت گرد تنظیم انسانوں کو قتل کرنے کے بھیانک طریقوں کی وجہ سے جانی جاتی ہے اور ماضی میں بھی متعدد افراد کو مختلف الزامات کے تحت انتہائی بھیانک سزائیں دے کر ان کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر پھیلا چکی ہے۔

گزشتہ برس کے وسط میں عراق اور شام کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے والی یہ دہشت گرد تنظیم اب تک کم از کم 36 افراد کو ہم جنس پرستی کے جرم میں سزائے موت دے جا چکی ہے۔ تاہم یہ بات اب تک واضح نہیں ہیں کہ مارے جانے والے ان افراد میں کتنے مرد تھے اور کتنی خواتین۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسلامک اسٹیٹ کے زیرقبضہ علاقوں میں ہم جنس پرست موت کی سزا کے خوف سے دوچار ہیں اور اس خودساختہ خلافت میں ان کے لیے کسی قسم کی کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔