1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ہم ابوبکر البغدادی کو خلیفہ نہیں مانتے، پاکستانی طالبان

امتیاز احمد19 دسمبر 2015

پاکستانی طالبان نے شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند گروہ داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ دنیا کے تمام مسلمانوں کا خلیفہ ہے۔ قبل ازیں افغان طالبان نے بھی ایسا ہی اعلان کیا تھا۔

https://p.dw.com/p/1HQVo
Irak - IS Führer Abu Bakr al-Baghdadi
تصویر: picture-alliance/AP Photo

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستانی طالبان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستانی طالبان کی طرف سے یہ بیان کے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اس سے پہلے افغان طالبان بھی اسی طرح کا ایک بیان جاری کر چکے ہیں اور افغان طالبان نے یہ پیغام اس وقت جاری کیا تھا، جب ان کی تحریک کے چند چھوٹے درجے کے کمانڈروں نے اختلافات کے بعد ابوبکر البغدادی کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ برس داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے خود کو خلیفہ قرار دیتے ہوئے ایک عالمی خلافت کے قیام کے لیے کوششیں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستانی طالبان کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’بغدادی خلیفہ نہیں ہے کیوں کہ اسلام کے مطابق خلیفہ وہ ہے، جس کی حکمرانی دنیا کے تمام مسلمانوں پر ہو لیکن بغدادی کی حکمرانی صرف مخصوص لوگوں اور مخصوص علاقے پر ہے۔‘‘

پاکستانی طالبان کے مطابق بغدادی اس وجہ سے بھی خلیفہ نہیں ہے کہ اس کا اپنا انتخاب بھی اسلامی قوانین کے تحت نہیں ہوا۔ گزشتہ برس پاکستانی طالبان کے بھی ناراض دھڑوں نے داعش کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور پورے خطے کے عسکریت پسندوں سے ان کا ساتھ دینے کی اپیل کی تھی۔ پاکستانی حکام کے مطابق داعش کے کسی بھی پاکستانی گروپ سے مالی تعلقات نہیں ہیں لیکن یہ خطرہ ضرور ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے بعد وہاں خلا پیدا ہو جائے گا اور اس کا فائدہ حقانی اور داعش ایسے گروپ اٹھا سکتے ہیں۔

گزشتہ ایک عرصے سے پاکستانی طالبان کے گروپوں میں بھی اندرونی اختلافات بڑھے ہیں۔ بااثر محسود قبائل کا گروپ سن 2013 میں سربراہ بننے والے ملا فضل اللہ کی حمایت سے انکار کرتا آ رہا ہے۔ اس تازہ ترین بیان میں افغان طالبان کی طرح پاکستانی طالبان نے بھی داعش کی کارروائیوں کو ’بربریت‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔ بیان کے مطابق، ’’بغدادی کی خلافت اسلامی خلافت نہیں ہے کیوں کہ صحیح خلافت درست انصاف فراہم کرتی ہے جبکہ بغدادی کے کارندے دوسرے گروپوں کے معصوم مجاہدین کو قتل کر رہے ہیں۔‘‘

قبل ازیں افغان طالبان نے کہا تھا کہ افغانستان میں ’صرف ایک جھنڈے اور ایک قیادت کی گنجائش ہے‘‘۔