گوگل کے سی ای او سندر پچائی پر بالی وڈ فلم کی مبینہ کاپی رائٹ خلاف ورزی کا کیس | فن و ثقافت | DW | 27.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

گوگل کے سی ای او سندر پچائی پر بالی وڈ فلم کی مبینہ کاپی رائٹ خلاف ورزی کا کیس

بالی وڈ کے ایک فلم ساز نے یوٹیوب پر اپنی فلم کی مبینہ کاپی رائٹ خلاف ورزی کے لیے سندر پچائی اور پانچ دیگر افراد کے خلاف کیس درج کرایا ہے۔

گوگل کے سی ای او سندر پچائی کو ایک روز قبل ہی بھارت کا تیسرا اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ 'پدَم بھوشن 'دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

بالی وڈ کے فلم ساز سنیل درشن نے گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے خلاف ممبئی پولیس میں درج کرائی گئی اپنی شکایت میں کہا ہے کہ انہوں نے سن 2017میں بنائی گئی اپنی فلم 'ایک حسینہ تھی ایک دیوانہ تھا'کے حقوق نہ تو کسی کو فروخت کیے تھے اور نہ ہی اس فلم کو جاری کیا تھا۔ لیکن یہ فلم یوٹیوب پر دکھائی جارہی ہے اور اب تک لاکھوں افراد اسے دیکھ چکے ہیں۔

 سنیل درشن نے دعویٰ کیا کہ ان کا مواد بڑی ''بے شرمی ‘‘کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے اور اب تک اربوں بار اس کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔ اور ان کی فلم کو غیر قانونی طور پر اپ لوڈ کر کے کافی بڑی رقم بنائی جا رہی ہے۔

سنیل درشن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،''میں اس خلاف ورزی کے لیے سندر پچائی کو مورد الزام ٹھہراتا ہوں کیونکہ وہی گوگل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ میں نے ٹریک کیا ہے کہ میری فلم 'ایک حسیہ تھی ایک دیوانہ تھا' کو ایک ارب سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ میں نے کمپنی سے اس حوالے سے شکایت کی تھی لیکن انہوں نے میری شکایت پر کوئی توجہ نہیں دی۔‘‘

 بالی وڈ کے فلم ساز سنیل درشن نے پچائی کے علاوہ یو ٹیوب کے سربراہ گوتم آنند،گریوانس افسر جوئے گرائر اور گوگل کے چار دیگر عہدیداروں کو بھی فریق بنایا ہے۔

فلم 'ایک حسینہ تھی ایک دیوانہ تھا‘ کو سنیل درشن نے تحریر کیا تھا اور ہدایت بھی دی تھی۔ وہ اس فلم کے پروڈیوسر بھی ہیں۔ فلم میں شیو درشن، نتاشا فرنانڈیز اور اوپین پٹیل نے اہم کردار ادا کیے تھے۔

خیال رہے کہ سندر پچائی کو یو م جمہوریہ کے موقع پر مودی حکومت نے بھارت کے تیسرے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ 'پدم بھوشن' دینے کا اعلان کیا ہے۔

گوگل کی وضاحت

دریں اثنا بھارت میں گوگل کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کمپنی کاپی رائٹ مالکان پر اس بات کے لیے انحصار کرتی ہے کہ وہ کسی غیر قانونی اپ لوڈ کے حوالے سے ہمیں مطلع کریں،''ہم اس کے لیے انہیں مینجمنٹ ٹولز مثلاً یو ٹیوب کنٹینٹ آئی ڈی سسٹم تک رسائی دیتے ہیں، جس سے اپنے کاپی رائٹ حقوق رکھنے والے اپنے مواد کی شناخت کر سکتے ہیں، اسے بلاک کر سکتے ہیں یا پروموٹ کر سکتے ہیں۔ حتی کہ وہ اپ لوڈ کیے گئے اپنے مواد سے پیسے بھی بنا سکتے ہیں۔‘‘

گوگل کے ترجمان کا مزید کہنا تھا،''کاپی رائٹ کا مالک جب کبھی ہمارے علم میں یہ بات لاتا ہے کہ ان کے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو ہم قانون کے مطابق اس مواد کو فوراً ہٹا دیتے ہیں۔‘‘

سنیل درشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے سندر پچائی کے خلاف کیس شہرت پانے کے لیے نہیں کیا ہے،'' میں حقائق کو سامنے لانا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ کسی کے جائز حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔‘‘

سنیل درشن نے انتقام، جانور، ایک رشتہ، انداز، برسات سمیت متعدد فلمیں بنائی ہیں۔

DW.COM