گم گشتہ بچپن کی تصویر بہترین قرار | معاشرہ | DW | 22.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گم گشتہ بچپن کی تصویر بہترین قرار

شام کی مہاجر بچی کے پُر درد چہرے کی تصویر کو یونیسیف کی جانب سے سال 2017 کی بہترین تصویر قرار دیا گیا ہے۔ سالانہ مقابلے میں کامیاب ہونے والی اس تصویر کو فوٹو جرنلسٹ محمد محسن نے اپنے کیمرے میں قید کیا تھا۔  

تصویر کا محور، اردن میں مہاجرین کے لیے قائم ایک کیمپ میں  رہنے والی پانچ سالہ بچی زہرا  ہے جو اپنے والدین اور  سات بھائی بہنوں کے ساتھ  جنگ سے متاثرہ ملک شام سے ہجرت کرکے آئی تھی۔

برلن میں فوٹو آف دی ایئر کی تقریب میں یونیسف جرمنی  کے سرپرست اور اس تصویری مقابلے کے جج کہتے ہیں ،’’ بچوں کی نگاہیں ہمیشہ سچ بولتی ہیں۔‘‘

یونیسیف کی جانب سے ’سال کی بہترین تصویر‘ کا ایوارڈ

شامی مہاجر بچوں کی بھولی باتوں سے پریانکا متاثر ہو گئیں

سالانہ بنیادوں پر ہونے والی اس تقریب میں ایسی تصاویر اور رپورٹس کو انعام سے نوازا جاتا ہے جن میں مصیبت کا شکار بچوں کی اذیت کو انتہائی موثر انداز میں نمایاں کیا جاتا ہے۔ 

شکستہ بچپن:

زہرا کی نگاہیں اس برس اُن لاکھوں بچوں کی علامت بن گئی ہیں جو دنیا بھر میں ہونے والے انسانی المیوں کا شکار ہوئے ہیں۔ درد و رنج کی کیفیات کی مظہر زہرا کی آنکھیں اُن بچوں کی عکاس ہیں جنہوں نے شام کے تنازعے میں اپنا بچپن کھو دیا۔

کامیاب قرار دی جانے والی اس تصویر کو عکس بند کرنے والے محمد محسن  دو بار Pulitzer Prize  حاصل کرنے والے صحافی ہیں جو گزشتہ چند برسوں سے مشرق وسطیٰ سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ 

یونیسف کی جانب سے  دوسرے نمبر پر بہترین قرار دی جانے والی تصویر بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر  نے عکس بند کی ہے جس میں ایک ماں اپنے روتے ہوئے بچے کو تھامے ہوئے سمندر کی لہروں کے درمیان کھڑی ہے۔  

 

DW.COM

اشتہار