″گرتے ہیں شہسوار ہی″ ۔۔۔۔ پاکستانی کپتان بابر اعظم | کھیل | DW | 12.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

"گرتے ہیں شہسوار ہی" ۔۔۔۔ پاکستانی کپتان بابر اعظم

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے سے محروم رہ جانے پر پاکستانی کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ٹیم نے اچھا کھیل پیش کیا اور شکست کوئی شرمندگی کی بات نہیں ہے۔ پاکستان آسٹریلیا سے ہار کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا ہے۔

جمعرات کی رات کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل میچ دبئی میں کھیلا گیا، جس میں آسٹریلیا نے ایک بہت ہی سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست دی اور فائنل میں اپنی جگہ پکی کر لی۔ اس پورے ٹورنامنٹ میں پاکستان مسلسل جیت کے ساتھ سیمی فائنل میں پہنچا تھا تاہم اس میچ میں قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔

 اتوار کو ہونے والے فائنل مقابلے میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کا مقابلہ ہو گا۔ نیوزی لینڈ نے پہلے سیمی فائنل میچ میں انگلینڈ کو شکست دی تھی۔

میچ کے بعد کس نے کیا کہا؟

آسٹریلیا کے ساتھ سنسنی خیز میچ کے بعد پاکستانی کرکٹ بورڈ کی جانب سے جو ویڈیو جاری کیا گیا اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹیم کے کپتان بابر اعظم، کوچز میتھیو ہیڈین اور ثقلین مشتاق پاکستانی کھلاڑیوں کی کس طرح حوصلہ افزائی کر رہے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مثبت سوچیں اور جو کیمسٹری ان میں وجود میں آئی ہے اسے ضائع کرنے کے بجائے اسے مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس ویڈیو میں بابر اعظم ڈریسنگ روم میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے کہہ رہے ہیں کہ شکست پر سبھی کو افسوس ہے لیکن، ہمیں اچھا کیا کرنا چاہیے یا ہماری غلطیاں کیا ہیں، یہ ہمیں کوئی اور نہیں بتائے گا۔ یہ ہم سب کو معلوم ہے۔ ہمیں اس سے سیکھنا ہے، کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے۔''

یہ ویڈیو ڈریسنگ روم کی ہے جس میں بابر اعظم کو مزید کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ''ہم نے بطور ایک ٹیم اچھا نہیں کھیلا، کوئی کسی پر انگلی نہ

 اٹھائے۔ سب کو مثبت بات کرنی چاہیے۔ ہار گئے ہیں، کوئی مسئلہ نہیں ہم اس سے سبق سیکھیں گے۔''  

اس کے بعد پاکستانی ٹیم کے کوچ اور آسٹریلوی ٹیم کے سابق بلے باز میتیو ہیڈین نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں کو سمجھاتے ہوئے کہا، ہم نے ہر ممکن کوششیں کیں، میدان میں کوئی کثر نہیں اٹھا رکھی۔ ہم سبھی کو اس پر فخر ہونا چاہیے اور مجھے تم سب پر بہت فخر ہے۔''

بعد میں کوچ ثقلین مشتاق نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں کی ان کے بہترین کھیل کے لیے ان کی ہمت بندھائی اور کہا کہ اس سے دل چھوٹا کرنے کے بجائے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

میچ کا اسکور

میچ کا ٹاس آسٹریلیا نے جیتا اور اس نے پہلے پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستانی ٹیم نے مقرر 20 اوورز میں چار وکٹ کے نقصان پر 176 رن بنائے۔ آسٹریلیا نے اس ہدف کو انیس اوور میں ہی پانچ وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

تاہم یہ اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ 177 رنوں کے تعاقب میں آسٹریلیا کی پہلے ہی اوور میں اس وقت پہلی وکٹ گر گئی جب اسکور محض ایک رن تھا اور کپتان ارون فنچ پویلین واپس ہو گئے۔ اس موقع پر ڈیوڈ ارنر دوسری جانب سے ڈٹے رہے اور مارش کے ساتھ مل کر انہوں نے آسٹریلوی ٹیم کو سہارا دیا۔

 لیکن شاداب نے مارش کی وکٹ لینے کے بعد ہی ا سمتھ اور میکسویل کو بھی یکے بعد دیگرے پویلین واپس بھیج کر آسٹریلیا کو بڑا دھچکا دیا۔ چار وکٹیں گرنے کے بعد میچ پاکستان کی گرفت میں تھا تاہم اس کے بعد میتھیو ویڈ اور سٹونس نے سنبھل کر کھیلا اور اننگ کو جیت کے قریب تر لے گئے۔ آسٹریلیا کو جب آخری 10 گیندوں پر بیس رنز درکار تھے اس وقت شاہین آفریدی اچھی بولنگ کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اسی دوران ویڈ نے جب ایک جارحانہ شاٹ کھیلا تو بال ہوا میں گئی اور ان کے کیچ ہونے کے امکانات پیدا ہوئے تاہم یہ آسان کیچ حسن علی سے چھوٹ گیا۔

پھر کیا تھا، اس کے بعد ویڈ نے اگلی تین گیندوں پر مسلسل چھکے مارے اور اس طرح میچ کو انیسویں اوور میں ہی ختم کر دیا۔ ویڈ نے 17 گیندوں پر 421 رن  اسکور کیے۔ پاکستان کی طرف سے شاداب نے اپنے چار اوور میں 26 رن دے کر چار قیمتی وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستانی اسکور

اس سے قبل پاکستان نے مقرر بیس اوورز میں 176 رنز اسکور کیے تھے جس میں اوپنر محمد رضوان نے 52 گیندوں پر 67 رن بنائے جبکہ کپتان بابر اعظم نے 34 بالوں پر 39 رن اسکور کیے۔ اس میچ میں آصف علی ناکام ثابت ہوئے اور وہ صفر پر ہی آؤٹ ہو گئے۔ شعیب ملک بھی ناکام رہے اور ایک رن بنا کر بولڈ ہو گئے۔ تاہم دوسری طرف سے فخر زمان نے جم کر کھیلا اور 32 بالوں پر 55 رن بنائے اور وہ آخر تک آؤٹ بھی نہیں ہوئے۔

ص ز/ ج ا  (ایجنسیاں)

ویڈیو دیکھیے 03:58

یہ سیمی نہیں بلکہ فائنل ہے

DW.COM