گجر نالے کی پیرنی اور بنگالی پاڑے کا مالا کردستانی | دستک | DW | 20.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

گجر نالے کی پیرنی اور بنگالی پاڑے کا مالا کردستانی

گئے وقتوں کی بات ہے، محلے کی ایک لڑکی سے ہمیں ایک طرح کا واسطہ ہو گیا تھا۔ بڑوں کی نظر میں یہ ایک ناجائز تعلق تھا، مگر یہی ایک تعلق تھا جو ہم کو بہت جائز تھا۔

نظروں میں آئے تو کیا دوست کیا دشمن، سبھی ناصح بن گئے۔ ہر نصیحت جب بے کار گئی تو دور گجر نالے کے پاس ایک کمرے کے مکان میں رہنے والی ایک پیرنی کی روحانی خدمات حاصل کرلی گئیں۔ لوگوں کے فیملی ڈاکٹر ہوتے ہیں، ہمارے ہاں فیملی پیرنی کا چلن عام تھا۔ 

ایڈز اور کینسر کے علاوہ ہر مرض کو یہ پیرنی لاحق ہو چکی تھی، مگر برگزیدہ لوگوں نے اسے اللہ میاں کی مشیر برائے صحت لگایا ہوا تھا۔ اپنے تِلوں میں تیل نہیں تھا اور زمانے بھر کے لیے چراغ روشن دین بنی ہوئی تھیں۔

لوگوں نے اس کی پتنگ اتنی اڑا رکھی تھی کہ لگتا تھا ہوائیں پہلے اس سے اجازت لیتی ہیں پھر لہر کھا کے آگے بڑھتی ہیں۔ کبھی کبھی تو خود پیرنی کو بھی لگنے لگتا تھا کہ 'اپن اِچ بھگوان ہے‘۔ 

ہماری زندگی پیرنی کی پڑھائی سے اور خاتون کی زندگی ہماری کمائی سے چل رہی تھی۔ جب میرا کیس گیا تو خاتون نے سر جھکا کر زائچے کھینچے اور سر اٹھا کر آٹو رکشے کی طرح میٹر پورا گھما دیا۔ بولیں، بھئی یہ کیس شیطان کی آنت کی طرح خاصا الجھا ہوا لگتا ہے۔

فرنود عالم کا یہ بلاگ بھی پڑھیے

ایک تو بچے کا ناجائز تعلق کاٹنا ہے دوسرا پھر اس بچے کے دل میں خدا کا خوف بھی بٹھانا ہے۔ ایک کام میں بارہ مصالحے لگیں گے اور دوسرے کام میں لوبان اور زعفران لگے گا۔ البخور کی دھونی دے کر مجھے موکل بھیجنے پڑیں گے اور رات بھر جاگ کر ان موکلوں کی نگرانی بھی کرنا پڑے گی۔ یہ سارے کام ویسے تو خدا کی ذات کرتی ہے، مگر پیسوں کی حقیقت سے بھی تو انکار نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ مٹھی گرم کیجیے تاکہ موکل راشن پانی لے کر  صبح سویرے کام پہ نکل سکیں۔  

اسی عرصے میں لڑکی کے ہوتوں سوتوں نے بنگالی پاڑے میں بیٹھے کسی مالا کردستانی کو ہائر کرلیا۔ بتایا گیا کہ لڑکی ایک ایسے لمڈے کے بہکاوے میں آگئی ہے جو دنیا اور آخرت کی رسوائیاں سمیٹ کر بیٹھا ہوا ہے۔ اسے کوئی گھر میں آئی ہوئی گیند واپس نہیں دیتا، بیٹی کیا دے گا۔

مالا کردستانی نے تشخیص کے لیے لڑکی کے پہناوے منگوائے اور پیرنی نے جانچ کے لیے میرے جامے پاجامے منگوا لیے۔ وہاں مالا نے بالشت سے لڑکی کی قمیص ناپ کر بتایا کہ اس ناہنجار لڑکے نے کالا جاود کرکے ایک شریف لڑکی کا دل اپنے شکنجے میں لے لیا ہے۔

یہاں پیرنی نے انچی ٹیپ میرے دامنِ داغ داغ پہ رکھ کر کہا، یہ لڑکی بہت بڑی چِھنال ہے۔ اس نے اُلو کے خون سے چودہ تعویذ لکھوا کر آپ کے معصوم سے بچے کو اپنے قابو میں لے لیا ہے۔ یہاں پیرنی کو داد دیے بغیر بات آگے نہیں بڑھائی جاسکتی۔ اس نے قمیص کے ساتھ میرے زیر جامے بھی منگوا لیے تھے۔ قمیص ناپ کر بتاتی تھی کہ تعویذ کتنے ہیں اور زیر جامے سونگھ کر بتاتی تھی کہ زلزلے کیوں آتے ہیں۔ 

 فرنود عالم کا یہ بلاگ بھی پڑھیے

میں نے محسوس کیا کہ میرے سارے کام اپنے وقت پر بہت طریقے سلیقے سے ہونے لگے ہیں۔ میں فریج کی طرف جاتا ہوں تو لپک کر کوئی آ جاتا ہے کہ ارے آپ بیٹھیں آرام سے، میں پانی لا دیتی ہوں۔ پہلے صبح اٹھ کر ہزار مغز ماریوں کے بعد کپڑے استری ہوتے تھے، اب سات سات جوڑوں کی سِلوٹیں ایک ہی ہلے میں برابر ہورہی ہیں۔

کھانا پہلے مانگنے پہ ملتا تھا، اب دل میں خیال آتا ہے اور برتن بولنے لگتے ہیں۔ ایک دن جب کہانی کھلی تو پتہ چلا کہ زمانے کا چلن یونہی خدا واسطے نہیں بدلا تھا۔ یہ تو پیرنی کی اصلاحی تحریک تھی جس نے ہمارے دن پھیر دیے تھے۔

کہانی یہ تھی کہ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر دم کیا ہوا پانی پلایا جارہا تھا۔ پڑھے ہوئے مصالحوں سے کھانا بنتا تھا جو پھونکے ہوئے رائتہ سلاد کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا۔ چائے بنتی تھی تو ساتھ جنتر منتر بھی چل رہے ہوتے تھے۔ اگر مجھے وقت پہ پتہ چل جاتا کہ اِتنی آیتیں گھول کر میرے باطن میں اتاری جا چکی ہیں تو قریب کی کسی چوٹی پہ چڑھ کر میں کوئی ایسا دعویٰ ضرور کردیتا جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی۔ 

اس کہانی کے کھلنے کا قصہ ذرا دلچسپ ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے سگے مجھے جو عزت دینے لگے ہیں وہ میری عمر اور  میرے کردار سے کہیں زیادہ ہے۔ رشتوں کے رنگ اب خونی کم روحانی زیادہ لگ رہے ہیں۔

ایک دن رات سونے سے پہلے پانی کا ایک گلاس آگے کیا گیا اور کہا گیا کہ اس میں پھونک ماردو۔ حیرت سے یہاں وہاں دیکھ کر میں نے پھونک ماری اور پانی پی لیا گیا۔ تکیے پہ سر رکھا اور سوچ میں پڑگیا کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے۔ بے چینی کی لگاتار کروٹیں لینے کے بعد کچھ حیرتیں، کچھ اندیشے اور کچھ خوش گمانیاں اوڑھ کر سوگیا۔

صبح اٹھا تو مجھ سے پوچھا گیا، آپ نے کبھی کوئی چِلے کاٹے ہیں کیا؟ اس سوال نے ایک حد تک میری رات بھر کی الجھن کو کم کردیا۔ میں سمجھ پارہا تھا کہ آخر میرے پروٹوکول میں اچانک سے اتنا اضافہ کیوں ہو گیا ہے۔ اب مشکل یہ تھی کہ سوال کے جواب میں اگر سچ کہوں تو یہ پروٹوکول واپس لے لیا جائے گا۔ جھوٹ بولوں تو یہ منہ لے کر پھر کعبے جانا مشکل ہوجائے گا۔ کوئی بھی جواب دینے سے پہلے میں نے کہا، پہلے مجھے سوال کی وجہ بتاؤ پھر میں تمہیں کہانی سناتا ہوں۔ اصرار ہوا کہ نہیں، پہلے کہانی سنائیں پلیز۔ جواب دیا، نہیں کہانی بہت لمبی ہے پہلے سوال کی وجہ سمجھائی جاوے۔

 فرنود عالم کا یہ بلاگ بھی پڑھیے

گھر کے بھیدی نے پیرنی والی داستان پورے زیر زبر کے ساتھ سنانا شروع کردی۔ داستان سنتا جارہا ہوں اور ایک آنکھ روتا ایک آنکھ ہنستا جا رہا ہوں۔ بھیدی بولا، جب سارے دم اور سارے درود آزما کر بھی بات نہ بنی تو ہمارے سگے پیرنی پر گرمی کھا گئے۔

ایک وقت تک تو پیرنی کہتی رہیں کہ تعویذ بہت نسلی ہیں اس لیے ناکارہ کرنے میں ذرا دیر لگ رہی ہے۔ جب تیل کے خرچے برداشت سے باہر ہوگئے تو داڑھ گرم کرکے پیرنی سے کہا گیا کہ بھئی بہت ہو گئی، اب اپنا گریبان چاک کرو یا دامنِ یزداں چاک کرو۔ جو بھی کرو بس یہ کہانی نمٹاکے ایک طرف کرو۔

یہ کیسے موکل ہیں سالے جو بولٹن مارکیٹ کا سارا زعفران چاٹ گئے ہیں مگر ایک بال یہاں سے وہاں نہیں کرپائے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے امام بارگاہوں کے باہر اب تک چھتیس بم ناکارہ کردیے ہیں اور تمہارے موکلوں سے چودہ تعویذ ناکارہ نہیں ہو رہے۔

انجامِ کار پیرنی نے ایک مبارک مہینے کی مبارک تاریخ بتائی کہ اس دن تو سمجھو کہ کوہِ قاف میں بھوت پریت اپنے بال نوچیں گے۔ بھوت پریت بال کیا نوچتے، اُلٹا ہم نے سر پیٹ لیا۔ اُسی مبارک تاریخ کے تین دن بعد ہمارے ایک ماموں زاد نے آپ کو ساحلِ سمندر پر اس کلموہی کے ساتھ سڑے ہوئے گول گپے کھاتا ہوا دیکھ لیا۔ اسی شام لوگوں نے پیرنی کے پاس جا کر کہا، تم تو کوہِ قاف میں لاشیں بچھانے والی تھی یہاں تو ساحل پہ پریاں اتری ہوئی ہیں۔

ایں چہ بوالعجبی است؟ حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے پیرنی نے ہتھیار ڈال دیے۔ کہنے لگیں، بات یہ ہے کہ کل رات کی پڑھائی کے بعد موکلوں نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کے لڑکے نے چار پانچ سال پہلے کوئی تِگڑدم قسم کا چِلہ کاٹ کر اپنا حصار باندھا ہے۔ اس حصار کے لیے جو موکل بٹھائے گئے ہیں ان کی زبان اور ہتھیار ہمارے موکلوں کی سمجھ سے بالکل باہر ہیں۔ ہمارے موکلوں نے سترہ حملے کیے ہیں مگر یہ حصار ٹوٹ کر نہیں دے رہا۔ آپ ہی بتائیں، جب تجاوزات ہی نہیں گریں گی تو ہم اندر والے دروازے تک کیسے جائیں گے؟ سو ہماری طرف سے معذرت قبول کیجیے۔ یہ سن کر کسی کا شوگر لیول گرا کسی کا بی پی گرا، مگر میرے جیسے کچھ لوگ دل ہی دل میں آپ کے آگے گر گئے۔  

یہاں تک کہانی سنا کر بھیدی بولا، اچھا اب بتائیں نا پلیز کون سا چلہ کاٹا ہوا ہے آپ نے؟ پراسرار سا وفقہ لے کر میں نے کہا، کہانی سناؤ بچے کہانی، پھر آگے کیا ہوا؟ بھیدی بولا، بس کُل ملا کے یہی ہوا کہ کل تک آپ کو راہ راست پر لانے کے لیے جو لوگ پیرنی کو ڈھونڈ رہے تھے وہ اب پیرنی کو راہ راست پر لانے کے لیے گجر نالے کا ایس ایچ او ڈھونڈ رہے تھے۔