گاڑی حد رفتار سے تيز چلانے پر بھی ملک بدری : يہ کيسا قانون؟ | حالات حاضرہ | DW | 17.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گاڑی حد رفتار سے تيز چلانے پر بھی ملک بدری : يہ کيسا قانون؟

سوئٹزرلينڈ ميں عنقريب ايک ايسے متنازعہ قانون پر ريفرنڈم ہونے کو ہے، جس کے ذريعے اس کا تعين کيا جائے گا کہ جرائم ميں ملوث غير ملکيوں کو اپيل کا حق ديے بغير ملک بدر کر ديا جائے يا نہيں۔ ناقدين اس کی سخت مخالفت کر رہے ہيں۔

اس مجوزہ قانون کے تحت غير ملکی مجرمان کی سزا کے خاتمے کے فوری بعد انہيں ملک بدر کيا جا سکتا ہے۔ جرم چاہے جس نوعيت کا بھی ہو، مجرم قرار پانے والے غير ملکيوں کو اپيل کا حق يعنی عدالتی فيصلے پر نظر ثانی کی درخواست کا حق حاصل نہيں ہو گا۔ کسی ہائی وے پر حد رفتار سے زيادہ تیز گاڑی چلانا يا کسی مقام پر بلا اجازت داخلے جيسے چھوٹے جرائم ہوں يا قتل، جنسی زيادتی، ڈکيتی اور کوئی مسلح حملے جيسی بڑی کارروائياں، ايک دہائی کے اندر کيے گئے ايسے جرائم کی سزا ملک بدری ہو سکتی ہے۔

اس مجوزہ قانون کا اطلاق تارکين وطن کے پس منظر والے ايسے افراد پر بھی ہو گا، جن کی پيدائش خواہ سوئٹزرلينڈ ہی ميں ہوئی ہو تاہم وہ سوئس شہری نہ ہوں۔ ايسے افراد کو سوئٹزرلينڈ ميں ’سيکنڈوز‘ کہا جاتا ہے۔

يہ مجوزہ قانون ہجرت مخالف سياسی جماعت سوئس پيپلز پارٹی (SVP) کی جانب سے تشکيل ديا گيا ہے، جو پارليمان ميں دو تہائی اکثريت کی حامل ہے۔ جماعت نے بل کی حمايت ايسے خدشات کو بروئے کار لاتے ہوئے حاصل کی کہ پناہ گزين، سوئس طرز زندگی کو متاثر کر رہے ہيں۔

فری ڈيموکريٹس اور آزاد خيال سوشل ڈيموکريٹس اس قانون کی مخالفت کرتے ہيں۔ ان پارٹيوں کا موقف ہے کہ مجوزہ قانون نہ صرف نسل پرستی پر مبنی ہے بلکہ خاصا سخت بھی ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ یوں يورپی يونين کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہيں۔

سوئس حکومت سن 2014 ميں يورپی يونين سے تعلق رکھنے والے ملازمين کے حوالے سے کوٹے مقرر کرنے کے ايک متنازعہ قانون کی منظوری کے سبب بلاک کے ساتھ متاثر ہونے والے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں ميں ہے۔ سوئٹزرلينڈ کی مجموعی آبادی آٹھ ملين کے لگ بھگ ہے، جس ميں پچيس فيصد حصہ غير ملکيوں کا ہے۔

سوئس پيپلز پارٹی کی جانب سے پيش کردہ اس مجوزہ قانون پر ريفرنڈم اٹھائيس فروری کو ہو گا۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اس وقت قانون کے حاميوں کا پلڑا بھاری ہے۔ قانون کی مخالفت نہ صرف چند سياسی دھڑوں بلکہ کاروباری دھڑوں کی جانب سے بھی ديکھنے ميں آ رہی ہے۔ ناقدين کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نتيجے ميں ہونے والی ملک بدرياں يورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوں گی۔

اشتہار