کے پی کے اسمبلی میں جہیز کے خلاف بِل کی منظوری | حالات حاضرہ | DW | 03.03.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کے پی کے اسمبلی میں جہیز کے خلاف بِل کی منظوری

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں خواتین کے حقوق اور فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والی تنظیموں نے حکومت کی جانب سے جہیز اور ولیمے پر کم از کم اخراجات کے قانون کی منظوری کو خوش آئند  قرار دیا ہے۔

Symbolbild Hochzeit Ehe Indien Pakistan (Fotolia/davidevison)

قانون کی خلاف ورزی کرنے اور دُلہن کے والدین کو جہیز دینے پر مجبور کرنے والوں کو تین لاکھ روپے جرمانہ اور دو ماہ قید یا پھر دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں

مذکورہ قانون کی رو سے شادی بیاہ کی کسی تقریب پر پچھتر ہزار روپے سے زیادہ اخراجات کرنا جرم تصور کیا جائے گا۔ دُلہن کے والدین اور رشتہ دار اُسے دس ہزار روپے سے زائد  مالیت کا تحفہ نہیں دے سکیں گے۔ نکاح  اور بارات کی تقریب میں مہمانوں کی تواضع صرف مشروبات سے کی جائیگی۔ علاوہ ازیں کھانے میں ایک  ڈش سے زیادہ پر پابندی ہو گی۔ رات کو ہونیوالی شادی کی تقریب کو دس بجے سے قبل ختم کرنا لازمی ہو گا۔

  قانون کی خلاف ورزی کرنے اور دُلہن کے والدین کو جہیز دینے پر مجبور کرنے والوں کو تین لاکھ روپے جرمانہ اور دو ماہ قید یا پھر دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ یہ سزائیں دُلہا اور دُلہن کے والدین یا قریبی رشتہ داروں کو دی جائیں گی تاہم  دونوں جانب خواتین سزا سے مبّرا ہونگی ۔ اس قانون کی کسی بھی شِق کی خلاف ورزی کی صورت میں مجسٹریٹ کو تحریری درخواست دینے کے بعد اس پر کاروائی کی جاسکے گی ۔

 کے پی کے اسمبلی میں یہ بِل تحریکِ انصاف کی رکن  اور صوبائی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر مہر تاج روغانی اور جماعت اسلامی کی رکنِ اسمبلی راشدہ رفعت نے پیش کیا جس کی حمایت حکومتی ارکان کے ساتھ ساتھ حزبِ اختلاف کے ارکان نے بھی کی۔

 صوبائی حکومت کے ترجمان مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ اُنکی حکومت نے سو سے زائد  قوانین بنائے ہیں اور خواتین کو ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی  اور انکے مسائل کا حل تلاش کرنا  اُنکی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔  

Pakistan Karatschi Hochzeitszeremonie (DW/U. Fatima)

مذکورہ قانون کی رو سے شادی بیاہ کی کسی تقریب پر پچھتر ہزار روپے سے زیادہ اخراجات کرنا جرم تصور کیا جائے گا

خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی ثنا اعجاز  نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا ، ’’پختون نخوا میں بہت سی  لڑکیا ں صرف اس وجہ سے شادی سے محروم رہ جاتی ہیں کیونکہ  اُنکے والدین مطلوبہ جہیز  دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ پختون معاشرے میں جہیز کے مسئلے کے باعث متعدد خاندان متاثر ہوئے ہیں کیونکہ کم جہیز دینے کو پختون معاشرے میں بھی طعنہ سمجھا جاتا ہے۔ جہیز کی لعنت کے باعث  لڑکی کو عمر بھر تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ برائی حکومت کی سرپرستی میں پنپ رہی ہے۔  یہ ریاست کاکام  ہے کہ اسکی روک تھام  کیلئے موثر اقدامات اٹھائے۔‘‘

خیبر پختونخوا میں، بالخصوص  برادری سسٹم  میں برابری قائم رکھنے کے لیے جہیز اور ولیمے  پر  قرض لے کر اخراجات کیے جاتے ہیں  اور بعض  صورتوں  میں یہ رقم دُلہا کے والدین سے لی جاتی ہے۔ اسی حوالے سے خواتین کے حقوق کے لیے سر گرم  صحافی خاتون  فرزانہ علی نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا  کہ  اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بہترین اور اہم قانون ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنے میں حُکومتی اداروں کو مشکلات کا سامنا ہو گا۔  شادی کی  تین تقریبات کیلئے صرف دُلہن کے لیے بنائے گئے  شادی کے جوڑوں پر  ہی کم از کم تین لاکھ روپے کی لاگت آ جاتی ہے۔ اسی طرح ولیمے کیلئے ہال کا کرایہ بھی اکثر صورتوں میں لاکھ روپے سے تجاوُز کر جاتا ہے جبکہ باقی اخراجات بھی لاکھوں میں ہوتے ہیں۔‘‘

 فرزانہ علی کا مزید کہنا تھا کہ یہ قانون صرف اسی صورت میں  نافذ العمل ہوسکتا ہے جب معاشرے کے سرمایہ دار طبقے پر بھی اس کا نفاذ کیا جا سکے۔ 

DW.COM