1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
DW Still | Krieg in der Ukraine - Soldat im Schützengraben
تصویر: DW
سیاستیوکرین

کیا یوکرین کو کریمیا واپس ملے گا؟

11 اگست 2022

یوکرین روس کو اپنے تمام تر علاقوں سے باہر نکال دینا چاہتا ہے، جس میں کریمیا کا ریجن بھی شامل ہے۔ یوکرین کے مطابق روس نے سن 2014 میں یوکرینی علاقے کریمیا پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر کے اس روس میں شامل کر لیا تھا۔

https://www.dw.com/ur/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%8C%D9%88%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D9%88-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%85%DB%8C%D8%A7-%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3-%D9%85%D9%84%DB%92-%DA%AF%D8%A7/a-62780229

یوکرینی صدر وولودمیر زیلنسکی نے اپنے ہفتہ وار ریڈیو پیغام میں عوام سے مخاطب ہوتے کہا، ''کریمیا میں جنگ شروع ہو چکی ہے۔۔۔ یہ وہیں ختم بھی ہو جائے گی۔‘‘ ناقدین کے مطابق دراصل زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ حالیہ روسی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کی حکومت کریمیا کو بھی واپس اپنا حصہ بنانا چاہتی ہے۔ لیکن یہ کوئی آسان کام ہرگز نہیں ہے۔

زیلنسکی کے اس خطاب سے کچھ دیر پہلے ہی جزیرہ نما کریمیا کے مغربی حصے میں واقع ایک روسی ایئر بیس پر حملے شروع ہو گئے۔ اطلاعات ہیں کہ ان حملوں کی وجہ سے روس کے نو جنگی طیارے تباہ ہو گئے جبکہ اس فوجی اڈے کو شدید نقصان پہنچا۔

یوکرین کی حکومت نے کریمیا میں روسی فوجی بیس پر ہوئے ان حملوں کی سرکاری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ کییف نے اس عسکری کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید بھی کی ہے تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے دراصل یوکرینی فوجی ہیں، جو مغربی ممالک سے جدید اسلحہ حاصل کر چکے ہیں۔

کریمیا میں ہوا یہ حملہ باقاعدہ فوجی کارروائی معلوم نہیں ہوتی ہے۔ لیکن روسی قبضے کے بعد کریمیا میں تشدد کی یہ اولین کارروائی ہے۔ روس نے آٹھ برس قبل اس یوکرینی علاقے میں ناجائز قبضہ کرتے ہوئے اس کا روس سے الحاق کروا لیا تھا، جسے بین الاقوامی کمیونٹی تسلیم نہیں کرتی ہے۔

مزید کشیدگی کا خدشہ

کریمیا میں بمباری پر شدید روسی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ ماسکو کے نزدیک یوکرینی علاقوں میں جنگ اور بات ہے لیکن کریمیا پر حملہ سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کریمیا کو روس میں شامل کرنے کے لیے ایک ریفرنڈم کروایا تھا، جس کے بعد اس کا روس میں الحاق کر دیا گیا تھا۔ لیکن بین الاقوامی کمیونٹی نے اس عمل کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

روسی مؤقف ہے کہ کریمیا پر حملے کا مطلب ہے کہ یہ جنگ اب روسی علاقوں میں بھی پہنچ گئی ہے۔ یوں ماسکو حکومت یوکرین جنگ میں مزید شدت پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم یوکرین بھی کریمیا کو اپنا ہی حصہ قرار دیتا ہے۔

یوکرینی حکومتی عہدیدار متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کریمیا کو روسی جبر سے جلد ہی آزاد کرا لیں گے اور روس کو شکست سے دوچار کریں گے۔

طویل اور متنازعہ تاریخ

روس کے لیے کریمیا کا علاقہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ماسکو کے نزدیک اس مخصوص مقابلے میں یوکرین کی کوئی اہمیت ہے ہی نہیں۔ کریمیا کا علاقہ دو صدیوں تک روسیوں کے زیر تصرف رہا۔

اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں روسی نسل کے باشندوں کی اس علاقے میں آباد کاری کی گئی۔ بیسویں صدی میں سوویت لیڈر اسٹالن نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔ اس خطے کو حکمت عملی کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جاتا ہے۔

سوویت یونین میں بھی ابتدائی طور پر کریمیا رشیئن سوشلسٹ ری پبلک (ایس ایس آر) میں آتا تھا۔ سٹالن کے جانشین نکیتا خُرشچاوا نے 1954ء میں اسے یوکرینین ایس ایس آر کے حوالے کیا۔ تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تھا؟ ایک اندازہ ہے کہ چونکہ نکیتا خود نسلی یوکرینی تھے، اس لیے انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔

سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد کریمیا باقاعدہ طور پر یوکرین کا حصہ قرار پایا۔ یہ الگ بات ہے کہ کییف حکومت کبھی بھی اس ریجن میں اپنی مکمل عملداری قائم کرنے میں ناکام رہی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کریمیا میں اکثریت روس نواز ہے۔

یوکرین نے جزیرہ نما کریمیا کو خود مختار اسٹیٹس دے دیا اور حغرافیائی اعتبار سے اس اہم علاقے کی اہم بندرگاہوں کو لیز پر ماسکو حکومت کے سپرد کر دیا۔ ان معاہدوں نے روس کو نہ صرف بحیرہ اسود بلکہ ایک اہم کمرشل اقتصادی ہب تک بھی رسائی بھی مل گئی۔

 یہ وہی مقام ہے جہاں سوویت بلیک سی فلیٹ تعینات ہے۔ سن 2014 تک لیز کا معاملہ یوکرینی حکومت اور عوام کے لیے غیر اہم رہا۔ تاہم اسی برس یوکرین کے روس نواز صدر وکٹور یانوکووچ کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ جب اس احتجاج میں شدت آئی تو وہ مستعفی ہو کر روس فرار ہو گئے۔

یہ وہ وقت تھا، جب روس کو احساس ہوا کہ اب کریمیا اور وہاں واقع اہم بندر گاہ سواستپول اس کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔ یوکرین کی نئی مغرب نواز حکومت مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شمولیت کے بھی حق میں تھی اور ماسکو کو اپنے مفادات خطرے میں دیکھائی دیے۔

اس پیشرفت کے بعد روس نے کریمیا کو سرکاری طور ہر اپنا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا، جس پر عالمی برداری ابھی تک کڑی تنقید کرتی ہے۔

کیا یوکرین کریمیا دوبارہ حاصل کر سکتا ہے؟

یہ ابھی تک واضح نہیں کہ آیا یوکرین میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ کریمیا کو واپس حاصل کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں کییف کے پاس کوئی حکمت عملی بھی نہیں ہے۔

یوکرین حکومت کے مشیران کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے، جس پر سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق فی الحال ایسا کوئی امکان نہیں کہ مذاکراتی عمل کے نتیجے میں جزیرہ نما کریمیا واپس کییف حکومت کو مل جائے گا۔

طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور حکمت عملی کے حوالے سے روس کریمیا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اس ریجن کی زیادہ تر آبادی روس کے قریب ہے۔ ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے مستقبل قریب میں ایسا ممکن نہیں کہ کریمیا کا اہم ریجن یوکرین کو واپس مل سکتا ہے۔

روس اور مغرب کے درمیان پھنسا یوکرائن

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Kundgebung der Opposition in Pakistan

مریم کی بریت کے ممکنہ قانونی اور سیاسی اثرات

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں