کیا ویانا کی بدنام زمانہ ’ہٹلر بالکونی‘ پبلک کے لیے کھولی جانا چاہیے؟ | فن و ثقافت | DW | 18.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

کیا ویانا کی بدنام زمانہ ’ہٹلر بالکونی‘ پبلک کے لیے کھولی جانا چاہیے؟

آسٹریا کے دالحکومت ویانا میں جدید تاریخ کے میوزیم کا ارادہ ہے کہ شہر کے ہوفبُرگ پیلس کی بدنام زمانہ ’ہٹلر بالکونی‘ پبلک کے لیے کھول دی جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا ایسا کرنا تاریخی حوالے سے ایک دانش مندانہ اقدام ہو گا۔

آج سے تراسی برس قبل ویانا کی اس بالکونی سے اڈولف ہٹلر کا خطاب سننے کے لیے دو لاکھ سے زائد پرجوش آسٹرین شہری جمع ہوئے تھے

آج سے تراسی برس قبل ویانا کی اس بالکونی سے اڈولف ہٹلر کا خطاب سننے کے لیے دو لاکھ سے زائد پرجوش آسٹرین شہری جمع ہوئے تھے

ویانا کے امپیریل ہوفبُرگ پیلس کے نوئے بُرگ نامی حصے میں ایک بالکونی ایسی بھی ہے، جو شاید آسٹریا کی تاریخ کی سب سے بدنام بالکونی ہے۔ اس لیے کہ 15 مارچ 1938ء کے روز اسی بالکونی سے نازی دور میں اڈولف ہٹلر نے پرجوش آسٹرین عوام کے ایک بہت بڑے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس کا آبائی ملک آسٹریا تھرڈ رائش یا نازی جرمن ریاست میں شامل کر لیا گیا ہے۔

’زمین پر شیطان کی حکمرانی‘ کی مخالفت، 950 مقتولین کو خراج عقیدت

اس سابقہ شاہی محل کے ایک حصے میں اب آسٹریا کی جدید تاریخ کا عجائب گھر قائم ہے، جو ہاؤس آف آسٹرین ہسٹری کہلاتا ہے۔ اس میوزیم کے نوئے بُرگ نامی ونگ میں عام شائقین کو اب تک ایک خاص حصے میں صرف چند دروازوں تک ہی جانے کی اجازت ہے اور اس سے آگے کوئی مہمان نہیں جا سکتا۔

اس لیے کہ ان دروازوں سے گزر کر آگے وہ بالکونی آتی ہے، جہاں کھڑے ہو کر آج سے 83 برس قبل اڈولف ہٹلر نے خطاب کیا تھا۔ اسی لیے اس بالکونی کو ‘ہٹلر بالکونی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

جرمن داخلی انٹیلیجنس نے اے ایف ڈی کی خفیہ نگرانی شروع کر دی

بالکونی کھولنے کے حق میں دلیل

ہاؤس آف آسٹرین ہسٹری کی خاتون ڈائریکٹر مونیکا زومر موجودہ صورت حال کو بدلنا چاہتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ اس میوزیم میں آئندہ آنے والے شائقین کو ہٹلر بالکونی تک جانے کی بھی اجازت ہونا چاہیے۔ اس کے لیے تاہم اس محل کے بالکونی والے اور اب تک بند حصے کو اس عجائب گھر میں شامل کرنا ہو گا۔

نازی دور ميں نوآبادياتی بچوں کی نس بندی کی داستان

مونیکا زومر کے بقول اس بالکونی کو اس لیے بھی عوام کے لیے کھول دینا چاہیے کہ وہاں تک رسائی کے ذریعے اس میوزیم کا رخ کرنے والے افراد کے ذہنوں میں آسٹریا کی مجموعی ملکی تاریخ کی یاد اور موجودہ وفاقی جمہوری ریاست دونوں کے تصور کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔

ویانا کے اس عجائب گھر کی ڈائریکٹر نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ''ہم جانتے ہیں کہ ایسا کرتے ہوئے ہم اب تک کی روایت توڑ دینے کے وجہ بنیں گے، کیونکہ آج تک اس بالکونی کو عوام کے لیے کبھی کھولا ہی نہیں گیا۔‘‘

کمیونسٹ جرمنی نے اپنے شہریوں کے اثاثے کیسے چھینے؟

انہوں نے کہا کہ یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ شروع میں اس بالکونی کو صرف رجسٹرڈ ٹورسٹ گروپوں کے لیے کھولا جائے۔

آسٹریا کے نازی ماضی کی نمایاں ترین علامت

ویانا کی 'ہٹلر بالکونی‘ اس یورپی ملک کے نازی ماضی کی نمایاں ترین علامات میں سے ایک ہے۔ یہ جس محل کا حصہ ہے، وہ 19 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا اور آسٹریا اور ہنگری پر مشتمل سلطنت کے حکمران خاندان کی شاہی رہائش گاہ تھا۔

جرمنی اور پولینڈ: ولی برانٹ کا جھکنا، مفاہمت کی ابتدا

اسی بالکونی سے 15 مارچ 1938ء کے روز ہٹلر نے آسٹرین عوام کے جس پرجوش اجتماع سے خطاب کیا تھا، اس میں تقریباﹰ دو لاکھ شہری شریک ہوئے تھے۔

تب ہٹلر کے الفاظ تھے، ''میں اپنے وطن کی جرمن رائش میں شمولیت کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘ نازی دور میں اس تقریر کے بعد کے برسوں میں وہاں ہر سال اس خطاب کی سالگرہ بھی منائی جاتی رہی تھی۔

نئے نازی پراپرٹی نہ خریدیں، پانچ مشرقی جرمن صوبے مل کر سرگرم

دوسری عالمی جنگ کے بعد بندش

ویانا میں یہ بالکونی دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کی شکست اور اتحادیوں کی فتح کے بعد مستقل طور پر بند کر دی گئی تھی۔

کیا فوکس ویگن نے نازی دور کی تاریخ سے سبق حاصل کر لیا؟

تب آسٹریا نے خود کو نا صرف ہٹلر کے جرائم کا 'پہلا متاثرہ ملک‘ بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا تھا بلکہ ساتھ ہی نازی دور کے جرائم سے متعلق خود پر عائد ہونے والی ذمے داری قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

مونیکا زومر یہ نہیں جانتیں کہ آیا ان کی طرف سے اس بالکونی کو کھلوانے کے لیے کی جانے والی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

جرمن نیو نازی روس میں تربیت کیوں حاصل کر رہے ہیں؟

یہ خدشہ بھی ہے کہ عوام کے لیے کھولے جانے کی صورت میں یہی بالکونی نئے نازیوں اور دائیں بازوں کے انتہا پسندوں کے لیے نظریاتی طور پر بہت پرکشش بھی بن سکتی ہے۔ مگر وہ کہتی ہیں، ''اگر سیاسی ارادہ ہو، تو اس کا بھی کوئی نا کوئی حل تو نکالا ہی جا سکتا ہے۔‘‘

کرسٹینا بوراک (م م / ع س)