’کیا دنیا کا کوئی دوسرا ملک بھارت کو جوہری آبدوز پٹے پر دے گا؟‘ | حالات حاضرہ | DW | 15.03.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’کیا دنیا کا کوئی دوسرا ملک بھارت کو جوہری آبدوز پٹے پر دے گا؟‘

بھارت گرچہ گزشتہ چند سالوں سے ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان کی خریداری کے لیے روس کے علاوہ چند دیگر اہم ممالک کی طرف بھی بڑھتا دکھائی دیا تاہم اب بھی اس کا زیادہ تر انحصار روسی ساختہ ہتھیاروں پر ہے۔

 

جنوبی ایشیا کی جوہری طاقت بھارت اب تک اپنی دفاعی خریداریوں کے لیے سب سے زیادہ انحصار روس پر کررہا تھا تاہم گزشتہ چند سالوں کے دوران بھارت نے روسی ہتھیاروں پر انحصار کم کرتے ہوئے دیگر ممالک سے ہتھیاروں کی خریداری شروع کردی۔

جنوبی ایشیا کی جوہری طاقت اور دنیا کی چند اُبھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک، بھارت تاریخی اعتبار سے نہ صرف روس کا دیرینہ اتحادی رہا ہے بلکہ ہتھیاروں، دفاعی سازو سامان، مشینری وغیرہ کو اپ گریڈ یا جدید اور بہتر بنانے کے لیے بھی روس پر بہت زیادہ انحصار کرتا آیا ہے۔ 90 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں بھارتی فوج کے ہتھیاروں کا قریب 70 فیصد، فضائی دفائی نظام کا 80 فیصد اور بحریہ پلیٹ فارم کا قریب 85 فیصد بنیادی طور پر سویت ساختہ تھا۔

جوہری ہتھیاروں کے خلاف دفاع کا یورپی نظام کیسے کام کرتا ہے؟

 

Raketentest Indien

بھارتی میزائل براھموس

بھارت کے دفاعی انحصار میں تبدیلی

بھارت 2016ء سے 2020ء تک مختلف ممالک سے اپنی دفاعی خریداریاں کرتا رہا ہے۔ اس اثناء میں نئی دہلی حکومت نے اسلحہ جات اور فوجی سازو سامان کی خریداری کے لیے امریکہ، اسرائیل، فرانس اور اٹلی کی طرف رُخ کیا۔ یہاں تک کہ 2020ء تک روس کا بھارت کے دفاعی شعبے کے لیے برآمدات کا  حصہ تقریباً 49 فیصد رہ گیا تھا جبکہ بھارتی دفاعی برآمدات میں یورپی ملک فرانس کا 18 فیصد اور اسرائیل کا 13 فیصد حصہ شامل تھا۔ یہ اعداد و شمار اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ 'سپری‘ نے جاری کیے ہیں۔

ایٹمی جنگ کا خطرہ: کونسے ممالک جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں؟

بھارتی دفاعی شعبہ اور روسی ہتھیار

اس کے باوجود بھارتی دفاعی شعبے میں غیر معمولی اہمیت کے حامل سازو سامان اور جنگی ہتھیار روسی ساختہ ہی ہیں۔ اس بارے میں بھارتی فوج کے ایک سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہودا کہتے ہیں، ''روس واحد ملک ہے جس نے بھارت کو ایٹمی آبدوز لیز پر دی۔ کیا دنیا کا کوئی دوسرا ملک بھارت کو ایٹمی سب میرین لیز پر دے گا؟ ‘‘

Russische Atom-U-Boote Akula

روس آبدوز اکولا

سینٹر فار پالیسی ریسرچ سے منسلک ایک سینیئر فیلو سوشانت سنگھ کے بقول، ''بھارتی بحریہ کے پاس ایک طیارہ بردار بحری جہاز ہے جو روسی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کے پاس جو لڑاکا طیارے ہیں اُس کا ایک بڑا حصہ روسی ہے جبکہ بھارتی فوج کے پاس تقریباً 90 فیصد جنگی ٹینک روسی ہی ہیں۔‘‘

1987ء میں بھارتی بحریہ نے سابق سویت یونین سے Chakra-1، چارلی کلاس جوہری کروز میزائل سب میرین تربیتی مقصد کے لیے سے لیز پر لی تھی۔ بعد ازاں بھارت نے ایک اور سویت سب میرین Chakra-2 بھی حاصل کی۔ 2019ء میں بھارت نے روس کے ساتھ تین بلین ڈالر کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس کے تحت بھارت نے روس سے جوہری طاقت سے چلنے والی حملہ آور آبدوز Akula-1 10 سال کے لیے لیز پر لی اور اس کی فراہمی 2025ء تک متوقع ہے۔

امریکا کا روس پر اینٹی سیٹلائٹ ہتھیاروں کے تجربہ کا الزام

Mehr als 20 Tote bei Havarie eines russischen Atom-U-Boots

روسی جوہری آبدوز

بھارتی فضائیہ اور بحریہ

بھارت نے اپنا واحد طیارہ بردار بحری جہاز INS وکرامادیتیا 2004ء میں روس سے خریدا تھا۔ یہ کیریئر سابق سویت یونین کے دور میں خدمات انجام دے چُکا ہے اور بعد میں روسی بحریہ میں شامل رہا ہے۔ بھارت کا پہلا مقامی ایئر کرافٹ برادار بحری جہاز آئندہ سال تک بھارتی فوج میں شامل ہو جائے گا۔ بھارت کے پاس چار جوہری طاقت والی بیلسٹک میزائل بردار آبدوزیں بھی جلد آنے والی ہیں۔ بھارت کی فضائیہ اس وقت 410 سے زیادہ سوویت اور روسی جنگی طیاروں سے لیس ہے۔

ک م/ ا ب ا) ایسوسی ایٹڈ پریس(