’کیا دلی کیا لاہور‘ | فن و ثقافت | DW | 21.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’کیا دلی کیا لاہور‘

شان پاکستان نامی ایک نجی ادارے نے ’کیا دلی کیا لاہور‘ کے نام سے ایک بڑے ثقافتی میلے کا اہتمام کیا ہے۔ شان پاکستان فیشن، موسیقی، فوڈ اور آرٹ کے شعبوں میں دونوں ممالک کے فنکاروں کو اپنے ٹیلنٹ کے اظہار کا موقع دیتا ہے۔

آج کل لاہور میں شان پاکستان کا دوسرا ایڈیشن جاری ہے، جسے "کیا دلی کیا لاہور" کا نام دیا گیا ہے۔ شان پاکستان کی بانی منتظم ہما نصر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ اس نام کو رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ خواہ دلی چلے جائیں یا پھر لاہور آ جائیں، آپ کو اندازہ ہو گا کہ پاکستان اور بھارت میں بہت سی چیزیں مشترک بھی ہیں۔‘‘ ان کے بقول ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس ایونٹ کے اخراجات نجی شعبے سے حاصل ہونے والی سپانسر شپس سے پورے کیےجا رہے ہیں۔

20 مارچ سے 22 مارچ تک جاری رہنے والے اس تین روزہ ثقافتی شو کے دوران ہونے والے مختلف پروگراموں میں شرکت کے لیے بھارت سے پچاس کے قریب فنکار پاکستان پہنچے ہیں۔ اسی طرح اس ایونٹ میں شرکت کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد تو پچاس سے بھی زیادہ ہے۔

اس ثقافتی میلے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کا افتتاح کرنے کے لیے معروف بھارتی اداکارہ زینت امان بھی پاکستان آئی ہیں۔ زینت امان نے لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے فنکاروں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ ان کے بقول قابلیت اور صلاحیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے لوگوں میں ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے دعائیہ کلمات بھی ادا کیے۔

گزشتہ روز "ایک شام دوستی کے نام" سے ایک محفل موسیقی کا اہتمام کیا گیا، جس میں بھارتی اور پاکستانی فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان فنکاروں میں ریکھا بھردواج، شیف مجیب الرحمن، عاطف اسلم اور مائی دھائی کے علاوہ ساونڈز آف کلاچی کے نام شامل ہیں۔

اس ثقافتی میلے کے دوسرے دن سوموار کے روز ایک لائف سٹائل نمائش کا اہتمام کیا گیا۔ اس نمائش میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ بنگلہ دیش کے فنکاروں، کرافٹسمین اور ڈیزائنروں کی تیار کردہ مصنوعات رکھی گئی تھیں۔ کل یہاں ایک بڑا فیشن شو منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان اور بھارت کے نوجوان ڈزائینرزکے ملبوسات نمائش کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے شان پاکستان کے پراجیکٹ ڈائریکٹر فہد نصر نے بتایا کہ انہیں اس میلے کے حوالے سے عوام کی طرف سے بہت اچھا ریسپانس مل رہا ہے۔ ان کے بقول انہیں اس میلے کے انعقاد کے حوالے سے کوئی مشکلات کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا ہے البتہ بعض اوقات ویزوں کے حصول اورسیکورٹی کے انتظامات کے حوالے سے مشکلات درپیش ہو جاتی ہیں۔

شان پاکستان کا پہلا ایڈیشن پچھلے سال ستمبر میں نئی دہلی میں ہوا تھا۔ اس میلے کے منتظمین نے پاک بھارت فنکاروں کے ٹیلنٹ کے مشترکہ اظہار کے لیے سال میں دو مرتبہ اس طرح کے پاک بھارت ثقافتی میلے دنیا کے مختلف ملکوں میں منعقد کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور بھارت کے عوام میں رابطے بڑھانے کے لیے ایسے پروگراموں کا انعقاد تواتر سے دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پاکستان میں عام طور پر پاک بھارت امن کوششوں کو عوامی حمایت حاصل رہی ہے لیکن عوام میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ایسے اقدامات کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ لاہور کے ایک مقامی شہری حاجی محمد عنایت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے کلچر کو جان بوجھ کر ایک جیسا دکھایا جا رہا ہے تاکہ نظریہ پاکستان کے منافی اقدار کو فروغ دے کر کسی خاص ایجنڈے پر عمل درآمد کروایا جا سکے۔

اشتہار