کیا داعش کا رہنما بغدادی عراقی حملے میں مارا گیا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 11.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا داعش کا رہنما بغدادی عراقی حملے میں مارا گیا ہے؟

عراقی فضائیہ کے مطابق اس نے آج اتوار کے روز شدت پسند اسلامی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کہلائے جانے والے گروہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے ایک قافلے پر حملہ کیا ہے۔ مگر کیا بغدادی اس قافلے میں موجود تھا؟

عراقی ایئر فورس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بغدادی کے قافلے پر اس وقت حملہ کیا جب داعش کا یہ رہنما عراق کے مغربی صوبے انبار میں ایک میٹنگ میں شریک ہونے کے لیے جا رہا تھا۔ بیان کے مطابق عراقی فورسز نے میٹنگ کی جگہ پر بھی بم باری کی۔

داعش کے خلاف عراق اور شام میں کارروائی کرنے والے امریکی دفاعی اتحاد نے اس حملے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ عراق کی وزارت دفاع کے مطابق اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا بغدادی اس قافلے میں موجود تھا۔ تاہم داعش کے کئی کمانڈروں کی ہلاکت کی تصدیق عینی شاہدین نے کی ہے۔

عراقی فضائیہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایئر فورس نے ایک بہادرانہ کارروائی کرتے ہوئے ’’دہشت گرد اور مجرم ابوبکر البغدادی‘‘ کو نشانہ بنایا۔ ’’بغدادی کی حالت کے بابت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اسے حملے کے بعد اسے ایک گاڑی پر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔‘‘

عراقی سکیورٹی فورسز اس سے قبل بھی بغدادی کو ہلاک کرنے کے دعوے کر چکی ہیں۔

داعش عراق کے علاوہ شام میں بھی وسیع علاقوں پر قابض ہو چکی ہے۔ مغربی ممالک، بشمول امریکا، اور اس کے علاوہ روس بھی اس انتہا پسند تنظیم کے خاتمے کے لیے فضائی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

امریکا کی جانب سے ابوبکر البغدادی کے سر کی قیمت دس ملین ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

عراقی انٹیلیجنس کی رپورٹوں کے مطابق پراسرار شخصیت کا حامل بغدادی اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتا ہے۔ اس کی پیدائش انیس سو اکہتر میں سمارہ کے علاقے میں ہوئی۔ وہ تکریت یونی ورسٹی میں پروفیسر بھی رہ چکا ہے۔ بغدادی نے شدت پسندی کا راستہ سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کے بعد اختیار کیا۔ گزشتہ کئی برسوں سے داعش ایک خطرناک ترین عسکری تنظیم بن کر ابھری ہے۔ اس گروہ نے متعدد غیر ملکی امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو اغوا اور قتل بھی کیا ہے۔ جن جن علاقوں پر اس تنظیم نے قبضہ کیا وہاں اس نے وسیع پیمانے پر اقلیتوں کو قتل کیا اور اپنی طرز کا شدت پسند شرعی نظام نافذ کیا گیا۔

اتوار کو کیے گئے حملے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ٹویئٹر پر داعش کے حامیوں نے بغدادی کی حمایت میں بیانات رقم کیے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ بغدادی اگر ہلاک کر بھی دیا گیا ہے تب بھی اس سے داعش کی طاقت کم نہیں ہو سکتی۔