کیا جرمنی بحران زدہ علاقوں کو ہتھیار فراہم کرتا ہے؟ حقیقت کیا | حالات حاضرہ | DW | 09.02.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کیا جرمنی بحران زدہ علاقوں کو ہتھیار فراہم کرتا ہے؟ حقیقت کیا

جرمن حکومت نے یوکرائن کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی اصولی طور پر بحران زدہ علاقوں کو جنگی ہتھیار فراہم نہیں کرتا۔

مغربی خفیہ سروسز کے مطابق روس نے یوکرائن کے ساتھ اپنی سرحد پر قریب ایک لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔ یوکرائن اور مغرب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ روس کی طرف سے فوجی خطرے کی ٹھوس نشاندہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک یوکرائن کی ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان کے ساتھ مدد و حمایت کر رہے ہیں۔ جرمنی اب تک اپنے پانچ ہزار فوجی یوکرائن بھیج چُکا ہے۔ اُدھر کییف حکومت کے لیے حفاظتی تدابیر کے طور پر فوجیوں کی یہ کھیپ کافی نہیں ہے۔ گزشتہ جمعے کو یوکرائن نے سرکاری طور پر برلن حکومت سے دفاعی ہتھیار اور گولہ بارود بھیجنے کو کہا تھا تاہم برلن نے اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ چانسلر اولاف شولس اور وزیر خارجہ انالینا بیئربوک دونوں نے جرمن حکومت کے سیاسی اصول و ضوابط کا حوالہ دیا ہے کہ بحران زدہ علاقوں کو ہتھیار برآمد نہیں کیے جائیں گے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی، ماحول پسندون کی گرین پارٹی اور فری ڈیموکریٹک پارٹی ایف ڈی پی پر مشتمل مخلوط حکومت کے معاہدے میں لکھا گیا ہے، ''اسلحے کی فراہمی میں استثنائی فیصلے صرف جائز انفرادی معاملات میں ممکن ہو سکتے ہیں اور انہیں دستاویزات کی شکل میں نہایت شفاف  طریقے سے منظر عام پر لایا جانا چاہیے۔‘‘

کیا یہ سچ ہے؟

دعویٰ: جرمن حکومت کافی عرصے سے اس بارے میں ایک واضح موقف اختیار کیے ہوئے ہے، جرمنی بحران زدہ علاقوں میں کوئی ہتھیار نہیں بھیجے گا اور نہ ہی مہلک ہتھیار یوکرائن کو فراہم کرے گا۔‘‘

جرمنی: اسلحہ برآمد کرنے کے متنازعہ معاہدوں کو نئی حکومت ختم کرسکے گی؟

ڈی ڈبلیو فیکٹ چیک

 

جرمن کونسل آن فارن ریلیشنز  (DGAP) سے منسلک جرمنی کے دفاعی اور سکیورٹی امور کے ماہر کرسٹیان میؤلنگ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ''اس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی ہر کیس کی انفرادی سطح پر الگ الگ جانچ پڑتال کرتا ہے۔‘‘ فیصلہ ہمیشہ صورتحال کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔

Prozess um Heikendorfer Wehrmachtspanzer

2010 ء سے جرمن ہتھیاروں کے کاروبار میں غیر معمولی اضافہ ہوا

اسٹاک ہوم انسٹیٹیوٹ فار پیس ریسرچ (SIPRI) نے بھی ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ حال ہی میں جرمنی نے بحران زدہ علاقوں میں ہتھیار بھیجے ہیں۔ اس انسٹیٹوٹ کے ماہر پیٹر ویزیمن کے بقول، ''یہ ہر گز درست نہیں کہ جرمنی نے مختلف بحرانوں میں گھرے ممالک اور عناصر کو ہتھیار فراہم نہیں کیے۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جہاں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جرمن ہتھیار خاص طور سے برآمد کیے گئے ہیں۔ یقیناً ایسا برلن حکومت کے ایک معاہدے  کے تحت یا مخصوص حمایت کے ساتھ یا خود جرمن حکومت کی طرف سے کیا گیا۔‘‘

2017ء سے جرمن ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریدار ہنگری اور امریکا

جرمن ہتھیار یمن کی جنگ میں

SIPRI کے ٹرینڈ انڈیکیٹر کے ہتھیاروں کی برآمدات  کے اندازوں کے مطابق 2010 ء سے مصر جرمن ہتھیاروں کا پانچواں سب سے بڑا وصول کنندہ ملک رہا ہے۔ جرمن وزارت برائے اقتصادی امور اور کلائمیٹ ایکشن کے ڈیٹا کے مطابق یکم جنوری 2021 ء تا 14 دسمبر 2021 ء محض مصر کے لیے 4.34 بلین یورو کی برآمدات کی منظوری دی گئی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر منظوریاں سابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے دور کے آخری دنوں میں دی گئی تھیں۔ ایسا اس حقیقت کے باوجود ہوا کہ مصر انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ بھی کہ مصری فوج یمن اور لیبیا کے تنازعات میں ملوث ہے۔ 

پیٹر ویزیمن  کا کہنا ہے کہ مصر غالباً یمن اور لیبیا میں جرمن ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی کی طرف سے مصر کو جو جنگی اشیاء فراہم کی جاتی ہیں، انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک فضائی دفاعی نظام ہے جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس کا تعلق یمن کی جنگ سے بمشکل ہی ہے تاہم دوسری قسم کا تعلق جنگی جہازوں سے ہے۔ ویزیمن کے بقول، ''فریگیٹس یقیناً بذات خود یمن کی جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جو ہم پہلے بھی یمن کی جنگ میں دیکھ چکےہیں اور اس کا ایک اہم تعلق بحری ناکہ بندی سے ہے۔‘‘

جرمنی نے مشرق وسطیٰ کو ایک بلین سے زائد کے ہتھیار فروخت کیے

ویزیمن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بڑے پیمانے پر اسلحے کی ترسیل مصر میں فوجی حکومت کو قانونی حیثیت دینے اور اس کے ہاتھ مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

Kampfpanzer vom Typ Leopard 2A7

"Leopard 2A7 طرز کا جرمن ٹینک

ترکی کے ساتھ دشوار شراکت داری

مغربی دفاغی اتحاد نیٹو کا رکن ملک ترکی بھی جرمن ہتھیاروں کا ایک بہت متنازعہ خریدار ہے۔

جرمن کونسل آن فارن ریلیشنز  (DGAP)  کے ماہر کرسٹیان میؤلنگ کہتے ہیں کہ حالیہ دہائیوں میں یہ ملک کافی حد تک تبدیل ہوا ہے۔ ماضی میں دیکھا جائے تو جرمنی کے لیے اس ملک کو اسلحہ فراہم کرنا غلط تھا۔ میؤلنگ کا تاہم استدلال ہے، ''یہ حکومت کا حق ہوتا ہے کہ وہ معاملات کے اندازے لگائے، لیکن یہ اندازے غلط بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘

جرمنی کئی سالوں سے ترکی کو اسلحہ فراہم کرتا رہا ہے اور اس کی یورو میں مالیت کروڑوں میں رہی ہے، اس امر کے باوجود کہ ترکی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور اقوام متحدہ اسے ان ممالک میں شامل کرتا ہے جو ہتھیار فراہم کر کے جنگوں میں مداخلت کرتے ہیں، مثال کے طور پر لیبیا میں۔ کئی دہائیوں سے انقرہ حکومت کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف خود ترکی کے اندر اور دیگر ممالک میں سخت فوجی کارروائیاں کرتی آئی ہے۔

جرمن فوج کے لیے ڈرون ضرور لیکن ہتھیاروں کے بغیر

نتیجہ:

جرمنی نے بحران زدہ علاقوں کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کے لیے اپنے اصول تو بنائے مگر ان پر مستقل مزاجی سے عمل نہیں کیا۔ متعدد مواقع پر برلن حکومت نے ان ممالک کو ہتھیاروں کی فراہمی کی اجازت دی جو یا تو خود کسی تنازعے کے فریق ہیں یا جنہیں بحرانی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

 

ٹیٹیانا کلوگ (ک م / م م)