کیا بھارت کی ویکسین سفارت کاری خود اس کے گلے پڑگئی ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 08.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کیا بھارت کی ویکسین سفارت کاری خود اس کے گلے پڑگئی ہے؟

بھارت میں کم از کم چھ ریاستوں نے کووڈ ویکسین کی قلّت کی شکایت کی ہے اور کئی صوبوں میں مختلف مراکز پر ویکسینیشن مہم روک دی گئی ہے۔ اس صورتحال میں وزیراعظم نریندر مودی کی ویکسین ڈپلومیسی پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔

بھارت میں ایک دن میں تقریباً ایک لاکھ ستائیس ہزار نئے کورونا کیسز نے آج تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری لہر انتہائی مہلک ثابت ہو رہی ہے اور ہر گزرتا دن نئے کیسز کا سابقہ ریکارڈ توڑ رہا ہے، اس کے باوجود دوسرے ملکوں کو ویکسین  کی سپلائی کا سلسلہ جاری ہے۔ مودی حکومت کی اس ویکسین ڈپلومیسی پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔

بھارت کی کم از کم چھ ریاستوں آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، ہریانہ، مہاراشٹر، اوڈیشہ اور تلنگانہ نے ویکسین کم پڑجانے کی شکایت کی ہے۔ سب سے زیادہ شکایتیں غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں کی جانب سے مل رہی ہیں۔

سینکڑوں ویکسینیشن سینٹر بند

اوڈیشہ میں ریاستی حکومت نے کووڈ انیس ویکسین کی قلّت کی وجہ سے سات سو مراکز پر ویکسینیشن مہم روک دی۔ اسی طرح مہاراشٹر کے صرف پونے ضلع میں ہی 109مراکز پر ٹیکے لگانے بند کردیے گئے ہیں۔ آندھرا پردیش نے کہا ہے کہ ویکسین کا اسٹاک آج جمعرات کو ختم ہو جائے گا۔ منگل کے روز آندھرا پردیش کا نیلور ملک کا ایسا پہلا ضلع بن گیا، جہاں کووڈ ویکسین ختم ہوگئی تھی۔

مہاراشٹر سے اپوزیشن نیشلسٹ کانگریس پارٹی کی رکن پارلیمان سپریا سولے نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ ویکسین کا اسٹاک ختم ہو جانے کی وجہ سے ہزاروں افراد ویکسینیشن کے بغیر ہی مراکز سے واپس لوٹ گئے۔ انہوں نے مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن سے ویکسین کا اسٹاک بڑھانے کی اپیل کی کیونکہ کورونا کے نئے کیسز سب سے زیادہ مہاراشٹر میں سامنے آرہے ہیں۔

سپریا سولے سے قبل مہاراشٹر کے وزیر صحت راجیش ٹوپے نے بھی بدھ کے روز مرکزی وزیر صحت کو ایک خط لکھ کر کہا تھا کہ ریاست میں ویکسین کی صرف چودہ لاکھ خوراکیں باقی رہ گئی ہیں، جو تین دنوں میں ختم ہوجائیں گی۔ ان کا کہنا تھا، ”ہمیں ہر ہفتے چالیس لاکھ خوراکوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم روزانہ چھ لاکھ لوگوں کو ویکسین لگا سکیں۔"

Indien Corona l Reise des Covid-Impstoffs

بھارت کی کم از کم چھ ریاستوں نے ویکسین کم پڑجانے کی شکایت کی ہے۔ سب سے زیادہ شکایتیں غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں کی جانب سے مل رہی ہیں۔

اوڈیشہ کے وزیر صحت این کے داس نے بھی ڈاکٹر وردھن کو خط لکھ کر ویکسین کی قلّت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ”ہمیں سات سو ویکسینیشن سینٹروں کو بند کرنا پڑ رہا ہے۔ کووی شیلڈ ویکسین کے صرف ساڑھے پانچ لاکھ خوراکیں بچ گئی ہیں جو دو دن ختم ہو جائیں گے۔"

سیاست شروع

ویکسین کی قلّت کے معاملے پر سیاست بھی شروع ہوگئی ہے۔ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے تاہم ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ”بے بنیاد الزامات" قرار دیا۔ مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر وردھن نے کہا کہ ریاستیں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور لوگوں میں گھبراہٹ پیدا کرنے کے لیے ایسے بیانات دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر ہرش وردھن کا کہنا تھا، ”مہاراشٹر حکومت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اس کی وجہ ہے۔ وہ لوگوں میں خوف پھیلا کر صورت حال کو مزید پیچیدہ کر رہی ہے۔ ویکسین کی سپلائی پر مسلسل نگاہ رکھی جارہی ہے اور ریاستی حکومتوں کو اس کے بارے میں مستقل آگاہ کیا جا رہا ہے۔"

Afghanistan Beginn der Impfung gegen Covid-19

بھارت اب تک 80 سے زائد ملکوں کو کووڈ ویکسین کی کروڑوں خوراکیں سپلائی کر چکا ہے

ویکسین ڈپلومیسی سوالات کی زد میں

بھارت متعدد ملکوں کو کووڈ ویکسین سپلائی کررہا ہے۔ 'میتری‘ (دوستی) کے نام سے اس مہم کو ویکسین ڈپلومیسی بھی قرار دیا گیا۔ بھارت اب تک 80 سے زائد ملکوں کو کووڈ ویکسین کی کروڑوں خوراکیں سپلائی کر چکا ہے جس کے لیے اس کی تعریف بھی کی گئی ہے۔ لیکن بھارت میں ویکسین کی قلت کی وجہ سے اپوزیشن جماعتیں حکومت کے اس اقدام پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔

بھارتی پارلیمان میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا اور اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ جب تک پوری آبادی کو ٹیکے نہیں لگ جاتے ویکسین کی برآمدات روک دینی چاہیے۔ بھارتی وزیر صحت ڈاکٹر وردھن نے تاہم اس کے جواب میں کہا،”بھارتی شہریوں کی قیمت پر ویکسین ایکسپورٹ نہیں کی جارہی۔"  اب تک آٹھ کروڑ 83 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باگچی نے گزشتہ ہفتے پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا تھا، ”ہم اب تک 80 سے زائد ملکوں کو ویکسین سپلائی کر چکے ہیں۔ ہم یہ بات پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم اپنی گھریلو ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی بیرونی ملکوں کو ویکسین سپلائی کریں گے۔"

Bangladesch Dhaka | Ankunft von Oxford-Astrazeneca COVID-19 Impfstoff als Geschenk von Indien

عالمی غیر سرکاری تنظیم گاوی الائنز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت سے ویکسین کی سپلائی رک سکتی ہے

کیا بھارت ویکسین سپلائی روک دے گا؟

بھارت میں کوورنا وائرس کی وبا میں تیزی اور مختلف ریاستوں کی جانب سے کووڈ ویکسین کی قلّت کی شکایتوں کے درمیان یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا بھارت بیرونی ملکوں کو کووڈ ویکسین کی سپلائی روک دے گا؟

وزارت خارجہ کے ترجمان باگچی نے بتایا کہ دو اپریل تک میتری پہل کے تحت عالمی برادری کو کووڈ ویکسین کی644 لاکھ خوراکیں سپلائی کی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک ہماری ویکسین مانگ رہے ہیں اور ہم نے کووڈ انیس ویکسین کے ایکسپورٹ پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔

ترقی پذیر اورغریب ملکوں کو ویکسین فراہم کرنے والی عالمی غیر سرکاری تنظیم گاوی الائنز نے تاہم خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت سے ویکسین کی سپلائی رک سکتی ہے یا اس کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔

گاوی کے سی ای او سیٹھ برکلے کا کہنا تھا، ”بھارت ترقی پذیر ملکوں کے لیے سب سے زیادہ ویکسین سپلائی کر رہا ہے لیکن چونکہ اب بھارت میں کوورنا کی نئی لہر آ گئی ہے اس لیے حکومت اپنا ویکسینیشن پروگرام تیز کر سکتی ہے اوراس کا مطلب یہ ہو گا کہ دنیا کے دیگر ملکوں کو ویکسین کی سپلائی کم ہو جائے گی۔" ان کا مزید کہنا تھا، ”ہمیں توقع تھی کہ مارچ اور اپریل میں تقریباً نو کروڑ خوراکیں موصول ہوں گی لیکن اب خدشہ ہے کہ ہمیں شاید اس سے بہت کم مل پائے گا اور یہ ایک مسئلہ ہے۔"

دریں اثنا بھارت میں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بدھ کے روزایک لاکھ 26 ہزار260 نئے کیسز درج کیے گئے، جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔

DW.COM