کیا انسان کسی معاملے پر مکمل متفق بھی  ہوسکتے ہیں؟ | دستک | DW | 31.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

کیا انسان کسی معاملے پر مکمل متفق بھی  ہوسکتے ہیں؟

مذہب کوئی بھی ہو، نظریہ جو چاہے ہو یا فلسفہ حیات تال میل نہ کھاتا ہوتا لیکن تحفظ ماحولیاتی ایک ایسا معاملہ ہے کہ جہاں تمام مکاتیب فکر کے لوگ یکجا نظر آتے ہیں۔

 انسانی گروہوں میں ناگزیر اختلافات کے باوجود اگر اس زمین کے بچانے کی بات ہوتی ہے تو سبھی انسانوں میں مکمل اتفاق ہو جاتا ہے۔ یہ ہے وہ دلچسپ بات، جس سے آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اگر اب نہیں تو پھر کبھی نہیں۔ جی اس زمین جیسے لوگ ’ماں دھرتی‘ بھی کہتے کو بچانے کی خاطر ہم سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ دیگر اختلافات کو بھول کر اور ساتھ مل کر۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کا بدترین شکار جو خطہ ہو رہا ہے، وہاں مسلم اکثریتی ممالک واقع ہیں۔ مثال کے دور پر پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے بدترین انداز سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ بنگلہ دیش، افغانستان، انڈونیشیا اور کئی دیگر مسلم اکثریتی ممالک اس وقت بھی ان مسلسل وقوع پذیر تبدیلیوں کی وجہ سے ایک تباہی دیکھ رہے ہیں۔ بلکہ یہ وہ خطرہ ہے جس نے انسان بلکہ دیگر حیات کی بقا کو خطرات کا شکار کر دیا ہے۔ اور اگر عالمی برادری اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیتی اور مشترکہ اور ٹھوس اقدامات نہیں کرتی تو پھر شاید سیارہ زمین زندگی کا دوام ہی کھو دے۔

ایک لمحے کو سوچیے کہ ایسا ہوا تو کیا ہو گا؟ اور مسئلہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں کوئی پلان بی نہیں ہے کیوں کہ ہمارے پاس سیارہ زمین جیسا کوئی پلینیٹ بی نہیں ہے۔

ڈی ڈبلیو کے خصوصی پروجیکٹ مکالمہ کے ساتھ پچھلے چھ ماہ کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ پروجیکٹ مکالمت، برداشت، گفت گو اور شعور و آگہی کی ترویج کا کام کرتا ہے، مگر جب ہم ان تمام موضوعات پر مختلف زبانوں اور خطوں کے لیے لکھ رہے تھے، تو ایک بات نہایت واضح تھی کہ ماحولیات کا معاملہ دنیا بھر کے انسانوں کے درمیان ایک جوڑ کا باعث بھی ہے کیوں کہ اس معاملے سے تمام انسان جڑے ہیں، چاہے ان کا مذہب، مسلک، رنگ، ذات یا خطہ کوئی بھی ہو۔

اسی لیے مکالمہ کے تحت مسلم اکثریتی ممالک میں کانفرنسیں ہو رہی ہیں جہاں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اسکالر، ماحولیاتی کارکنان اور نوجوان شریک ہوتے ہیں، اور یہی پروجیکٹ مجھے جکارتہ لے آیا۔

جکارتہ کی کئی سڑکوں پر چلتے ہوئے مجھے احساس ہو رہا تھا، جسے میں کراچی یا لاہور میں ہوں۔ آپ سڑکوں پر جائیں تو آپ فضائی آلودگی کو محسوس کر سکتے ہیں، سڑکوں پر گاڑیوں کا اژدھام بھی بالکل ویسا ہی ہے اور آپ یہاں کسی بھی عام شخص سے پوچھیے کہ کیا ماحولیاتی تبدیلیوں محسوس کی جا سکتی ہیں؟ اور جواب بالکل ویسے ہی ہاں میں ہو گا، جیسے کراچی یا لاہور میں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے واضح اثرات سے متعلق اس سوال کا ہاں میں جواب آپ کو اب دنیا کے ہر خطے میں ملے گا۔ نوجوان اس معاملے پر واضح انداز سے پریشان ہیں، کیوں کہ انہیں ان کے اثرات اپنے مستقبل پر دکھائی دے رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ اس بار کلائنٹ اسٹرائیک کے موقع پر کراچی، لاہور، پشاور اور کئی دیگر علاقوں میں نوجوانوں نے مظاہرے کیے اور بہتر ماحول کے اپنے بنیادی حق کا مطالبہ کیا۔

ڈی ڈبلیو کا یہ اقدام یقیناً اس سلسلے میں ایک چھوٹی سی کاوش ہے، مگر ایسی ہی چھوٹی کاوشیں اگر زندگی کے ہر ہر شعبے سے سامنے آنے لگیں تو یہ پورا کھیل بدل دینے کی علامت ہوں گی۔

اس وقت میں جکارتہ میں اپنے ہوٹل کی گیارہویں منزل کی ایک کھڑکی سے جکارتہ شہر کو دیکھ رہا ہوں۔ یہاں بلند و بالا عمارتیں ہیں، ٹریفک سے بھری سڑکیں ہیں، دھند ہے اور ان سب کے بیچ ایک کانفرنس ہو رہی ہے، جہاں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مذہبی اسکالرز، ماحولیاتی کارکنان اور نوجوان بیٹھے ہیں اور اس اہم معاملے پر ٹھوس اقدامات کے لیے مختلف اقدامات پر اتفاق کیا جا رہا ہے۔

یہاں وہ عام استعمال کی چیزیں بھی موجود ہیں، جو ماحول دوستی کی علامت ہیں اور ایکو فرینڈلی فیشن مصنوعات بھی۔ یعنی روزمرہ کو اس طرح ڈھال لینا کہ وہ ماحول کو نقصان نہ پہنچائے۔ یہی تو ماحول اور فطرت سے متعلق اسلام کا پیغام بھی تھا، یہی تو ہم تمام عمر سیکھتے آئے ہیں، مگر اس پر کبھی عملی طور پر آگے نہیں بڑھے اور یہی تو دنیا کے تمام مذاہب اپنے پیروکاروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ سیارہ زمین کو ماں سمجھیں اور اس کے تحفظ کے لیے کوشش کریں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات