کیا افریقہ میں کورونا وبا کنٹرول میں ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 22.11.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کیا افریقہ میں کورونا وبا کنٹرول میں ہے؟

افریقہ میں کورونا وبا کی انفیکشنز یورپ کے مقابلے میں کم ہے۔ اگر ویکسینیشن کی رفتار مناسب نہیں رکھی گئی تو صورت حال یورپ سے بھی بدتر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق امیر ملکوں کو ویکسین کا ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

افریقہ میں مقامی سطح پر ویکسین بنانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن پھر بھی زیادہ تر افریقی ملکوں کا ویکسین کے حصول کا انحصار بیرونی ممالک پر ہے۔ جس رفتار سے یورپ میں کووڈ انیس کی نئی انفیکشنز بڑھ رہی ہیں، اسی رفتار سے افریقی ملکوں کو ویکسین کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

کورونا وبا کا خاتمہ صرف ویکسین سے ممکن نہیں، ڈبلیو ایچ او

جرمن حکومت نے ملک میں وبا کی شدت میں اضافے کے تناظر میں فیصلہ کیا ہے کہ وہ ویکسین بھی روک لی جائے گی جو غریب ملکوں کو فراہم کرنے کے لیے وقف کی گئی ہے۔ جرمنی کے انٹرنیشنل دوا ساز ادارے بائیو این ٹیک کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین کی غریب ملکوں کو فراہمی کے بین الاقوامی پروگرام کو ویکسین کے لیے ویکسین کی سپلائی روک دی گئی ہے۔ جرمن وزیر صحت ژینس اشپاہن کے مطابق یہ سپلائی دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینوں میں فراہم کی جانا تھی۔

Südafrika | Muslimische Bestattungen während Corona-Krise

جنوبی افریقہ میں کورونا وبا سے اموات اندازوں سے تین گنا زیادہ ہوئی ہیں

جرمنی پر تنقید

ایک غیر منافع بخش مہم  وَن نے برلن حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے کو تبدیل کرے اور کوویکس پروگرام میں اپنے حصے کی کورونا ویکسین فراہم کرنے کا سلسلہ بحال رکھے۔

اس ادارے کا مزید کہنا ہے کہ اگر ویکسین کی فراہمی معطل کی جاتی ہے اور مناسب سپلائی دنیا کو نہیں دی جاتی تو یہ عمل وبا کو مزید طویل دے گا۔

وَن مہم کے جرمن دفتر کے سربراہ اشٹیفان ایکسو کرائشر کا کہنا ہے کہ ویکسین کی فراہمی کو معطل کرنے کا وزیر صحت اشپاہن کا فیصلہ ایک بہت بڑی غلطی ہے اور یہ تباہ کن پیغام ہے ان ممالک کے لیے جو ویکسین کے لیے جرمنی پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔ کرائشر کا مزید کہنا ہے کہ جرمنی کے پاس ضرورت سے زیادہ ویکسین کی خوراکیں پہلے سے موجود ہیں۔

تیسری خوراک کی جگہ غریب ممالک کو ویکسین فراہم کریں، ڈبلیو ایچ او

مہم وَن  کے اہلکار نے کہا ہے کہ امیر ملکوں میں کئی افراد کو بوسٹر فراہم کیا جا چکا ہے جب کہ غریب ملکوں میں بیشتر افراد کو محض ایک خوراک ہی دی گئی ہے۔ انہوں نے اس ساری صورت حال کو خراب سیاست کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

ویکسین کا ذخیرہ کرنے کا الزام

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اڈہنوم گھبرائسس پہلے ہی بعض ممالک پر ویکسین کا ذخیرہ کرنے کے تناظر میں تنقید کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر روز کئی ممالک میں ویکسین کی بنیادی خوراک کی فراہمی کے مقابلے میں پہلے سے ویکسین شدہ افراد کو چھ گنا زیادہ بوسٹر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ گھبرائسس نے اس عمل کو ایک اسکینڈل قرار دیا اور اس کو روکنا ازحد ضروری خیال کیا ہے۔

Beitbridge Grenzübergang zwischen Südafrika und Simbabwe

جنوبی افریقہ میں مختلف ممالک کے سیاحوں کے کورونا ٹیسٹ پہنچنے پر فوری طور پر کیے جاتے ہیں

یہ امر اہم ہے کہ براعظم افریقہ کی ایک بلین سے زائد آبادی میں سے صرف سات فیصد کو ویکسین لگائی گئی ہے اور وبا پھیلتی ہے تو پھر صورت حال شدید خراب ہونے کا امکان ہے۔

کوویکس کے لیے ایک سو ملین خوراکیں

ڈی ڈبلیو کے ایک انکوائری سوال کے جواب میں جرمن وزارتِ صحت نے واضح کیا کہ برلن اب تک کوویکس پروگرام میں مفت ایک سو خوراکیں فراہم کر چکا ہے اور ان کی تقسیم بھی کوویکس کے ذریعے کی جائے گی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اس مَد میں جرمن حکومت نے 2.2 بلین یورو کی سرمایہ کاری کی ہے تا کہ کورونا ویکسین کی مزید پروڈکشن اور کورونا ٹیسٹ کے سامان کی تقسیم کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ کوویکس میں بھی 1.6 بلین یورو دیے گئے ہیں۔

برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم کا پھیلاؤ

براعظم افریقہ میں وبا کا پھیلاؤ کم ہوتا ہوا

دوسری جانب براعظم افریقہ میں جہاں کورونا ویکسین لگانے کا عمل بہت ہی کم ہے وہاں اب اس وبا کی افزائش بھی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس براعظم میں متعدی امراض کے نگران ادارے کے مطابق اب تک پچاسی ملین افراد میں اس مرض کی نشاندہی ہوئی ہے اور ان میں سوا دو لاکھ کے قریب مریض شدید بیمار ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اس وقت افریقی براعظم میں پندرہ فیصد بیمار افراد میں کووڈ انیس کی تشخیص کی گئی ہے اور اگر وہاں اس وبا کے پھیلاؤ کی شرح کم ہے تو مطلوبہ مریضوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے پھر بھی سات گنا زیادہ ہے۔

Demokratische Republik Kongo Goma | Arzt Justin Hangi

براعظم افریقہ میں کورونا وبا کے حوالے سے تفصیلی ڈیٹا کی دستیابی کا مسئلہ بھی موجود ہے

غیر منافع بخش مہم  وَن کے سینیئر اہلکار اشٹیفان ایکسو گرائشر کا کہنا ہے کہ اس براعظم میں تفصیلی ڈیٹا کی دستیابی کا مسئلہ بھی موجود ہے، اس کی ایک مثال تنزانیہ ہے جہاں کورونا وبا کے مریضوں کا ریکارڈ جمع ہی نہیں کیا جاتا۔ ادھر جنوبی افریقہ میں کووڈ انیس کی وجہ سے ہلاکتیں اندازوں سے بھی تین گنا زیادہ ہوئی ہے۔

افریقہ میں کووڈ 19 سے ڈیڑھ لاکھ افراد کی موت کا خدشہ

جنوبی افریقہ کی سٹیلابوش یونیورسٹی کے ریسرچر وولفگانگ پرائزر کا کہنا ہے کہ بیماری کا ریکارڈ تبھی جمع کرنا ممکن ہے اگر اس کے ٹیسٹ کرنے کا سلسلہ بھی موجود ہو اور اس بیماری کا مجموعی ڈیٹا اموات سے ہی اس براعظم میں لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق فی الحال تو دوسری بیماریاں وبا کی وجہ سے نظرانداز ہو چکی ہیں، کورونا اموات کی اصل تعداد کا حتمی تعین بھی وبا کے خاتمے کے بعد ہی ہو سکے گا۔

جرمن زبان سے ترجمہ شدہ

مارٹینا شیوکووسکی (ع ح/ک م)