کِم جونگ اُن کا اقتدار مزید مستحکم | حالات حاضرہ | DW | 26.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کِم جونگ اُن کا اقتدار مزید مستحکم

کمیونسٹ ملک شمالی کوریا میں کِم جونگ اِل کے بیٹے کِم جونگ اُن کو ملک کی حکمران پارٹی کی فیصلہ کن اور پالیسی ساز ادارے کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ ان کو سرکاری میڈیا پر سپریم لیڈرکے طور پر پکارا جا رہا ہے۔

default

کِم جونگ اُن

شمالی کوریا پر حکومت سازی کا اختیار بظاہر ورکرز پارٹی کو حاصل ہے۔ اس پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کو پارٹی کے اندر پالیسی سازی اور اہم نوعیت کے فیصلے کرنے میں مکمکل کنٹرول حاصل ہے۔ شمالی کوریا کے آنجہانی لیڈر کِم جونگ اِل کی موت کے بعد ان کے بیٹے کِم جونگ اُن کو ملکی قیادت کا وارث قرار دے دیا گیا تھا۔ اب ان کو ورکر پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا سربراہ منتخب کرلیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے کم جونگ اُن کے اقتدار کو مزید استحکام حاصل ہوا ہے۔ ورکرز پارٹی کے تمام ممبران اور کارکنوں کو سینٹرل کمیٹی کے فیصلوں پر عمل کرنا لازم ہوتا ہے۔ ان فیصلوں کی روگردانی کا سخت نوٹس لیا جاتا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا پر کامریڈ کِم جونگ اُن کو مسلح افواج کا سپریم لیڈر بھی قرار دیا گیا ہے۔ کمیونسٹ ملک کی فوج کا حجم ایک اعشاریہ دو ملین ہے۔ اس فوج کے پاس جوہری ہتھیار بھی ہیں۔ فوج کے اعلیٰ ترین جرنیلوں نے نئے لیڈر کے ساتھ وفاداری کا عہد بھی کیا ہے۔ ابھی کم جونگ اُن کو وہ تمام عہدے حاصل نہیں ہوئے جو ان کے آنجہانی باپ کے پاس تھے۔ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہلاک ہونے والے کِم جونگ اِل شمالی کوریا کے قومی ڈیفنس کمیشن، کوریائی پیپلز آرمی اور ورکرز پارٹی کے سربراہ تھے۔ اس کے علاوہ سن 1994 سے وہ تاحیات اپنے ملک کے صدر بھی تھے۔

شمالی کوریا کے سرکاری اخبار Rodong Sinmun نے اپنی اتوار کی اشاعت میں لوگوں کو تلقین کی کہ وہ ورکرز پارٹی کے زریں اصولوں پر کاربند رہتے ہوئےابدی انقلابی کامریڈ بن کر اکیسویں صدی کے آفتاب کِم جونگ اُن کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ شمالی کوریا میں نئے لیڈر کِم جونگ اُن کو ملک کے لیے سورج اور ان کے یوم پیدائش کو یوم آفتاب سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

شمالی کوریا کے آنجہانی لیڈر کِم جونگ اِل کی آخری رسومات پرسوں بدھ کے روز ادا کی جائیں گی۔ اس دوران جنوبی کوریا سے بھی دو خواتین پر مشتمل ایک وفد پیونگ یانگ پہنچا ہے۔ اس میں ایک خاتون سابق جنوبی کوریائی صدر کی اہلیہ ہیں اور دوسری ایک کار ساز ادارے کی چئیرپرسن ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار