کيا شام ميں محفوظ زونز کا قيام مسئلے کا حل ہے؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 24.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کيا شام ميں محفوظ زونز کا قيام مسئلے کا حل ہے؟

جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے کہا ہے کہ شام ميں محفوظ زونز کی تلاش جاری ہے تاکہ شامی پناہ گزينوں کو وہاں پناہ دی جا سکے۔ ترکی بھی ايک عرصے سے يہی مطالبہ کرتا آيا ہے تاہم امدادی ادارے ايسے کسی ممکنہ اقدام کے خلاف ہيں۔

انگيلا ميرکل نے مطالبہ کيا ہے کہ خانہ جنگی کے شکار ملک شام ميں ايسے محفوظ زونز قائم کيے جائيں، جہاں فائر بندی پر حقيقی طور پر عملدرآمد ہو اور سکيورٹی کے ايک خاص معيار کی فراہمی کو ممکن بنايا جا سکے۔ انہوں نے يہ بات گزشتہ روز ترکی کے دورے پر غازی انتيپ ميں ايک پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

شامی مہاجرين کو شامی حدود ميں رکھنے سے برسلز اور انقرہ پر سے تارکين وطن کا بوجھ کم ہو سکے گا اور تارکين وطن کی يورپ کی جانب غير قانونی ہجرت روکنے ميں بھی مدد ملے گی۔ ترکی ميں اس وقت 2.7 ملين سے زائد شامی مہاجرين پناہ ليے ہوئے ہيں جب کہ ايک ملين سے زائد تارکين وطن نے پچھلے سال سياسی پناہ کے مقصد سے يورپ کی طرف ہجرت کی۔

حاليہ اقدامات کے نتيجے ميں ہزاروں شامی پناہ گزينوں کو ترکی ميں داخل ہونے کی اجازت نہيں اور انہيں عزاز کی سرحدی گزر گاہ پر رکھا جا رہا ہے۔ امدادی ادارے اسی مقام پر مہاجرين کی ديکھ بھال ميں مصروف ہيں۔ چند ايجنسيوں نے انقرہ حکومت پر الزام بھی عائد کيا ہے کہ عزاز پر خفيہ طور پر ايسا ايک محفوظ مقام قائم کر ديا گيا ہے۔ يہ امر اہم ہے کہ اقوام متحدہ نے شام ميں محفوظ زونز کے قيام کے منصوبوں کی سخت مخالفت کی ہے۔ ادارے کے مطابق خانہ جنگی کے شکار ملک شام ميں پناہ گزينوں کی حفاظت کی ضمانت ممکن نہيں۔ امدادی کارکنان بھی ايسے مقامات کے قيام کے خلاف ہيں۔

ترک وزير اعظم احمد داؤد اولو

ترک وزير اعظم احمد داؤد اولو

’ويزا ڈيل نہيں، تو مہاجرين کی ڈيل بھی نہيں‘

دريں اثناء ترک وزير اعظم احمد داؤد اولو نے متنبہ کيا ہے کہ اگر ترک شہريوں کے ليے يورپی يونين ميں بغير ويزے کے سفر سے متعلق ڈيل کو حتمی شکل نہيں دی جاتی، تو مہاجرين کی ڈيل کے تحت تارکين وطن کی واپس ترکی منتقلی کے عمل کو بھی روک ديا جائے گا۔ اس کے رد عمل ميں جرمن چانسلر انگيلا ميرکل کا کہنا تھا، ’’ہم يہ کہہ چکے ہيں کہ ترکی کو شرائط پوری کرنا ہوں گی، جن ميں بہتر تجاويز پر عمددرآمد ہے۔‘‘

غازی انتيپ ميں بات کرتے ہوئے يورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ يورپی يونين کے ساتھ طے شدہ ڈيل کے تحت انقرہ حکومت کے ليے تين بلين يورو کی امدادی رقوم کی فراہمی کے عمل کو تيزی سے آگے بڑھا يا جا رہا ہے۔ اپنے دورے کے موقع پر ٹسک نے مہاجرين کے بحران کے تناظر ميں ترکی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ يہ ملک پوری دنيا کے ليے اس حوالے سے مثال کی سی حيثيت رکھتا ہے کہ مہاجرين کے ساتھ کيسا برتاؤ کرنا چاہيے۔

دوسری جانب ايمنسٹی انٹرنيشنل نے انقرہ کر تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی ميں داخلے کی کوشش کرنے والے شام پناہ گزينوں پر فائرنگ بھی کی جا رہی ہے جب کہ کئی کو ان کی مرضی کے خلاف واپس شام بھيجا جا رہا ہے۔ ترک وزير اعظم ايسے الزامات کو مسترد کرتے آئے ہيں۔