1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کورونا ویکسین: دنیا کو ’تباہ کن اخلاقی ناکامی‘ کا سامنا

19 جنوری 2021

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ امیر اور غریب کے درمیان خلیج دنیا میں ویکسین کی دستیابی میں رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/3o6yE
Brasilien Corona-Pandemie | Impfstart | Sao Paulo
تصویر: Nelson Almeida/AFP

ایک بیان میں عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ امیر اور غریب ممالک کے درمیان وسیع خلیج کے باعث خدشہ ہے کہ دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی جسے ترجیحی بنیادوں پر ویکسن کی ضرورت ہے ان ٹیکوں سے محروم رہ جائے گی۔

ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا کہ ویکسین کی دستیابی میں عدم مساوات کے باعث اس وقت دنیا کوایک ''تباہ کن اخلاقی ناکامی‘‘ کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت حال یہ ہے کہ امیر ممالک میں نوجوان اور صحت مند لوگوں کو پہلے ویکسین لگائی جا رہی ہے جبکہ غریب ممالک میں کمزور افراد کو اس کی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

'پہلے میں‘ والی روش

دنیا میں اس وقت کچھ ممالک نے ویکسن تیار کرکے پہلے اپنے لوگوں کو لگانا شروع کر دی ہیں۔ ان میں امریکا، برطانیہ، جرمنی، چین، روس اور بھارت شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ  نے کہا کہ اب تک دنیا کے قدرے امیر اننچاس ممالک میں ویکسین کے کل ملا کر انتالیس ملین ٹیکے دیے جا چکے ہیں جبکہ ایک غریب ملک میں بہ مشکل پچیس ٹیکے مہیا کیے جا سکے۔

ماہرین کے مطابق خود غرضی پر مبنی موجودہ روش دنیا کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔ خدشہ ہے کہ اس سے کاروباری حلقوں میں ویکسن کی ذخیرہ اندوزی کا رجحان بڑھے گا، ویکسن مزید مہنگی ہوگی، اموات بڑھیں گی اور وبا پر قابو پانے میں مزید وقت لگے گا۔

WHO I Tedros Adhanom Ghebreyesus
تصویر: XinHua/dpa/picture alliance

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں دنیا میں کورونا سے ہفتہ وار اموات کی تعداد بہت جلد ایک لاکھ تک پہنچ جائی گی۔

عالمی ادارہ صحت پر تنقید

اسی دوران ایک تازہ عالمی رپورٹ میں خود ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن (ڈبلیو ایچ او) پر وبا کی شروعات میں عالمی ایمرجنسی کا اعلان نہ کرنے پر بھی تنقید کی گئی ہے۔

رپورٹ مرتب کرنے والے ماہرین کی ٹیم کی قیادت نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم ہیلن کلارک اور افریقی ملک لائبیریا کے سابق صدر ایلین جانسن سرلیف نے کی۔

غیر جانبدار ماہرین کی اس رپورٹ میں چین پر بھی نکتہ چینی کی گئی ہے کہ اگر وہاں پچھلے سال حکام وبا پر قابو کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرتے تو شاید عالمی سطح پر بحران اتنا تیزی سے نہ پھیلتا۔

رپورٹ کے مطابق، عالمی ادارہ صحت نے پچھلے سال چین کے بعد کئی ملکوں میں لوگوں میں وائرس پھیلنے کے شواہد کو نظرانداز کیا۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے اپنی ایمرجنسی کمیٹی کا اجلاس بلانے میں بھی تاخیر کی اور پھر تیس جنوری کو اپنے دوسرے اجلاس میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔

ش ج/ ص ز (روئٹرز، اے پی)

کورونا وائرس کی نئی قسم کے علاج کے لیے ویکسین

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں